نواز شریف کے پلیٹ لیٹس 30ہزار تک گر گئے، بیماری کی تشخیص کیلئے جینٹک ٹیسٹ تجویز

نواز شریف کے پلیٹ لیٹس 30ہزار تک گر گئے، بیماری کی تشخیص کیلئے جینٹک ٹیسٹ ...

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) سابق وزیر اعظم نواز شریف کو شریف میڈیکل سٹی منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل،پلیٹ لیٹس کی تعداد 30 ہزار تک گر گئی، محدود چہل قدمی اور ورزش کی اجازت مل گئی۔ادھر میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کیلئے جینٹک ٹیسٹ تجویز کر دیا، ٹیسٹ کیلئے خون کے نمونے جرمنی بجھوائے جائینگے۔لاہور چلڈرن ہسپتال کے ذریعے سرکاری طور پر سال میں دو دفعہ جنیٹک ٹیسٹ کروانے کے لیے نمونے جرمنی بجھوائے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پرائیویٹ طور پر ٹیسٹ کروایا جائے تو نمونے بجھوانے کے 7 دن میں ٹیسٹ رپورٹ موصول ہو جاتی ہے۔جنیٹک ٹیسٹ ہول جینوم سیکو ئینسنگ sequencing  genome  wholeٹیسٹ ہے جس کیلئے خون کے نمونے جرمنی بجھوائے جاتے ہیں، اس ٹیسٹ کے ذریعے انسانی ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیاں جو مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں جانا جاتا ہے۔نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ میاں نواز شریف کی نازک صحت بھر پور علاج کے انتظامات کی متقاضی ہے،نواز شریف کے پلیٹ لیٹس 30ہزار کی قابل قبول حد سے بھی نیچے گر گئے ہیں انہیں خون پتلا کرنے والی ادویات دینا محفوظ نہیں۔ اس سے دل کیلئے کسی خطرے اور اسٹروک کو کم کیا جاسکے۔ ڈاکٹر عدنان نے  کہا کہ نواز شریف کو اچانک بلیڈنگ کا خطرہ موجود ہے یہاں تک پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وجوہات اور تشخیص اب تک نہیں ہو سکی ہے۔میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا ہے کہ نوازشریف کابلڈپریشر کنٹرول جبکہ شوگر کنٹرول کررہے ہیں،نوازشریف کو محدود چہل قدمی اور ورزش کی اجازت دے دی ہے،تاہم پلیٹلیٹس میں بار بار کمی کے دیگر اسباب جاننے کے لیے جینٹیک ٹیسٹ ضروری ہے جو پاکستان میں ممکن نہیں۔نوازشریف کی خون کی بند شریانوں کے حوالے سے ٹیسٹ بھی تجویز کئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم جتنا علاج کر سکتے تھے اس کی ہر ممکن کوشش کی ہے، خواہش ہے کہ نواز شریف کو جامع نگہداشت مہیا کی جائے، جامع نگہداشت پاکستان میں ایک چھت تلے ممکن نہیں۔نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر،بھائی شہباز شریف سمیت دیگر اہل خانہ نے سروسزہسپتال میں ان کی عیادت کی۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ کی مشاورت سے نواز شریف کو شریف میڈیکل سٹی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لئے تمام انتظامات بھی مکمل کرلئے گئے تاہم اچانک اس فیصلے کوتبدیل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز کی روبکار جاری ہونے کے بعد نواز شریف کو شریف میڈیکل سٹی منتقل کرنے کے حوالے سے صورتحال واضح ہوسکے گی تاہم یہی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مریم نواز کی روبکار جاری ہونے کے بعد نواز شریف کو شریف میڈیکل سٹی منتقل کردیا جائے گا۔سابق وزیر اعظم کو منتقل کئے جانے کی صورت میں شریف میڈیکل سٹی کے ڈاکٹر علاج معالجہ کریں گے تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے بنایا گیا میڈیکل بورڈ اپنی معاونت فراہم کرے گا۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول