افواج پاکستان پر الزام تراشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ظفر مقصود

افواج پاکستان پر الزام تراشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ظفر مقصود

  



لاہور(جنرل رپورٹر)یونٹی پیس فورم کے مرکزی صد ر ظفر مقصود نے سیاستدانوں کی جانب سے افواج پاکستان پر الزام تراشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج ہماری سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے، پاکستان کے ذرے ذرے میں افواج پاکستان کے شہداء کا خون شامل ہے، آج ملک کی سلامتی کے پیچھے وردی والے ہی ہیں یہ وہی وردی والے ہیں جو سر پر کفن باندھ کر دن رات ایک کر کے دشمن کو للکار رہی ہے، اس وردی پر الزام تراشی نہ کریں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اور بلوچستان سے آئے عہدیداران سے یونٹی پیس فورم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کے دورا ن کیا، ملاقات میں یونٹی اینڈ پیس فورم آف پاکستان بلوچستان کے آرگنائزر سردار داؤ خان کھرل ودیگر بھی شامل تھے۔

سندھ کے چیئر مین ملک محب اللہ، طاہر مینگل، محرم علی سومرو، آغا نصیر الدین اور میر زیب موجود تھے، ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیاستدان اداروں پر الزام تراشی سے گریز کریں،اس موقع پر مرکزی صدر ظفر مقصود کا کہنا تھا کہ اپنے گھر میں لڑائی، فساد اور افراتفری کا دشمنوں کو فائد ہوگا، جہاں تشدد اور نفرت پر مبنی بیانیہ ملوث ہو تو اس وقت قانون حرکت میں آنا چاہیے، قومی اداروں کا قانونا ایک احترام ہوتا ہے جو ہر ذمہ دار شہر ی کو کرنا چاہئے کیونکہ یہ ادارے ہی آپس میں مل کر ملک و قوم کو مضبوط کرتے ہیں، پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر امن و ا مان اور دہشت گردی سے نجات کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے اور ملک و قوم کے لیئے نہ جانے کتنے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ فیصلہ کن جنگ کے بغیر حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا لیکن اگر کشمیر کی آزادی کے لیئے جنگ لڑنی پڑتی تو پاکستان کا بچہ بچہ کشمیری بھائیوں کی آزادی کی جنگ میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان اداروں کے قومی تشخص کو بدنام نہ کریں اور ایسی باتیں نہ کریں جس سے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچے کیونکہ پاکستانی عوام اپنی فوج سے پیار کرتی ہے اور اپنی فوج کے خلاف ایک بھی لفظ نہیں سننا چاہتی کیونکہ قوم جانتی ہے وہ جو رات کوبے فکر ہوکر سکون کی نیند سو رہے ہوتے ہیں تو فوج ان کی حفاظت کے لیئے ساری رات سرحدوں پر جاگ رہی ہوتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4