" وزیر اعظم کو عوامی دباؤ پر مستعفی ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اس وقت عمران خان کو گھر بھیجنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ " سینئر صحافی نے وہ بات بتا دی جس کا شاید آپ کومعلوم نہیں

" وزیر اعظم کو عوامی دباؤ پر مستعفی ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اس وقت ...

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام اور ان کی اتحادی جماعتوں کا وفاقی دارلحکومت میں دھرنا جاری ہے اور دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک بھی برقرار ہے، مولانا فضل الرحمان استعفے پر ڈٹے ہیں تو حکومت کی طرف سے بھی صاف انکار ہے لیکن اب سینئر صحافی اور کالم نویس نے وزیراعظم کے گھر جانے کی واحد وجہ بتادی ۔ 

روزنامہ پاکستان میں حامد ولید نے لکھا کہ " اگرچہ یہ بات ہر ذی شعور پوچھ رہا ہے کہ آخر عوام کا ایک جتھہ کیونکر وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرسکتا ہے۔ یہ جائز سوال ہے اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے۔ اب اگر وزیر اعظم عمران خان کو عوامی دباؤ پر مستعفی ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے تو ایسا کون سا طریقہ ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے نئے انتخابات کے مطالبے کو پذیرائی مل سکے۔

اس کا ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف پارٹی فنڈنگ کے مقدمے کی فوری طور پر سماعت شروع ہو اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ پارٹی فنڈ میں نہ صرف خوردبرد کی گئی ہے بلکہ ان حلقوں کی جانب سے بھی فنڈ وصول کیے گئے ہیں جن سے پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت فنڈ لینے کی مجاز نہیں ہے تو وزیر اعظم عمران خان پر آرٹیکل 62او ر63کے اطلاق کی راہ کھل سکتی ہے اور یوں آئینی تقاضوں کے مطابق وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جس کے بعد نئے انتخابات کی راہ کھل سکتی ہے۔

وگرنہ کوئی بھی ڈیڈلاک اسلام آباد میں خانہ جنگی کاسماں پیدا کرسکتا ہے اگر وزیر اعظم عمران خان نے مستعفی ہونے سے انکار کردی اور سول اداروں کی مدد کے لئے پاک فوج کو سڑکوں پر بلالیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کب  تک انکار پر بضد رہتی ہے، جوں جوں حکومت اس پر بضد ہوتی جائے گی توں توں اسلام آباد اور ملک میں انارکی کا امکان بڑھتا جائے گا اور پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ حکومت کے پاؤں اکھڑنا شروع ہو جائیں گے۔ یہ اعصاب کی جنگ ہے جسے وہی جیتے گا جو دودھ کو ٹھنڈاکرکے پینے کا روادار ہوا۔

ساکھ اب مولانا فضل الرحمٰن کی نہیں، کچھ اور حلقوں کی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ انہیں عوام کی نظر میں اپنی غیر جانبداری کو ثابت کرنا ہوگا، ان حلقوں میں میڈیا سرفہرست ہے جس کے ایک حصے کے اینکر پرسن اس پھپھے کٹنی کا کردار ادا کر رہے ہیں جو ہمدرد بن کر ٹوہ لگارہی ہوتی ہیں کہ مخالف کے ارادے کیا ہیں اور پھر اپنے حلقوں میں جا کر بتاتی ہیں کہ مخالفین کیا سوچ رہے ہیں۔

کمال ہے مولانا اور متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی کہ مختلف ٹاک شوز میں اپنا بھید نہیں دے رہے ہیں جبکہ اینکر پرسنوں کا ایک حلقہ نہ صرف الٹے سیدھے سوالات داغ رہا ہے بلکہ الٹا سیدھابھی ہوئے جا رہا تاکہ جان سکے کہ مولانا کا پلان بی اور سی کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ بلند کیا تھا تو مولانا فضل الرحمٰن بیلٹ باکس کے تقدس کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ اس وقت عدلیہ نشانے پر تھی آج کوئی اور ہے مگر مقصد ایک ہے کہ عوام کے حق رائے دہی کا احترام کیا جا ئے اور انہیں اس غلامی سے آزاد کیا جائے جو آزادی رائے اور آزادی اظہار رائے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اسی لئے اب ساکھ سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کی نہیں بلکہ کچھ اور حلقوں کی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ حلقے اپنی فیس سیونگ کس طرح کرتے ہیں!

دیکھا جائے تو اسلام آباد میں دھرنے کے نام پر سیاسی سرکس کا آغاز بھی انہی حلقوں کی شہہ پر ہوا تھا جس کو مہمیز عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کیا تھا جبکہ مولانا نے عروج پر پہنچادیا ہے۔ اس سے قبل صرف لانگ مارچ کی بات ہوتی تھی جو اس لئے ٹھس ہوجاتے تھے کہ چلتے رہنے کی وجہ سے ان کا وہ تاثر نہیں جمتا تھا جو دھرنے کے شرکاء کا ایک جگہ جم کر بیٹھ جانے سے جم جاتا ہے۔

عین ممکن ہے کہ اگر پیپلز پارٹی بھی عدلہ بچاؤ تحریک میں نواز شریف کے لانگ مارچ کو گوجرانوالہ سے آگے آنے دیتی تو اس کی بھی ہوا نکل جاتی، لیکن بھلا ہومقتدر حلقوں کا کہ انہوں نے نواز شریف کے لانگ مارچ کو ایکسپوز نہ ہونے دیا اور اس سے قبل ہی ججوں کی بحالی کا کام کروالیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی نو ستاروں والی سیاسی جماعتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نکلی تھیں اور آج نو ستارے عمران خان کے خلاف نکلے ہوئے ہیں۔

متحدہ اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے دھرنے سے لے کر پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے تک جس وحدت کا مظاہرہ کیا ہے اس کے سبب نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے بیانئے کو تقویت ملی ہے اور عوامی حلقوں میں باتیں ہونے لگی ہیں کہ بات تو ٹھیک ہے، یہ الگ بات کہ عوام میں سے کوئی بھی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کو تیار نہیں لگتا ہے۔

تاہم اب جس طرح مولانا نے اپنے جانثاروں کو اسلام آباد لے جاکر بٹھادیا ہے اس کے بعد ممکن ہے کہ میڈیا ہمت کرے اور کھڑا ہو جائے۔ اگرچہ جب نواز شریف میڈیا پرسنز سے کہہ رہے تھے کہ ہمت کرکے کھڑے ہو جائیں تب ایسا نہیں ہوا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا کی سوچ کیا رخ اختیار کرتی ہے"۔

مزید : قومی