74 سالہ معروف کاروباری کی حکام بالا سے نیب کی حراست سے فی الفور رہائی کی اپیل

74 سالہ معروف کاروباری کی حکام بالا سے نیب کی حراست سے فی الفور رہائی کی اپیل
74 سالہ معروف کاروباری کی حکام بالا سے نیب کی حراست سے فی الفور رہائی کی اپیل

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )معرو ف کاروباری شخصیت اقبال زید احمد نے نیب کی حراست سے فوری طور پر رہائی کی اپیل کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ان کی عمر ، طبی تاریخ ، ملکی معیشت میں کردار اور ثبوتوں کی کمی کو مد نظر رکھا جائے ۔

تفصیلات کے مطابق اقبال زید احمد نے اپنی اپیل میں جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کے بیان کو حصہ بنایاہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ” کسی بھی کاروباری شخصیت کو نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی جگہ سوالنامہ بھیجا جائے گا “۔انہوں نے کہاہے کہ ان سے نیب کے کسی بھی اہلکار کی جانب سے رابطہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی انہیں کوئی سوالنامہ بھیجا گیا ۔

کاروباری شخصیت اقبال احمد کو منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت نیب نے لاہور سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں کراچی لے جایا گیا ،جہاں انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ،یہ کیس اس کے دائر اختیار میں نہیں آتا تھا جیسا کہ اقبال زید احمد کی کمپنی کا ہیڈکواٹر لاہور میں تھا ،نیب اہلکاروں کو مناسب دائر اختیار والی عدالت میں لے جانے کا حکم دیا گیا ۔اس کے بعد انہیں حیدرآباد کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے ان کا ریمانڈ حاصل کیا گیا ۔

47 روزہ نیب کی حراست کے بعد کاروباری شخصیت کا 21 اکتوبر 2019 کو جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا تاہم دو نومبر 2019 کو ان کے جسمانی ریمانڈ میں 16 نومبر تک توسیع کی گئی ۔دو نومبر کو دوران سماعت انکوائری آفیسر نے پیشرفت پر مبنی رپورٹ پیش کی جس پر اقبال زید احمد کاکہنا ہے کہ یہ کئی جعلی بیانات پر مبنی ہے ۔

مزید : قومی