صوبائی حکومت کو مستقل ملازمین کنٹر یکٹ پر منتقل کرنے سے روک دیا گیا

صوبائی حکومت کو مستقل ملازمین کنٹر یکٹ پر منتقل کرنے سے روک دیا گیا

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس عبدالشکور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سیاحت سے متعلق خیبر پختون خوا کے نئے ایکٹ کے تحت مستقل ملازمین کو کنٹریکٹ پر ڈالنے کے خلاف دائر رٹ پر صوبائی حکومت کو مستقل ملازمین کو کنٹریکٹ پر منتقل کرنے سے روک دیا اور اس حوالے سے سیکرٹری سیاحت، سیکرٹری قانون کو نوٹس جاری کر دیا فاضل بنچ نے یاسر خٹک ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر محکمہ سیاحت کے 43 ملازمین زیشان، جاوید وغیرہ کی رٹ کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے 2019 میں ایک نیا سیاحتی ایکٹ نافذ کیا جس کے تحت محکمہ سیاحت میں کام کرنے والے مستقل ملازمین کو کنٹریکٹ پر منتقل کیا جائے گا اور اس حوالے سے انکی سکروٹنی کی جائے گی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار ہی نہیں کہ پہلے سے مستقل ملازمین کو کنٹریکٹ پر ڈالے کیونکہ ائین نے انہیں ایک حق دیا ہے اور اسے کسی صورت واپس نہیں لیا جاسکتا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت اس ایکٹ کی آڑ میں مختلف طریقوں سے اپنے من پسند افراد کو لانا چاہتی ہے اور وہاں سے مستقل ملازمین کو ہٹانا چاہتی ہے کیونکہ اگر ان ملازمین کو کنٹریکٹ پر ڈالا جائے تو انہیں نوکری سے ہٹانا پھرآسان ہو جائے گا اور صوبائی حکومت کو اپنے من پسند افراد کو اس محکمے میں لانے کے لئے راہ ہموار ہو جائے گی لہذا آئین اور قانون کے تحت کسی بھی صورت ان مستقل ملازمین کو نہ تو کنٹریکٹ میں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی سکروٹنی کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ پہلے سے مستقل ملازمین ہیں جو کئی سالوں سے محکمہ سیاحت میں کام کررہے ہیں جس پر عدالت نے صوبائی حکومت کو ان ملازمین کو کنٹریکٹ پر منتقل کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کے حکم نامے کو معطل کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کرلیا

مزید : پشاورصفحہ آخر