تبدیلی آئی مہنگائی لائی

  تبدیلی آئی مہنگائی لائی
  تبدیلی آئی مہنگائی لائی

  

سال 2016ء کی بات ہے جب وطن عزیز پر مسلم لیگ کی حکومت تھی جس وقت پاکستان مسلم لیگ کو ملا ہے اس وقت جو حالات تھے وہ ساری قوم کے سامنے ہیں ڈیرے دار کے خیال میں قوم کو یاد ہو  گا کہ سارے ملک میں دہشت گردی کے گہرے بادل چھائے رہتے تھے بم دھماکے، فائرنگ،فرقہ وارانہ فسادات روز کی باتیں وطن عزیز کا ہر دن گزرے ہوئے دن سے زیادہ بدتر اور بھیانک تھا سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس کے ناکے تھے،سی این جی، پیٹرول ڈیزل کیلئے گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑے ہونامعمول تھا۔

ملک کو بیس سے با ئیس گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا انڈسٹری برباد ہو چکی تھی انٹرنیشنل بایئر پاکستان سے جا چکا تھا۔ سوئی گیس کی قلت پیدا کر دی گئی تھی لاقانونیت،مہنگائی، بے روزگاری، اپنے عروج پر تھی ملک میں قومی ایئرلائن، ریلوے اسٹیل مل سمیت  تمام انڈسٹری بند پڑی تھی ایکسپورٹ نام کی کوئی چیز ملک میں موجود نہیں تھی ان پانچ سالوں میں ملک میں کوئی ایک بھی بڑا پروجیکٹ شروع نہ ہو سکا پیپلز پارٹی کی حکومت ملک کو تباہی اور بربادی کی گہرائیوں میں جھونکنے کے بعد گارڈ آف آنرز لے کر گھر  چلی گئی۔

الیکشن ہوئے مسلم لیگ ن جیتی تو ان کے سامنے پاکستان کے بجائے مسائلستان  تھا ان کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو ملک کو تباہی اور بربادی کی دلدل میں رہنے دیتے اور عوام کو جھوٹ،مکاری سبز باغ دکھاتے اور اپنی مقررہ مد ت پوری کرتے اور چلے جاتے یا پھر پہلے دن سے پلاننگ کر کے کام کرتے ملک کو مسائل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتے  اور عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے گھر بنا لیتے  حکومت نے دوسرا راستہ اپنایا دن رات محنت کی اچھی  پلاننگ کی اچھی ٹیم اکٹھی کی اور کام شروع کر دیا حکومت کو ا بھی  دو یا تین سال ہی  ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف دھرنا دے دیا ان کے راستے میں ہر طرح کی رکاوٹیں ڈالی گئیں ان کے جاری و ساری پروجیکٹ پر سٹے آ رڈر لئے جس سے حکومت کا بے پناہ وقت ضائع ہوا اس کے ساتھ ساتھ تعمیراتی اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

حکمران جماعت کے سامنے پھر سے دور راستے  تھے  یا تو وہ اپنے تمام پروجیکٹ  چھوڑ کر اپوزیشن جماعتوں سے الجھتے  پھرتے یا پھر انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر کام کرتے رہتے ہیں یہاں پر بھی مسلم لیگی حکومت نے دوسرا راستہ ا پنایا۔

ہمارے آج کے موضوع میں سابقہ حکومت کے کسی پروجیکٹ کی بات کرنا شامل نہیں ہے۔آج ڈیرے دار آپ کے سامنے صرف اشیائے خوردونوش کا موازنہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا تعلق کسی امیر کبیر گھرانے سے نہیں بلکہ پاکستان کے غریب عوام سے ہے آج کے کالم میں صرف اشیائے خوردونوش کی بات کریں گے اور ایک موازنہ پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ عام فہم آدمی بھی سمجھ سکے۔چینی پچاس سے ایک سو بیس روپے فی،کلو،گھی ایک سو چالیس سے  تین سو اسی روپے فی کلو، آٹا تیس سے پچپن، دال چنا پینسٹھ سے ایک سو چالیس،دال ماش ایک سو اسی روپے سے  دو سو اسی،دال مونگ پچھتر سے ایک سو پچاس،دال مسور پینسٹھ سے ایک سو اسی، لوبیا اسی سے دو سو پچاس، سرخ مرچ  دو سو پچاس سے چھ سو، ہلدی ایک سو چالیس سے دو سو پچاس، چاول پچھتر سے  ایک سو اسی، واشنگ پاؤڈر دو سو پچاس سے تین سوتیس  اگر ہم سبزیوں کی بات کریں تو، کدو بیس سے ایک سو بیس،آ لو دس سے اسی بینگن  دس سے سو، بھنڈی بیس سے سو، ٹماٹر بیس سے ایک سو ساٹھ، انگور سو سے دو سو، کیلا بیس سے سا ٹھ، سیب چالیس سے دو سو پچاس، چکن ایک سو سا ٹھ  سے تین سو پچا س، بیف چار سو سے آٹھ سو،مٹن آٹھ سو سے چودہ سو پٹرول اٹھا سٹھ، سے ایک سو پینتالیس، بجلی فی یونٹ چودہ سے ا ٹھا ئیس، گیس فی کلو نوے سے دو سو پچاس، لکڑیوں کا بالن فی من دو سو پچاس سے چھ سو ۔

یہ چند چیزیں جو آپ کے گوش گزار کی تھیں  باقی بہت سی چیزیں آپ خود سے بھی جانتے ہیں اس کالم میں ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ تمام قیمتیں تحقیق کے بعد درج کی جائیں جب قوم کو یہ تمام تر چیزیں سستے داموں میسر تھی کاروبار چل رہے تھے لیکن موجودہ حکومت کو وہ تمام قیمتیں  زیادہ محسوس ہوتی تھیں اس وقت بھی فیس بک پر موجود ہ حکومت کے اکا دکا  حمایتی اکثر قیمتوں میں اضافے کے فضائل بیان کرتے نظر آتے ہیں ان کی دلیلوں میں سے اہم دلیل یہ ہوتی ہے کہ جب ملک ترقی کر رہے ہوتے ہیں تو اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے ان دوستوں سے مودبانہ اپیل ہے کہ برائے کرم قوم کو اپنی دانائی اور فہم کی روشنی میں یہ بتائیں کہ ان تین سالوں میں ملک نے کس فیلڈ میں ترقی کی ہے۔

یہ وہ حالات تھے جو آپ کی خدمت میں پیش کئے گئے ہیں اس ماتم کا  شاید کوئی خاطر خواہ فائدہ تو حاصل نہ ہو سکے لیکن مجھے یقین ہے کے این اے 123 میں ہونے والے الیکشن میں ووٹ دینے کے لئے جانے والے میرے غیور ہم وطن ووٹ دینے سے پہلے اس موازنے کو ذہن میں ضرور رکھیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -