درود وسلام کے فضائل وبرکات۔۔۔!!!

درود وسلام کے فضائل وبرکات۔۔۔!!!
درود وسلام کے فضائل وبرکات۔۔۔!!!

  

اللہ تعالی نے حضور نبی کریم ﷺ کو سارے جہانوں کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپﷺ کو تمام انبیائے کرام علیھم السلام کے آخر میں ختم نبوتﷺ کا تاج پہنا کر واضح براہین و روشن دلائل کیساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی بعثت سے سوئی ہوئی عقلوں کو جگایا،اندھی آنکھوں کو روشنی اور بہرے کانوں کو قوت سماعت بخشی اور ضلل مبین سے ہٹا کر صراط مستقیم پر گامزن فرمایا۔

اللہ تعالی کے عظیم احسان اور حضور خاتم النبیین ﷺ پر ایمان کا یہ لازمی تقاضہ ہے کہ محسن اعظمﷺ ،ہادی عالم ﷺ،شافع محشرﷺ حضور نبی کریم ﷺ کیساتھ جان ومال،اہل وعیال حتی کہ دنیاومافیھا کی ہر چیز سے بڑھ کر آپ ﷺ کیساتھ محبت وعقیدت کا لازوال رشتہ قائم کیا جائے۔حضور نبی کریم ﷺ کی مکمل اطاعت واتباع کیجائے اور اللہ تعالی کا حکم سمجھ کر آپﷺ پر کثرت سے درود وسلام بھیجا جائے۔ درود وسلام ایسی لازوال دولت ہے کہ جسے مل جائے اس کے دین و دنیا سنور جاتے ہیں۔ درود و سلام حضور نبی کریم ﷺ کی تعریف، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خزانہ، گناہوں کا کفارہ، بلندیِ درجات کا زینہ، قربِ خداوندی کا آئینہ، خیر و برکت کا سفینہ ہے۔ محفل و مجلس کی زینت، تنگ دستی کا علاج، جنت میں لے جانے کا سبب اور دوزخ سے نجات پانے کا ذریعہ ہے،عمل، دل کی طہارت، بلاؤں کا تریاق، روح کی مسرت، جسمانی و روحانی بیماریوں اور پریشانیوں کا علاج، غربت و افلاس کا حل اور شفاعت کی کنجی 

قرآن مجید میں درود وسلام پڑھنے کا حکم۔۔۔!!! 

سورۂ احزاب آیت نمبر (56)چھپن میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے کہ ترجمہ! بیشک اللہ(تعالی) اور اُس کے فرشتے نبی( اکرم ﷺ ) پر رحمت بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو! تم بھی نبی(اکرم ﷺ) پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔ 

اس آیت شریفہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجا کریں مگر اسکی تعبیر  فرمائی کہ پہلے اللہ تعالٰی نے خود اپنا اور اپنے فرشتوں کا رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا ذکر فرمایا،اس کے بعد مؤمنین کو اس کا حکم دیا۔ آپ ﷺ کے شرف اور عظمت کو بیان فرمایا کہ جس کام کا مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے، وہ کام ایسا ہے کہ خود اللہ تعالی اور اس کے فرشتے بھی وہ کام کرتے ہیں۔

جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ! سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں ،ہم درود کیسے بھیجیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا تم یوں کہا کرو !  "اللھم صل علی محمدو علی آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید :اللھم  بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید۔(بخاری شریف 3370)

ترجمہ! اے اللہ!رحمت خاص نازل فرما ( حضرت )محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر،جیسا کہ آپ نے رحمت نازل فرمائی (حضرت) ابراھیم (علیہ السلام ) پر اور ان کی آل پر،بیشک آپ تعریف کے لائق اور بزرگ و بَرتَر ہیں،اے اللہ!برکت نازل فرما (حضرت) محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر،جیسا کہ آپ نے برکت نازل فرمائی (حضرت )ابراھیم (علیہ السلام ) پر اور ان کی آل پر،بیشک آپ تعریف کے لائق اور بزرگ و بَرتَر ہیں۔

قارئین کرام! سب سے افضل درود یہی درود شریف ہے جو خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو سکھلایا تھا اور درود شریف کے سب سے زیادہ بابرکت الفاظ بھی وہی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی لسانِ مبارک سے نکلے کیونکہ آپ ﷺ وحی کے بغیر کلام نہیں فرماتے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہے کہ جب تم رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجو،تو اچھے طریقہ سے درود بھیجو۔(سنن ابن ماجہ 806)

درود شریف پڑھنے کی فضیلت احادیثِ مطہرہ کی روشنی میں۔۔۔!!

