یونیسکو، بی این یو کاریذیڈینٹل کریٹو بزنس ٹریننگ پروگرام اختتام پذیر

یونیسکو، بی این یو کاریذیڈینٹل کریٹو بزنس ٹریننگ پروگرام اختتام پذیر

  



لاہور(پ ر)بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی (BNU) کے تاروگل کیمپس رائیونڈ روڈ لاہور میں منعقدہ پانچ روزہ کرریذیڈینٹل کریٹو بزنس تربیتی پروگرام بعنوان ”پاکستان کا تخلیقی مستقبل“ جمعتہ المبارک یکم نومبر 2019ء کو اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ پروگرام ثقافتی اظہار کے تنوع کے تحفظ اور فروغ کیلئے یونیسکو کے 2005ء کے کنونشن کا جواب تھا جو تخلیقی معیشت کی ترقی کی حمایت کرتا ہے۔ یہ پروگرام بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی (BNU)، جمہوریہ کوریا اور اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کے مابین سہ فریقی پارٹنرشپ کو ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں میں 12خواہشمند کاروباری افراد کی ضرورت کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا۔ شرکاء نے فلم اینڈ میڈیا، پرفارمنگ آٹس، گیم ڈیزائن اور ایڈورٹائزنگ میں کامیاب پاکستانی بزنس سے براہ راست لئے گئے کیس اسٹڈی پر کام کیا۔ یہ ٹریننگ بی این یو فیکلٹی کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ تخلیقی معیشت کے ماہر اینڈریو سینئر (Anderew Senior) کے ذریعے فراہم کی گئی جو 2015ء سے پاکستان میں یونیسکو کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ساؤتھ کوریا کے کین روح (Ken Roh)، WELTکے شریک بانی نے بھی شرکاء کو اپنے بزنس کو پروموٹ کرنے بارے آگاہی فراہم کی۔ یونیسکو کے ایسوسی ایٹ آفیسر لنڈے کاٹن (Lindsay Cotton) نے کہا ”2005ء کا کنونشن دراصل ثقافتی اظہار کے تحفظ، فروغ اور کریٹو اکانومی کے بارے میں تھا۔ ہم جو کام کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں وہ دراصل عوام میں تخلیقی صلاحیتوں کو تقویت بخش بنانا اور فروغ دینا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کے آنے والے کاروباری افراد کے پاس اپنے خیالات اور نظارے کی تائید کے لئے مہارت، صلاحیت اور بنیادی ڈھانچہ ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ پاکستان کے جوان کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

 بہت ساری کمپنیاں ہیں جو ٹیکنالوجی اور تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ دے رہی ہیں اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہم اسٹارٹ اپ کمیونٹی کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ نہ صرف ٹیکنالوجی ہے جو اسٹارٹ اپ چھتری کے نیچے آتی ہے بلکہ دوسرے شعبوں جیسے ایڈورٹائزنگ، آرٹس، فلم سازی وغیرہ تخلیقی نظریات بھی آتا ہے۔ 

ایپلی کیشنز کے لئے اوپن کال کے ذریعہ منتخب ہونے والے 12شرکاء جنہوں نے 204سے زیادہ درخواستوں کا اشارہ کیا، ایک متنوع گروپ تھا جس میں چار خواتین، سات مرد اور ٹرانس جینڈر (خواجہ سراء) شامل تھا۔ شرکاء کی اوسط عمر 31سال تھی، جن کی عمریں 24سے 39سال کے درمیان تھیں جو پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان بھر سے آئے ہوئے تھے  (کچھ لوگوں کا تعلق چترال، بھکر اور نواب شاہ جیسے کم اربنائزڈ سٹیز سے تھا)

یہ پروگرام یونیسکو کے کوریا فنڈز اِن ٹرسٹ (K-Fit) پروجیکٹ کا ایک حصہ ہے جو تخلیقی صنعتوں کی ترقی پر مرکوز ہے۔ یہ ایشیاء پیسفک کے خطے میں پائیدار تخلیقی صنعتوں اور مہارتوں کو بڑھانے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس کی فعال طور پرسپورٹ کرتا ہے۔ اس کا مقصد ایک ٹریننگ کا طریقہ کار تشکیل دینا ہے جو مقامی ضر وریات کے لئے حساس ہو، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی معیشت کی صلاحیت کے مطابق ہو۔ یہ پروگرام ینگ کریٹو کاروباری افراد کو بااختیار بناتا ہے، ثقافت کے شعبے کے لئے شراکت دارانہ پالیسی سازی کو فروغ دیتا ہے اور قومی پائیدار ترقیاتی ایجنڈے اور بین الاقوامی ثقافتی تعاون میں ثقافت کو ضم کرتا ہے۔

مزید : کامرس