1993 میں پاکستان کے نگران وزیر اعظم معین قریشی کی طرف سے عمران خان کو وزیر بننے کی پیشکش لیکن کپتان نے یہ پیشکش کیوں ٹھکرائی تھی؟ خود ہی وجہ بتا دی

1993 میں پاکستان کے نگران وزیر اعظم معین قریشی کی طرف سے عمران خان کو وزیر بننے ...
1993 میں پاکستان کے نگران وزیر اعظم معین قریشی کی طرف سے عمران خان کو وزیر بننے کی پیشکش لیکن کپتان نے یہ پیشکش کیوں ٹھکرائی تھی؟ خود ہی وجہ بتا دی

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور پاکستان کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن چکے ہیں اور انکشاف ہوا ہے کہ انہیں 1993 میں پاکستان کے نگران وزیراعظم نے بھی وزیر بننے کی پیشکش کی تھی لیکن عمران خان نے یہ پیشکش مسترد کردی تھی کیونکہ نگرانی میں وہ کچھ نہیں کرسکتےتھے ۔ 

روزنامہ جنگ کے مطابق سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان نے  معروف میزبان نعیم بخاری کو ایک انٹرویو دیا تھا جس دوران نعیم بخاری نے انکشاف کیا کہ جب 1993 میں معین احمد قریشی پاکستان کے نگران وزیر اعظم تھے تو انہوں نے عمران خان کو وزیر بننے کی پیشکش کی۔ نعیم بخاری نے عمران خان سے معین قریشی کے وزیر بننے کی پیشکش کو ٹھکرانے کی وجہ دریافت کی تو عمران خان کا کہنا تھا کہ پیشکش ٹھکرانے کی وجہ بہت سادہ ہے، نگران حکومت میں وہ وزیر بن کے کچھ کر نہیں سکتے تھے، دوسرا اُس وقت وہ شوکت خانم کو بنانے کا خواب پورا کرنے میں مصروف تھے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر میں ملک کے لیے کچھ کرسکتا تو وزیر ضرور بنتا، دو اڑھائی مہینے کی حکومت میں اگر وہ عمران خان کو’ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان پاکستان‘ کا چیئر مین بھی بنا دیتے تو وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب انہیں وزارت کی پیشکش ہوئی تو وہ ہسپتال بنانے کے لیے پر عزم تھے اسی لیے انہوں نے اس سے انکار کیا۔

 ضیاالحق نے بھیایک مرتبہ وزارت کی دعوت دی  اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم کوئی بھی وزارت خالی کروا کر آپ کو سیٹ دلوادیں گے ۔ آپ نے وہ بھی قبول نہیں کی؟اس کے جواب میں عمران خان نےکہا کہ اس وقت بھی نگران حکومت تھی ،اور اس وقت میں اپنے آپ کو کسی بھی وزارت کے اہل نہیں سمجھتا تھا۔

نعیم بخاری نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے کبھی عملی سیاست میں حصہ لینے کا نہیں سوچا؟عمران خان نے کہا کہ میں نے اس بارے میں خیال نہیں کیا، مجھے لوگ کہتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ میں سیاست میں کیا کرنے آؤں گا، اگر میں سیاست میں آیا تو اس کی ایک ہی وجہ یہی ہو گی کہ میں حالات میں کچھ تبدیلی اور بہتر ی لاسکوں۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ بات سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ انسان کی فلاح و بہبود کے کام، بغیر کسی سیاسی جماعت سے منسلک ہوکر زیادہ بہتر کر سکتے ہیں، یہ زیادہ بہتر ہے کہ انسان کسی سیاسی وابستگی کو پس پشت ڈال کر سماجی بہبود کے کام کرے کیونکہ ہر کوئی وزیر اعظم ہی بن کر ملک ٹھیک نہیں کرسکتا۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وہی میزبان اور  ماہر قانون نعیم بخاری نے 2016 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد