آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا

آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا

  



صحافت میرا پیشہ بھی ہے شوق بھی ہے اور جنون بھی ہے میں کافی عرصے سے پنجاب بورڈ آف ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے معاملات سے منسلک ہوں۔ ان کے مسائل اور حل کے لئے پہلے بھی لکھتا رہا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری صحافتی ذمہ داری بھی ہے کہ ان مسائل کو اجاگر کروں اور ان کی بہتری کیلئے تجاویز بھی دوں تاکہ اگر ارباب اختیار واقعی ہی مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں تو شاید کچھ بہتری لا سکیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین کی ہفتہ وار ہڑتال بھی ملازمین کے بنیادی مسائل حل نہ کروا سکی ہے۔

کیونکہ اب اس ہڑتال میں ایک نیا موڑ سامنے آ چکا ہے اور بالآخر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ اور ایل آر اوز کی کثیر تعداد کھل کر پیلرا انتظامیہ کی حمایت اور اراضی ریکارڈ سنٹرز سٹاف کی مخالفت میں میدان میں آ چکی ہے، اے ڈی ایل آرز کے اس اقدام سے ان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے اور کیا نقصان ہو گا یہ آنیوالے کالم میں لکھوں گا لیکن اے ڈی ایل آرز کی کثیر تعداد اس وقت یہ خواب ضرور دیکھ رہی ہے کہ وہ آنیوالے دنوں میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اختیارات سے باہر آ کر بورڈ آف ریونیو پنجاب کی چھتری کے نیچے آ جائیں گے اور سمری کی منظوری بھی بہت جلد ہو جائے گی دوسری جانب اراضی ریکارڈ سنٹرز کے سٹاف نے ملکی حالات کے پیش نظر 4نومبر کی بجائے 11نومبر کو صوبے بھر میں انداز کی بنیاد پر قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور اے ڈی ایل آرز اور ایل آر اوز کے اقدام پر شدید تنقید بھی کی ہے، اہم خبر یہ ہے کہ پنجاب حکومت اراضی ریکارڈ سنٹرز کے تمام سٹاف سے اتنی متاثر ہوئی ہے کہ انہوں نے دوبارہ پٹواریوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کا کام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ گریڈ بھی بڑھا دیا ہے اور اب ویلیج آفیسر کے نام کیساتھ پٹواری اراضی ریکارڈ سسٹم کا بھی کنٹرول سنبھالیں گے پٹوار کلچر کی کمپیوٹر سسٹم میں انٹری کی سب سے بڑی وجہ بھی اراضی ریکارڈ سنٹر کا سٹاف ان کا نامناسب رویہ اور کرپشن کی سنگین شکایات تھی جس پر تمام اعلیٰ حکام نے واپسی کا رخ کرتے ہوئے پٹواری یعنی کہ ویلیج ا ٓفیسر کو بھی اس سسٹم کا حصہ بنانے کا عملی فیصلہ کر لیا۔ پیلرا انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے خوشخبری دی گئی تھی کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی منظوری بھی دیدی گئی ہے اور سروس سٹرکچر اور منتقلی کے حوالے سے قوانین رولز کی جو سفارشات تھی وہ بھی منظور کر لی گئی ہیں مگر کسی نے اس بات کو سیریس نہ لیا اور اس کونیا لالی پاپ ہی سمجھا گیا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کے پیلرا کا کمپیوٹرائزاڈ سسٹم نہایت شاندار ہے اور اس کے ذریعے اراضی ریکارڈ سنٹرز پر فیلڈ کی خدمات بلاشبہ عام آدمی کے لیے بہت بڑی تبدیلی ہے۔ ہاں وڈیرے جاگیر دار، ایم پی اے، بیوروکریسی کے لوگ اس سے خوش نہیں اور وہ ہو بھی نہیں سکتے کیوں کے اب ان کو بھی عام آدمی کے ساتھ لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ پہلے تو یہ ان کے پا س اختیار تھا جس کو وہ کہتے فرد ملتی جس کو وہ روک دیتے وہ ذلیل ہوتا رہتا۔ مگر افسوس کہ وہ وڈیرے ہی ہمارے نمائندگان ہیں اور انکی اس سسٹم سے غیر ہم آہنگی/ناپسندیدگی اراضی ریکارڈ سنٹرز اور ان ملازمین کو اونچے ایوانوں میں بدنام کر رہی ہے حالانکہ صورت حال بہت سے پرانے محکموں سے بھی بہت بہتر ہے۔

حا ل ہی میں وزیر اعظم سٹیزن پورٹل سے پنجاب بھر کے سرکار ی محکموں کے خلاف شکایات کی تفصیل جاری ہوئی جس میں مجموعی طور پر 439504 شکایات کی گئی جن میں سے سب سے زیادہ محکمہ بلدیات کے خلاف 83488 دوسرے نمبر پنجاب پولیس 65540 محکمہ تعلیم کے خلاف 38662 ہاؤسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے خلاف 36602 محکمہ ہیلتھ کے خلاف 33452 پنجاب پبلک سروس کمیشن کے خلاف 9781 محکمہ جنگلات کے خلاف 3572 محکمہ ماحولیات کے خلاف 4870 زکوۃ و عشر کے خلاف 417 جبکہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی 553 شکایات موصول ہوئی۔ جس سے صاف عیاں ہے کہ عام آدمی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اراضی ریکارڈ سنٹرز سے ناخوش نہیں ہے بلکہ صرف ایک خاص طبقہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے اسکو بدنام کر رہاہے۔ اللہ کرے ارباب اختیار نئی ریفارمز لانے کی بجائے اس بنے بنائے اور کامیاب سسٹم کو بچا سکیں اور خفیہ در پردہ سازشوں کو پہچان سکیں۔

مزید : رائے /کالم