شہر سج گئے،روشنیاں ہی روشنیاں،آمد مصطفےٰ ؐ، مرحبا، مرحبا

شہر سج گئے،روشنیاں ہی روشنیاں،آمد مصطفےٰ ؐ، مرحبا، مرحبا

  



ماہِ ربیع الاول کی آج (بدھ)8تاریخ ہو گئی، چوتھے روز ولادت باسعادت رسول اکرمؐ کا یاد گار برکتوں والا دن ہو گا،اسلامیانِ پاکستان، محبانِ رسولؐ اپنی اپنی عقیدت کے حوالے سے تیاریوں میں مصروف ہیں، چراغاں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے،مرکز تجلیات مزار مبارک حضرت علیؒ ہجویری کو بھی بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا اور روشنیوں سے جگمگا رہا ہے۔یہ لاہور کے قدیمی اور مابعد قدیمی جلوسوں کی منزل ہے اور گیارہ سے بارہ ربیع الاول تک جلوس میلاد یہاں آ کر اختتام پذیر ہوں گے اور انتظامیہ کی طرف سے ان کی دستار بندی بھی ہو گی، ڈائریکٹر جنرل اوقاف محترم طاہر بخاری کی قیادت میں داتا دربار کے منتظم اور اراکین کمیٹی بھی موجود ہوں گے اور یوں یہ عقیدت والی رسم یا دستور پورا کیا جائے گا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل ہی کے زیر انتظام سیرت رسول ؐ کانفرنسیں ہوں گی۔

ایک کہاوت کے مطابق کسی نے سوال کیا کہ اللہ ہے،آپ اسے ثابت کریں تو مفکر ِ پاکستان علامہ اقبالؒ نے فرمایا مجھے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں،حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ اللہ ہے تو اللہ ہے۔میرا بھی یہی یقین ہے اور جواب ہے،تو ثابت ہوا کہ اللہ کی پہچان بھی حضرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی نے کرائی اور ہم سب کو انہی کی تعلیمات پر عمل کر کے فلاح پانا ہے، اور جب یوم ولادت ہو تو پھر خوشی کیوں نہ منائی جائے کہ یہ رحمت العالمینؐ کی تشریف آوری کا دن ہے۔تاہم اس مرتبہ سیاست کی گرما گرمی، محاذ آرائی کی شدت کے باعث میڈیا والوں کی توجہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی علالت کی طرف رہی اور ولادت کی خوشیوں کے حوالے سے کچھ کمی رہ گئی، جو کم از کم آج سے تو پوری کرنا چاہئے کہ صرف تین روز کے بعد چوتھے روز یوم مبارک ہے۔

سیاست کی گہما گہمی ہی میں قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کی علالت شدت اختیار کر گئی ہے جو اب پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے،وہ قریباً دو ہفتوں سے سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ایک پورا میڈیکل بورڈ ان کا علاج کر رہا ہے، اس کے باوجود مرض کی پیچیدگیاں جاری ہیں، اور ان کے چاہنے والوں اور عوام کو تشویش ہے اور لوگ ان کی صحت کے لئے دُعائیں کر رہے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر کے چار ہفتوں کے لئے ضمانت دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اپنی پسند کا علاج کرا سکتے ہیں،وہ یہاں سے شریف میڈیکل کمپلیکس بھی جا سکتے ہیں، لیکن میڈیکل بورڈ اجازت نہیں دے رہا،اس میں ان کے ذاتی معالج کو بھی شریک کر لیا گیا ہے۔ (اب کہا گیا کہ کسی دوسری جگہ منتقلی کا فیصلہ خود فیملی کرے گی)۔

یوں جہاں ان کی حالت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے وہاں حکام کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہے،ان کے دِل کا بائی پاس اور بگڑا آپریشن لندن میں ہوا،اس ہسپتال میں ریکارڈ بھی موجود ہے،صرف آٹھ ہفتے کی رعایت سے باہر جانا ممکن نہیں کہ کئی رکاوٹیں بھی ہیں، اس لئے بہتر تو یہ ہے کہ ان کے معالجین کو پوچھ کر لاہور آنے کی زحمت دینے کے لئے کہا جائے۔بہرحال علاج کے حوالے سے خود شریف خاندان اور ڈاکٹر حضرات کا بورڈ آپس میں رابطہ رکھے ہوئے ہیں تو وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔نواز شریف کی طبیعت نیب کی حراست میں خراب ہوئی تھی کہ وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید سزا کاٹ رہے تھے جہاں ان کو ایک پرانے کیس میں جیل سے لا کر حوالات میں رکھا گیا تھا، وہاں سے ہسپتال منتقل ہوئے۔

دوسری طرف نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی ضمانت پر رہا ہو گئی ہیں،لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ پیر کو سنایا اور ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی، مریم نواز جیل میں اپنے والد کی عیادت کے لئے گئی تھیں کہ ان کو وہاں سے گرفتار کر کے نیب کی حوالات میں رکھا گیا وہاں بعد میں نواز شریف بھی لائے گئے تھے، کچھ دن دونوں باپ بیٹی نیب کی تحویل میں رہے۔بعدازاں مریم نواز کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا، مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے جہاں نواز شریف کی صحت کے لئے دُعائیں مانگیں وہاں مریم نواز کی ضمانت پر خوشی بھی منائی۔

تادم تحریک مولانا فضل الرحمن کا دھرنا جاری تھا اور نوبت یہاں تک آ گئی کہ اس کا اختتام محفوظ طریقے سے کیسے ہو،اپوزیشن کی جماعتیں ان کی حمایت بھی کر رہی ہیں،اسی حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی صدارت میں پیر کو مسلم لیگ(ن) کا اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوا، اس میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا۔ احسن اقبال نے بتایا کہ مسلم لیگ(ن) آئینی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گی۔کسی غیر آئینی اقدام میں حصہ نہیں لے گی،مقصد یہ کہ دھرنے میں شرکت نہیں ہو گی۔ بعض ذرائع یہ افواہ بھی پھیلاتے رہے کہ محمد شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان حکمت عملی کا اختلاف ہے، مریم نواز کی ضمانت پررہائی کے بعد اس سلسلے میں بھی وضاحت ہو ہی جائے گی کہ ایسا کوئی اختلاف ہے یا نہیں جو جماعت کو متاثر کر سکے۔

مزید : ایڈیشن 1