کیا مولانا فضل الرحمن، پشاور موڑ سے خالی ہاتھ واپس جائیں گے؟ اہم سوال

کیا مولانا فضل الرحمن، پشاور موڑ سے خالی ہاتھ واپس جائیں گے؟ اہم سوال

  



دھرنے کا مستقبل کیا ہے؟ ملکی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ دارالحکومت میں ایسے سوالات پر سیاسی بحث و مباحثہ جاری ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دے کر اپنے مطالبات منوانے کے رجحان نے پاکستانی سیاست کو ایک نیا اسلوب دیا ہے۔ اگرچہ دھرنوں کی تاریخ پرانی ہے لیکن حالیہ چند سال میں دھرنوں کی سیاست میں جو نت نئی جدت آ رہی ہے اس سے پاکستانی سیاست پر گہرے اور دور رس نتائج مرتب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ دھرنوں کی سیاست کے اس حالیہ اسلوب میں کنٹینروں کا استعمال بھی ایک نئی اختراع ہے۔ کارگو کنٹینروں کے سیاسی استعمال کا آغاز جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں حکومت نے وکلاء تحریک کے خلاف کیا جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی جلسہ سے خطاب اور دھرنوں کی قیادت کے لئے کنٹینروں کا استعمال شروع کر دیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پچھلے ادوار میں دارالحکومت میں حکومت کے خلاف خوب کنٹینر سیاست کی گئی۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حکومتی زعماء کنٹینروں اور دھرنا سیاست پر خوب تنقید کرتے تھے اور اسے سیاست میں نیا منفی رجحان تصور کرتے تھے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت نے لیگی حکومتی مشوروں پر اس وقت کان نہیں دھرا۔ اب وہی دھرنا اور کنٹینر موجودہ حکومت کے درپے ہے۔ مولانا فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے ہزاروں دھرنا دیئے کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے کنٹینر پر چڑھ کر وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ طلب کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اسمبلیوں کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نہایت زیرک سیاستدان تصور کئے جاتے ہیں انہوں نے نہایت دانش مندی سے اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے ذریعے دھرنے کی باگ ڈور بظاہر اس کمیٹی کے سپرد کر رکھی ہے تاکہ دھرنے کے مستقبل اور آئندہ کی اپوزیشن کی سیاست میں زیادہ سے زیادہ امکانات کے دروازے کھلے رکھے جا سکیں۔ اگرچہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمن کے مطالبات سے ہم آہنگ ہیں لیکن حکمت عملی کے حوالے سے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں دھرنے میں مولانا کی ہم رکاب نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومتی حلقے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں کہ اس تاثر کو نمایاں کریں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمن کو آشیر باد دے کر اب پیچھے ہو گئی ہیں، ان جماعتوں کی صفوں میں دراڑ ڈالنے کی غرض سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ہی اب اصل اپوزیشن رہنما ہیں، لیکن شاید مولانا فضل الرحمن ان حربوں کو بخوبی سمجھ رہے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اب تک اپنی کسی حلیف سیاسی جماعت کی بے اعتنائی کے تاثر کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے دھرنے کے مستقبل کے حوالے سے فیصلے کا اختیار بھی رہبر کمیٹی کو دے رکھا ہے۔

دھرنے نے حکومت کو سخت مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ بظاہر حکومت کے پاس اس مشکل صورتحال سے نکلنے کی سبیل نظر نہیں آ رہی۔ دھرنے کے شرکاء بہت منظم اور پر امن طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں کراچی کمپنی جی نائن سے لے کر جی ٹین اور جی الیون تک کشمیر ہائی وے اور اس کے دونوں اطراف جمعیت علمائے اسلام اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے دھرنا دے رکھا ہے ان کارکنوں کے پاس کھانے پینے اور سونے کا اپنا اپنا انتظام ہے۔ دھرنا سے مستقل جی سیکٹروں کی سروس روڈ پر کھانے پینے اور اشیائے ضروریہ کے ٹھیلوں نے میلہ جیسا سماں کیا ہوا ہے جبکہ دھرنے کے داخلی دروازوں پر جے یو آئی کے ڈنڈا بردار کارکنان 24 گھنٹے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ شرکاء کو سکریننگ گیٹوں سے گزار کر اندر جانے دیا جا رہا ہے جبکہ شک پڑنے پر بعض لوگوں کی جامعہ تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ قائدین کے کنٹینر کے گرد سخت سیکیورٹی حصار ہے۔ میڈیا کے لئے ایک الگ سے کنٹینر بھی لگایا گیا ہے جہاں سے میڈیا کے نمائندے قائدین اور حد نگاہ تک پھیلے ہوئے دھرنے کے شرکاء کی کوریج کر سکتے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء جدید ٹیکنالوجی سے بھی خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بروقت ڈرون کیمرے فضا سے نگرانی کر رہے ہوتے ہیں جبکہ بعض شرکاء نے بجلی کے حصول کے لئے سولر پینل بھی رکھے ہوئے ہیں۔ دھرنے سے متصل کاروباری مراکز میں بھی جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کی خوب چہل پہل نظر آ رہی ہے۔ تاہم اس منظم اور پر امن نقل و حرکت کی بدولت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس کسی ایکشن کا جواز نظر نہیں آ رہا تاہم ایک آدھ پتلا جلانے اور ڈمی جنازہ نکالنے کے اکا دکا واقعات کے ساتھ افغان طالبان کے بعض پرچم نظر آئے لیکن جے یو آئی نے اس کی مذمت کی اور موقف اختیار کیا کہ ان کے لوگ ایسا نہیں کر رہے ہیں بلکہ جے یو آئی کے خلاف رائے عامہ بنانے کی غرض سے بعض عناصر نے گمراہ کن اقدامات کئے لیکن جے یو آئی کی جانب سے سختی سے تردید کے بعد ایسے مناظر دوبارہ دیکھنے میں نہیں آئے۔

مولانا فضل الرحمن نے ابتدائی طور پر دو دن کا الٹی میٹم دیا تھا اس دوران بہت سا سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا مولانا نے سیاست میں اداروں کے کردار پر بھی بات کی جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو بھی میدان میں آنا پڑا۔ تاہم ان کے سامنے آنے کے بعد مولانا قدرے مانند پڑتے نظر آئے تاہم انہوں نے پسپائی اختیار نہیں کی اور اپنے الٹی میٹم میں توسیع کرتے چلے جا رہے ہیں۔ مولانا نے ڈی چوک نہ جانے کا اشارہ دے کر در حقیقت کسی سیاسی مس ایڈونچر سے احتراز کر کے بالغ نظری کا ثبوت دیا اور حکومتی انتظامیہ اور دھرنے کے شرکاء کے ٹکراؤ کے خطرات کو فی الحال تو ٹال دیا ہے۔ لیکن صورتحال ہنوز گھمبیر ہے، مولانا نہایت دانش مندی سے ایک طرف تو دھرنے کو مکمل طور پر پر امن رکھ کر اور ڈی چوک کی طرف پیش قدمی نہ کر کے حکومت کو کوئی موقع فراہم نہیں کر رہے کہ حکومت تحمل کا دامن چھوڑے حکومت پر اعصابی دباؤ بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ چودھری برادران کی مفاہمت کی سیاست بھی رنگ دکھا رہی ہے۔ جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں کور کمانڈر کا اجلاس بھی معروضی ملکی سیاست کے تناظر میں نہایت اہم تھا۔ اس اجلاس کے اعلامیئے کے مطابق پاک فوج نے واضح کیا کہ مذموم مقاصد کے لئے ملکی امن ختم نہیں کرنے دیں گے لیکن ساتھ ساتھ دو ٹوک انداز میں کہا کہ اہم ملکی معاملات تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہم آہنگی ضروری ہے۔ اس اعلامیہ میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے پیغام واضح ہے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک دھرنے کے پر امن حل کے لئے پر امید ہیں۔ لیکن سوال یہ رکھ دیا ہے کہ مولانا خالی ہاتھ واپس جائیں گے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اولاً مولانا نے غیر محسوس طریقے سے بہت سے سیاسی اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ شریف خاندان کو ملنے والے ریلیف کو بھی بعض سیاسی پنڈت اس تناظر میں دیکھ رہے ہیں جبکہ آئندہ سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی ہسپتال داخلے کے علاوہ مزید ریلیف بھی مل سکتا ہے۔ جبکہ مولانا نے نہ صرف دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جھجھک ختم کر کے انہیں آئندہ کے لئے اسلام آباد کا راستہ دکھا دیا ہے اور دھرنے کے حوصلے کی بدولت انہوں نے جو سخت موقف اور لب و لہجہ اپنایا ہے دیگر اپوزیشن رہنما بھی آئندہ اس بنچ مارک سے اوپر ہی جائیں گے۔ دوم مولانا کی سیاسی مقبولیت جن حلقوں میں ہے وہ مولانا کے دھرنے سے دست بردار ہونے سے کم نہیں ہو گی مولانا کے پاس اس صورتحال میں کھونے کے لئے کچھ نہیں۔ حکومت نے اگر موجودہ صورتحال میں تدبر کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ معاملات نہ سلجھائے تو حکومت کے پاس کچھ کھونے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ خطے میں پاکستان کی صورتحال، مشرقی و مغربی سرحدوں پر تناؤ اور 9 نومبر کو کرتار پور بارڈر کھولے جانے جیسے موقع پر ریاست داخلی سیاسی انتشار و محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہو سکتی ملکی داخلی سیاسی عدم استحکام کی بدولت پاکستان کے کرتار پور جیسے تاریخی منصوبے کے افتتاح کا مزرہ کر کرا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1