ہم کرتار پور ر اہداری کھول رہے ہیں،مودی نے ہمارے دریاؤں کا پانی بند کر دیا

ہم کرتار پور ر اہداری کھول رہے ہیں،مودی نے ہمارے دریاؤں کا پانی بند کر دیا

  



ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

وزیراعظم عمران کہتے ہیں کہ این آر او کا مطلب غداری ہے، کڑا احتساب ہر صورت میں ہوگا اور وہ سیاست سے بالاتر ہوکر اداروں کا دفاع کریں گے۔ اب وہ ایسا کڑا احتساب کیسے اور کب کریں گے۔ اس کا انہوں نے کوئی تذکرہ نہیں کیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر آزادی مارچ کو دھرنے کی صورت دے چکے ہیں وہ سیاسی نہیں بلکہ ذاتی ہے اور جن رہنماؤں کو کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار رکھا گیا ہے وہ انہیں این آر او دلوانا چاہتے ہیں اگر وزیراعظم کی یہ بات مان بھی لی جائے تو پھر ماضی میں مختلف حکومتوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریکیں کیا تھیں ان پر بھی غور کرنا پڑے گا اور یہ بات بھی سامنے ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی بدحالی عفریت کی طرح پھیل رہی ہے۔ مہنگائی کا توڑ حکومت وقت کے پاس نہیں ہے روزمرہ استعمال کی اشیاء سمیت آٹا تاریخ کی بلند ترین مہنگائی پر پہنچ چکا ہے یوٹیلٹی بلز دو سے تین گنا تک بڑھ چکے ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ یہ مارچ کرنے والے عوامی حمایت سے محروم ہیں تو پھر وزراء کو بیان بازی کی بجائے عوام کیلئے کوئی ریلیف دینے کا کام لیا جاتا اور اس سیاسی مسئلہ کو سیاسی طو رپر ہی حل کرنے کی کوشش کی جاتی تاکہ نہ تو اس میں اداروں کا نام آتا اور نہ ہی انہیں دفاع کرنے کی نوبت آتی۔ مگر سیاسی بصیرت کا عالم یہ ہے کہ اپوزیشن کی تقریروں کے جواب میں وزراء جو بیانات جاری کررہے ہیں وہ جلتی پر تیل نہیں بلکہ پٹرول کا کام کررہے ہیں اپوزیشن سمیت حکومتی عہدیداروں کو بھی یہ ادارک نہیں ہے اس وقت قائدین جس عدم برداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں وہ نچلی سطح پر بھی اس طرح سامنے آرہا ہے جو معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک ہے اور عوام کو نفسیاتی طور پر کمزور کررہا ہے ایسی صورت میں چاہیے تو یہ تھا کہ اپوزیشن اور حکومتی عہدیداروں کی ایک گول میز کانفرنس ہوتی جس میں بیٹھ کر ان مسائل کا کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن محسوس یہ ہوتا ہے ایسا کرنے کیلئے کسی میں بھی سیاسی جرات نہیں ہے اب دھمکیوں اور مزید دھمکیوں کے بعد ایک دوسرے کی شخصیات کا تمسخر اڑانے کے بعد کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔ادھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی سیاسی بیانات کی صورت میں کل پرزے نکالنے شروع کردئیے ہین لگتا ہے ملک کے 70فیصد آبادی کے اس صوبے میں سب اچھا ہے اس لئے وہ بھی مارچ کرنے والوں کو نام نہاد قرار دے رہے ہیں حالانکہ کبھی وہ اور ان کے مرحوم والد بھی انہی کے ہمراہ ہوا کرتے تھے مگر اب وہ سیاسی ”تبدیلی“ لاچکے ہیں اس لئے مارچ کو دراصل غلامی مارچ قرار دے رہے ہین اور اب صوبے میں اصلاحات کے نام پر پٹواری کا عہدہ تبدیل کرکے ”ویلج آفیسر“ کے طو رپر سامنے لانے کیلئے قانون سازی میں مصروف ہیں اب پٹواری کو اگر ویلیج آفیسر بنادیا جائے تو کیا معاملات حل ہوجائیں گے؟ اس کا جواب ان کمپیوٹر سنٹرز میں موجود ہے جہاں عوام الناس اپنی ذاتی زمین کی فرد لینے کیلئے جاتے ہیں اگر وزیراعلیٰ، ان سے پوچھ لیتے تو شاہد کوئی بہتر نظام کی طرف اشارہ ہوجاتا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ بھی ویسا ہی کام ہے جو پہلے سے چل رہا ہے دوسری طرف لانگ مارچ یا آزادی مارچ نے لیاقت پور سانحہ کو بالکل ہی دبا کر رکھ دیا ہے اس المناک حادثے میں 80سے زیادہ قیمتی جانیں چلی گئیں ملک کی اے کلاس ٹرین تیز گام جو کراچی سے آرہی تھی لیاقت پور میں اچانک ایک بوگ میں آگ لگ گئی جس نے تین اور بوگیوں کو لپیٹ میں لے لیا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تیس سے پینتیس کلومیٹر تک ٹرین کو روکا نہیں جاسکا ٹرین سوار مسافروں کار اصرار تھا کہ انہوں نے ایمرجنسی بریک (زنجیر) کھینچنے کی کوشش کی لیکن وہ کام نہیں کررہی ہے تھی جبکہ وہ اس بات سے بھی انکاری ہیں کہ آگ گیس والے چولہے سے شروع ہوئی ہے عینی شاہدین بیان کرتے ہیں آگ بوگی میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی جو قابو سے باہر ہوگئی اگر چولہے سے آگ لگتی تو قابو پایا جاسکتا تھا۔ ریلوے حکام اور وزیرریلوے شیخ رشید کا موقف ہے کہ گاڑی بھی ایمرجنسی بریک سے ہی رکی اور شارٹ سرکٹ بھی نہیں ہوا بلکہ چولہے سے آگ لگی اب یہ ایسا راز ہے جو شاید کبھی سامنے نہ آسکے کیونکہ قبل ازیں ریلوے کے حادثات میں جو بھی انکوائریاں ہوئیں وہ آج تک سامنے نہیں آئیں اور اس انکوائری کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے مگر ایک بات واضح ہے کہ ریل میں آج تک جو حادثات ہوئے ہیں وہ انتہائی غفلت اور غلطی کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں لیکن افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کمزوریوں پر قابو پانے کی بجائے انہیں چھپایا گیا جس کا نتیجہ مزید حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی صور ت میں آرہا ہے اور پاکستان ریلوے اپنا اعتبار کھورہا ہے یہ بات بھی اہم ہے کہ اتنے بڑے سانحہ کے باوجود نہ تو وزارت عظمیٰ کی کرسی ہلی ہے اور نہ ہی وزیر ریلوے نے کوئی ذمہ داری قبول کی ہے استعفیٰ کی بات تو درکنار ……اب انکوائری کا جو حشر ہوگا وہ بھی نوشتہ دیوار ہے، ادھر سیاست، سیاست اور حکومت حکومت کے کھیل میں ایک طرف تو ہم کرتارپور کی راہداری کھول رہے ہیں جو یقیناً ایک اچھا اقدام ہوسکتا ہے مگر دوسری طرف ہمارے طفیلی دریا خشک ہورہے ہیں ابھی نومبر میں یہ عالم ہے کہ دریا چناب کئی علاقوں میں صحرا کا منظر پیش کررہے ہین۔ دریائے سندھ میں ہیڈ تونسہ سے نکلنے والی ٹی پی لنک نہر بند ہونے سے تو گویا ایسا لگ رہا ہے کہ اس دوسرے بڑے دریا میں کبھی پانی تھا ہی نہیں۔ اگر حکومت نے اس مسئلہ پر توجہ نہ دی تو ایک طرف تو زیر زمین پانی سطح مزید نیچے چلی جائے گی جبکہ آنے والی گندم کی فصل کیلئے ضرورت کے مطابق پانی دستیاب نہ ہوسکے گا اور خدشہ ہے کہ اگر گندم ٹارگٹ کے مطابق کاشت نہ ہوسکی تو ہمیں ایک عرصہ کے بعد ہم جو اس میں خود کفیل تھے شاہد اب ہمیں درآمد کرنا پڑے لیکن وزراء سمیت وزیراعلیٰ کو سیاسی کھیل سے فرصت ہی کہاں ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1