ملک کوبچانا ہے تو حکومت کوایک دن بھی نہیں دے سکتے، ،مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا

ملک کوبچانا ہے تو حکومت کوایک دن بھی نہیں دے سکتے، ،مولانا فضل الرحمان نے ...
ملک کوبچانا ہے تو حکومت کوایک دن بھی نہیں دے سکتے، ،مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ نااہلوںنے ایک بجٹ اور پیش کردیاتو ملک بیٹھ جائے گا ،ملک کوبچانا ہے تو حکومت کوایک دن بھی نہیں دے سکتے،حج پانچ لاکھ کاکردیا اورسکھوں کیلئے درشن بغےر ویزے اور پاسپورٹ کے کردیا ،12ربیع الاول کوسیرت طیبہ کانفرنس کریں گے ،قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپس لیا جائے ،یہ اجتماع تماش بینوں کا نہیں بلکہ موقف پرکھڑے ہونے والوں کاہے ۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ میرے لئے سب سے تکلیف دہ مراحل وہ تھے جب رات کوبارش برس رہی تھی اور آپ کھلے آسمان تلے استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے تھے ، آپ نے جس طرح ساری رات ٹھنڈی ہوا اوربارش کو برداشت کیا ، یہ اللہ کی طرف سے امتحان تھا اور حکمرانوں کیلئے پیغام تھا کہ یہ اجتماع کوئی عیاشی کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ استقامت کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کا اجتماع ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب ہم اس امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزرے ہیں تو آگے آنیوالے امتحانوں سے بھی کامیابی سے گزریں گے اور منزل پر پہنچ کر دم لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں کہ قوم موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے زندگی کوشرمندگی محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12ربیع الاول کو اس آزادی مارچ کو ہم سیرة طیبہ کانفرنس میں تبدیل کردیں گے جب ہم نے اپنی نسبت آقاﷺ کے ساتھ طے کردی ہے تو پھر خوف اور تزلزل میرے آقاﷺ کے قریب سے بھی نہیں گزرا اور آپﷺ نے فرمایا کہ خوف اور ایمان ایک جگہ نہیں رہ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک سال میں تین بجٹ پیش کئے اور پیش کرکے بھی یہ محصولات کاہدف پورا نہیں کرسکے اورسالانہ بجٹ نے بھی ملک کودیوالیہ پن کے قریب تر کردیاہے ،اگر اس نالائقوں کی حکومت نے اگلا بجٹ پیش کیا تو پاکستان بیٹھ جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو بچانے آئے ہیں ، روس امریکہ کے مقابلے میں ایک تگڑا ملک تھا لیکن جہاد افغانستان کے نتیجے میں اس کی اقصادی حالت ایسی ہوگئی کہ وہ اپنا وجو د برقرار نہیں رکھ سکا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس حکومت کومزید وقت دیں گے توملک کو نیچے لے کر جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ بار کے عہدیداران اور وکلاءکا شکر گزار ہوں کیونکہ وکلانے اس مارچ میں شرکت کرکے آزادی مارچ کے قانونی اور آئینی ہونے کوثابت کردیاہے ۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزادی کہاں ہے ، اگر شوکت صدیقی نے فیصلہ دیا تو کیا کیا گیا ؟ قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف اس حکومت نے ریفرنس دائر کیاہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے فیصلے حکمرانوں کے مفاد کے خلاف تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے ، اس ملک میں عدل و انصاف ہمارا مسئلہ ہے او ر قوم کا مسئلہ ہے ، قوم ملک میں آئین و قانون کی بالادستی دیکھنا چاہتی ہے ، حکومت کو یہ ریفرنس بھی واپس لینا پڑے گا ، دنیا کو کیا پیغام دیا جارہاہے کہ اگر کوئی جج عدل وانصاف کے مطابق فیصلہ کرتاہے تو اس کوگھر بھیجاجاتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جارہاہے کہ احتجاج عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق کریں ، کونسے فیصلوں کے مطابق کریں ؟ ایک فیصلہ شوکت صدیقی نے کیا تھا ، اس کا کیا حشر کردیا گیا اور ایک فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیا تواس کے خلاف ریفرنس دائر کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے جج کیخلاف بدنیتی پر مبنی اس ریفرنس کوختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چارسو اداروں کوختم کرنے کی بات کی گئی ہے جن اداروں سے ہزارہا لوگ وابستہ ہیں ، کہتے ہیں کہ حکومت سے نوکری کی توقع نہ کی جائے تو پھر کیوں جھوٹ بولاتھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے ، اس جھوٹ کی بنیاد پر بننے والی حکومت کوگرانے کیلئے نکلے ہیں ، یہاں کوئی مجرے نہیں ہورہے ، یہاں عزت دار لوگ بیٹھے ہیں ،یہ کوئی پکنک منانے نہیں آئے ہوئے، پہلے دھرنے میں جومناظر دیکھے تھے ، میری شرافت اجازت نہیں دیتی کہ ان کا تذکرہ کرسکوں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں لاکھوں لوگوں کو بیروز گار کردیا گیاہے ، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی گئی لیکن پچاس ہزار گھر گراتودیئے گئے لیکن ایک نئے گھر کی اینٹ بھی نہیں رکھی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ خبریں ہیں کہ افغانستان میں ہمارے سفارتکاروں سے ناروا سلوک کیا گیاہے لیکن وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی بات نہیں کی جارہی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کا بہت نقصان برداشت کرلیاہے ، 9نومبر علامہ اقبال کی پیدائش کا دن ہے لیکن ہمارے حکمران اس دن کرتار پور کا بارڈر کھول رہے ہیں ، کیا یہ 9نومبر کو رنجیت سنگھ کے نام پر منائیں گے ، کیا گورو نانک کے نام پر منائیں گے ، ان کا کہنا تھا کہ اس راستے کی زمینیں قادیانی خرید رہے ہیں ، حج پانچ لاکھ کا ہوچکاہے اور سکھوں کےلئے زیارت مفت اورپاسپورٹ کی شرط ختم کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم قوم کے حق کی جنگ لڑرہے ہیں اور یہ مطالبہ قومی مطالبہ ہے اور قوم اپنے مطالبے سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں ہے ، صوبے اپنا حق مانگ رہے ہیں ، وہ اپنے وسائل پر اپنا اختیار چاہتے ہیں ، کسی کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی صوبے کاحق مارسکے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر جاری ہے اورجاری رہے گا ، میں ان نوجوانوں کو جویہاں آئے ہیں ان کی استقامت کوسلام پیش کرتا ہوں۔ملک کوبچانا ہے تو حکومت کوایک دن بھی نہیں دے سکتے۔

مزید : اہم خبریں /قومی