معیشت کی بہتری کیلئے افغانستان سے تجارتی راستے کھولنے ہوں گے، سردارحسین بابک

معیشت کی بہتری کیلئے افغانستان سے تجارتی راستے کھولنے ہوں گے، سردارحسین ...

  



پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا بالخصوص اور پورے ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے افغانستان سے تجارت کے راستے کھولنے ہوں گے اور صوبائی تجارتی مراکز ہمسایہ ملک کے ساتھ اسی طریقے سے تجارت اور آمد و رفت کے ذریعے منسلک ہوجائیں گے،تجارتی حجم اور برآمدات میں اضافہ ہوگا اورلاکھوں لوگوں کو روزگار اور تجارت کے مواقع میسر آئیں گے۔ باچاخان مرکز سے جاری بیان میں سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ ہندوستان سے رابطوں کی بحالی، آمدورفت اور تجارتی راہداری کھولنا خوش آئند امر ہے لیکن پاک افغان راستوں کی بندش ایک سوالیہ نشان ہے جس کے اثرات پورے ملک اور خصوصاً پختون خطے پر زیادہ مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر راستے کھولے جائیں گے تو خیبرپختونخوا تجارت کیلئے عالمی منڈی بن جائیگی، یہاں پردہشت گردی میں کمی کے بعد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی اور تیزی کے ذریعے شکوک و شبہات کے امکانات کم پڑجائیں گے،دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کا ماحول اعتماد میں بدل جائیگا۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ راستے کھولنے کے بعد دونوں ممالک آدھی دنیا کو برآمدات و درآمدات کا حصہ بن جائیں گے لیکن انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ حکمران اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے،40،45 سال سے پاکستان کے پختون علاقوں میں دہشت گردی نے تباہی مچائی ہوئی ہے،اسی خطے نے نقصانات اٹھائے ہیں جبکہ دوسری جانب ان جنگوں، دھماکوں اور آپریشنوں نے عام لوگوں پر خطرناک حد تک مضرصحت اثرات چھوڑے ہیں، بدقسمتی سے ان تمام تر نقصانات کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بلاامتیاز تعلقات کی بحالی اس خطے کو ترقی کی طرف گامزن کرسکتی ہے،حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیے اور ایک زمانے سے پختون علاقوں میں جو جانی و مالی تباہی ہوئی ہے اسکی خاطر ان تمام تجاری اور آمدورفت کے راستوں کو 24گھنٹے کھلے رکھنے میں ہی اس ملک اور قوم کا فائدہ ہے۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ پختون شدت سے مطالبہ کرتے ہیں اور اسکی ضرورت بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان تجارتی راستوں کو جلد سے جلد کھولا جائے۔ملک میں لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بجلی قیمتوں میں اضافہ ان وجوہات کی بنیاد پر سرمایہ کاری اور کاروبار کے امکانات مخدوش ہوگئے ہیں۔ یہی وہ بہت بڑا اور معاش کو اٹھانے کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے اورہر طبقہ فکر کے پختون شدت سے انتظار کررہے ہیں کہ حکمران یہ راستے کب کھولیں گے

مزید : پشاورصفحہ آخر