۱-حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اُس (شخص) پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔(مسلم شریف 409)

۲-حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے،اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے،اور اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے،اور اسکے دس درجات بلند فرما دیتا ہے۔(صحیح الجامع 6359)

۳-حضرت سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت بھی دس مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اُسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔ ( صحیح الجامع 6357 )

کثرتِ درود شریف کی وجہ سے بروزِ قیامت حضور نبی کریم ﷺ کی قربت ۔۔۔۔!

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن،لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ (مؤمن) ہو گا،جو مجھ پر زیادہ درود بھیجتا ہوں۔(سنن ترمذی 484) 

۴-حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم آپ ﷺ پر درود کس طرح بھیجیں ؟ تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح بھیجو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرٰھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ ترجمہ! اے اللہ!رحمت خاص نازل فرما حضرت محمد ﷺپر اور اُنکی ازواج پر ،اور انکی اولاد پر،جیسا کہ آپ نے رحمت نازل فرمائی حضرت ابراھیم (علیہ السلام )کی آل پر اور برکت نازل فرما حضرت محمد ﷺپر اور ان کی ازواج پر اور انکی اولاد پر، جیسا کہ آپ نے برکت نال فرمائی حضرت ابراھیم (علیہ السلام )کی آل پر ،بیشک آپ تعریف کے لائق اور بزرگ وبَرتَر ہیں ۔( مسلم شریف 407 ،بخاری شریف 3369)

اللہ تعالی کی طرف سے درود وسلام پڑھنے والے پر رحمت وسلامتی کا نزول ۔۔۔۔۔! 

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ باہر تشریف لائےاور میں آپﷺ کے پیچھے چلا،یہاں تک کہ آپ ﷺ کھجور کےباغ میں داخل ہو گئے،پھر آپ ﷺ نے سجدہ فرمایااور بہت طویل سجدہ فرمایا، یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو وفات دے دی،یا آپ ﷺ کی روح قبض فرما لی،پھر میں( حضور نبی کریم ﷺ کے قریب ) آیا، تاکہ میں قریب سے دیکھوں،پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر مبارک اُٹھایا اور فرمایا اے عبدالرحمن (رضی اللہ تعالی عنہ)!آپ کو کیا ہوگیا۔۔۔؟ تو میں نے یہ( اپنے دل کی) بات آپ ﷺ سے عرض کی، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیشک جبریل علیہ السلام نے مجھے بتایا کہ کیا میں آپ ﷺ کو یہ خوشخبری نہ سُنا دوں کہ بیشک اللہ تعالی آپ کیلئے یہ فرماتا ہے کہ جو آپ ﷺ پر درود بھیجے گا،میں اس پر رحمت نازل کروں گا،اور جو آپﷺ پر سلام بھیجے گا ، میں اس پر سلامتی نازل کروں گا ۔ (مسند احمد 1662)

اور اسی مسند احمد کی یہ روایت بھی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ بیشک جبریل (علیہ السلام ) میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جو آپﷺ پر درود بھیجے گا ،میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو آپﷺ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کرونگا ،تو اس(نعمت و انعام کے حاصل ہونے) پر میں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کیا۔( مسند احمد 1664)

 مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام پڑھنے کا حکم ۔۔۔۔!

سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو اُسید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو (حضور) نبی (کریم ﷺ) پر سلام کہے۔(سنن ابی داؤد 465) 

 آپ ﷺ کے روضہ اقدس پر سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنھما پر درود وسلام پڑھنے کا حکم۔۔۔۔!!!

