کرغستانی خاتون بیٹے کی حوالگی سے متعلق دائر رٹ پر شوہرکی گرفتاری کے احکامات

کرغستانی خاتون بیٹے کی حوالگی سے متعلق دائر رٹ پر شوہرکی گرفتاری کے احکامات

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے کرغستان سے تعلق رکنے والی خاتون کے بیٹے کی حوالگی کیلئے دائر توہین عدالت کی درخواست پر پولیس کو درخواست گزارہ کے سابق شوہر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس عبدالشکور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی درخواست گزارہ کے وکیل اجمل رضا بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ خاتون علیوف علی جان کی 2005 میں محمد زیب سے کرغستان میں شادی ہوئی اور صوابی سے تعلق رکھنے والے محمد زیب سے درخواست گزار کے تین بچے ہیں دو بچیاں خاتون کے پاس ہیں جبکہ بیٹا محمد زیب کے پاس ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کہ محمد زیب بچوں کو پاکستان لایا پھر بیٹیوں کو خاتون کے ساتھ جانے دیا اور بیٹے کو اپنے پاس رکھ لیا اب محمد زیب نے بیٹے کو غائب کیا ہے اور خاتون کے حوالے نہیں کر رہا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود پولیس نے ابھی تک بچے کو والدہ کے حوالے نہیں کیا اور نہ پولیس خاتون کے ساتھ تعاون کر رہی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر محمد زیب پاکستان میں ہے اور حال ہی میں پی ایم ڈی سی کے ساتھ صوابی کے ایڈریس پر رجسٹریشن کی ہے انہوں نے عدالت سے استدعا کی پولیس اور دیگر ادارے عدالتی احکامات کے باوجود تعاون نہیں کررہی لہذا ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد پولیس کو ملزم گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر