صوبائی حکومت صوبے کی حالت زار پر ٹس سے مس نہیں ہورہی، ایمل ولی

صوبائی حکومت صوبے کی حالت زار پر ٹس سے مس نہیں ہورہی، ایمل ولی

  



پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کی حالت زار پر ٹس سے مس نہیں ہورہی، ڈاکٹرز برادری کو مطالبات کی منظور کا لالی پاپ دیکر ایک بار پھر ڈاکٹرز سڑکوں پر آگئے ہیں،اسی طرح نئے ضم شدہ اضلاع کے انضمام کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود بھی صوبائی حکومت تاحال ناکام رہی ہے کہ وہاں پر سرکاری دفاتر کو ہی رسائی دے دیں،ایسا لگ رہا ہے کہ صوبائی حکومت خود انضمام کے فوائد قبائلی عوام تک پہنچانا نہیں چاہتی۔چارسدہ میں مختلف مقامات پر پارٹی ورکرز کی بیمارپرسی کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کو صوبے کی حالت زار کا ادراک ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرز کو آزادی مارچ میں شرکت سے روکنے کیلئے اُن کو مذاکرات کا لالی پاپ دیا گیا،اب ایک بار پھر ڈاکٹرز کو بتایا جارہا ہے کہ حکومت نے اُن کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے،جس کے ردعمل میں ڈاکٹرز برادری ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے ہیں جس سے غریب اور لاچار طبقہ متاثر ہورہا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر ڈاکٹرز کے مطالبات حل کریں،اس سارے احتجاج میں نقصان غریب عوام کا ہورہا ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ حکومت اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کرکے غریب عوام کو ٹارگٹ کررہی ہے،حکومت کے پاس نہ پلاننگ ہے اور نہ ہی اُن کے پاس عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کسی قسم کا جذبہ ہے،جن قوتوں نے پی ٹی آئی کو اقتدار حوالہ کیا ہے اُن کی خوشنودی کیلئے صرف کام ہورہا ہے۔ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی صوبائی حکومت نئے ضم شدہ اضلاع میں تاحال سرکاری دفاتر کو رسائی بھی نہ دے سکی،جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ صوبائی حکومت خود انضمام کے فوائد قبائلی عوام کو پہنچانا نہیں چاہتی،انہوں نے حکومتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 1997میں اے این پی اسمبلی فلور سے لیکر روڈز پر چلا چلا کر کہہ رہی تھی کہ فاٹا میں سیاسی پارٹیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ وہاں پر انتخابی عمل میں شریک ہو اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو جو خلا پیدا ہوگا وہ دہشتگرد پُر کرینگے،اس بار اگر فاٹا انضمام کو سوچھے سمجھے سازش کے تحت ناکام بنایا گیا اور اُس سے جو مایوسی پیدا ہوگی اُس کا اثر اب پورے ملک پر پڑیگا، انہوں نے صوبائی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ قبائلی اضلاع میں جلد از جلد سرکاری دفاتر کی رسائی کے ساتھ ساتھ وہاں پر لوگوں کی معاشی حالت زار اور ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی مایوسی کو دور کیا جاسکے

مزید : پشاورصفحہ آخر