حضرت عبداللہ بن دینار رحمتہ اللہ تعالی روایت کرتے ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما کو حضور نبی کریم ﷺ کے مزارِ اقدس کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا اور وہ نبی کریم ﷺ اور (حضرت ) ابوبکر ( الصدیق) رضی اللہ تعالی عنہ اور ( حضرت ) عمر (الفاروق ) رضی اللہ تعالی عنہ پر درود ( وسلام ) پڑھتے تھے۔ (مؤطا امام مالک 166)

درود شریف کثرت سے پڑھنے کی برکات ۔۔۔۔۔۔!!!

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! میں آپﷺ پر زیادہ درود پڑھتا ہوں تو آپﷺ کا کیا خیال ہے کہ میں آپﷺ پر کتنا درود پڑھوں ؟ آپ ﷺنے فرمایا  جتنا چاہو، میں نے عرض کیا چوتھا حصہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا  جتنا چاہو  اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا آدھا حصہ ۔۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا  جتنا چاہو  اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا دو تہائی ۔۔۔؟  آپﷺ نے فرمایا  جتنا چاہو  اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا میں آپ ﷺ پر درود ہی پڑھتا رہوں تو۔۔۔۔۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا ! تب آپ کی پریشانی دور کرنے کیلئے یہ کافی ہو گا اور آپ کے گناہ معاف کر دیئے جائینگے۔ (ترمذی شریف 2457) 

آپ ﷺ پر درود شریف نہ پڑھنے والے پر سخت وعید۔۔۔!

۱-حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کے رسول ﷺ نے ہمیں منبر کے پاس جمع ہونے کا حکم دیا،جب ہم منبر کے پاس جمع ہوئے تو آپ ﷺ نے اسکی پہلی سیڑھی پر قدم(مبارک) رکھا اور فرمایا آمین پھر دوسرے زینہ پر قدم(مبارک)رکھا اور فرمایا آمین اسی طرح تیسرے زینے پر قدم (مبارک)رکھنے کے بعد فرمایا آمین ؛ جب (خطبہ کے بعد) آپ ﷺ منبر سے اُترے تو ہم نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسولﷺ !آج ہم لوگوں نے آپ ﷺ کی زبان(مبارک) سے ایسی بات سُنی جو اس سے پہلے سننے میں نہیں آئی تھی۔ آپ ﷺنے فرمایا،اس وقت میرے سامنے جبریل(امین علیہ السلام) نمودار ہوئے اور انہوں نے کہا دور ہو (اللہ تعالی کی رحمت سے) وہ شخص جس نے رمضان جیسا بابرکت مہینہ پایا اور اسکی مغفرت نہیں ہو سکی تو میں نے آمین کہا،پھر جب میں نے دوسرے زینہ پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا کہ ( اللہ تعالی کی رحمت سے )دور ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ ﷺ کا تذکرہ آئے اور وہ آپ ﷺ پر درود نہ پڑھے میں نے (اُن کی اس بددعا پر بھی ) آمین کہا جب میں نے تیسرے زینہ پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا (اللہ تعالی کی رحمت سے )دور ہو وہ شخص جس نے اپنے والدین کو ضعف و بڑھاپے کے ایام میں پایا اور وہ دونوں اسے جنت میں داخل نہ کروا سکے( یعنی وہ شخص اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کر کے خود کو جنت کا مستحق نہیں بنا سکا) میں نے (جبریل امین علیہ السلام کی اس تیسری بددعا پر )آمین کہا۔( مستدرک حاکم4 /153-154 شعب الایمان 2/210 حدیث نمبر 1572) 

اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ منبر پر جلوۂ افروز ہوئے اور آپﷺ نے تین مرتبہ (آمین )فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبریل (امین علیہ السلام) آئے اور انہوں نے آ کر کہا اے محمد ﷺ! جو آدمی اپنے والدین (دونوں یا ان )میں سے کسی ایک کو پائے ( پھر ان سے نیکی نہ کرے ) پھر وہ مر جائے اور جھنم میں چلا جائے تو اللہ تعالی اُسے (اپنی رحمت سے ) دور کر دے۔آپ ﷺکہیں آمین تو میں نے کہاآمین، پھر انہوں نے کہا اے محمدﷺ ! جس شخص نے ماہ رمضان پایا پھر وہ اس حالت میں مر گیا کہ اسکی مغفرت نہیں کی گئی اور وہ جھنم میں داخل ہو گیا تو اللہ اُسے بھی (اپنی رحمت سے) دور کر دے۔آپ ﷺ کہیں آمین، میں نے کہا آمین ، انہوں نے کہا کہ جس شخص کے پاس آپ ﷺ کا ذکر کیا گیا اور اُس نے آپ ﷺ پر درود نہیں پڑھا پھر اُسکی موت آگئی اور وہ جھنم میں چلا گیا تو اللہ تعالی اُسے بھی (اپنی رحمت سے ) دور کر دے۔آپﷺ کہیں آمین تو میں نے کہا آمین ۔ (ابن حبان ج 3,صفحہ 188, 907 -صحیح الترغیب والترھیب 2491)

آپ ﷺ پر درود شریف نہ پڑھنے والا شخص بخیل ہے۔۔۔۔۔!!

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بخیل ہے وہ شخص،جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے،پھر وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ (ترمذی 3546,مستدرک حاکم 2015,مسند احمد 1736,مسند ابی یعلٰی 6776)

روزِ قیامت باعثِ حسرت وندامت مجالس۔۔۔۔!!

۱-حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ کسی ایسی مجلس میں بیٹھتے ہیں جس میں وہ اللہ تعالی کا ذکر نہیں کرتے اور نبی کریم ﷺ پر درود نہیں پڑھتے تو قیامت کے دن یہ مجلس(اجرِ عظیم سے محرومی کی وجہ سے) اُن کیلئے حسرت کا باعث ہو گی،اگرچہ وہ ثواب کیلئے جنت میں بھی داخل ہو جائیں۔ ( مسند احمد 464) 

۲-حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، لوگ جس مجلس میں بیٹھتے ہیں،اگر اُس میں اللہ تعالی کا ذکر نہیں کرتے اور اپنے نبی ( اکرم ﷺ) پر درود نہیں پڑھتے تو اُن کی مجلس قیامت کے دن اُن کیلئے (باعث ) حسرت ہو گی ،اگر (اللہ تعالی نے) چاہا تو انہیں معاف کر دے گا  اور اگر چاہا تو پکڑ لے گا۔ (ترمذی 3380)

سلام پہنچانے کیلئے فرشتوں کا روئے زمین پر گشت کرنا ۔۔!!!

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ ،اللہ تعالی کے فرشتے زمین میں گشت کرتے ہیں،جو کہ میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔(مسند احمد,3666)حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہیکہ ہم جب پہلے نماز میں التحیات پڑھتے تھے،تو ہم ایک دوسرے کا نام لیکر اسکو سلام کیا کرتے تھے جب رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا تم اس طرح سلام پڑھا کرو ، اس کے نتیجے میں آسمان و زمین میں جتنے بھی اللہ کے صالح بندے ہیں،ان سب پر تمہاری طرف سے سلام ہو جائے گا۔ 

 ترجمہ: تمام قولی، بدنی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی(ﷺ)!اور اللہ کی رحمت اور اُسکی برکتیں (آپﷺ پر نازل ہوں )،ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام صالح بندوں پر ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ) اللہ تعالی کے بندے اور اسکے رسول(ﷺ) ہیں ۔( بخاری شریف،1202)

؀ ہوں کروڑوں سلام اس آقا ﷺ پر ، بت لاکھوں جس نے توڑ دیئے 

دنیا کو دیا پیغام سکوں ، طوفانوں کے رُخ موڑ دیئے 

اس محسن اعظم ﷺ نے کیا کیا نہ دیا انسانوں کو 

دستور دیا، منشور دیا، کئی راہیں دیں کئی موڑ دیئے

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -