حضرت میاں جمیل احمد شرقپوریؒ

حضرت میاں جمیل احمد شرقپوریؒ

  

                                                فخر المشائخ حضرت الحاج صاحبزادہ میاں جمیل احمد نقشبندی مجددی شرق پوری ؒ 3فروری1933ء27شوال المکرم1351ھ بروز جمعرات شرقپور شریف میں متولد ہوئے۔ حضرت ثانی لاثانی میاں غلام اللہ نقشبندی مجددی شرقپوری ؒ نماز فجر ادا فرما کر گھر آئے تو فرزند ارجمند کی ولادت باسعادت کی بشارت سے شاد کام ہوئے۔

بوقت پیدائش ہی آپ کی جبین ِ جمیل سے بزرگی اورولائیت کے آثار نمایاں تھے۔ آپ کے رُخِ انور سے مقدر کا ستارہ چمک رہا تھا، یعنی آپ کے چہرہ¿ منور سے تابناک مستقبل کی نشانیاں روشن تھیں۔ حضرت ثانی لاثانی ؒ نے آپ کا نام نامی اسم ِ گرامی جمیل احمد رکھا اور از خود آپ کے مبارک کانوں میں اذان اور اقامت فرمائی۔

تعلیم و تربیت:

جب آپ نے سن شعور میں قدم رکھا تو سب سے پہلے آپ نے قرآن مجید ناظرہ مکمل فرمایا، بعدہ، آپ نے والد ماجد ؒ سے گلستان، بوستان پڑھی اور ابتدائی اسلامی تعلیم سے فراغت کے بعد دیگر علوم و فنون عربیہ کی طرف توجہ فرمائی۔ عصری تعلیم کا آغاز سات سال کی عمر میں پرائمری سکول شرقپور شریف سے کیا اس دور میں عموماً ہر سکول، کالج میں مسلمان اساتذہ کرام کے ساتھ ہندو، عیسائی، سکھ ٹیچر بھی ہوا کرتے تھے، مگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم کی نگاہ کرم سے صرف اور صرف صحیح العقیدہ مسلمان اساتذہ سے پڑھنے کی سعادت سے بہرہ مند کیا۔

آپ فطرتاً خاموش طبع اور علم سے لگاﺅ کے باعث عام بچوں سے ہمیشہ الگ الگ رہتے، کھیل کود سے قطعاً لگاﺅ نہیں تھا، گھر سے سکول اور مسجد میں نمازیں، یہی آپ کے شب و روز کا معمول تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے جہاں متعدد تحریکوں کا آغاز فرمایا، ان میں تحریک نماز کے بانی ہونے کا بھی شرف آپ کو حاصل ہے۔ وہ یوں کہ آپ نے نماز کی کتابیں، ملاقات، اشتہار اور سٹیکرز کے ذریعے لوگوں کو نماز پڑھنے کی تبلیغ بڑی رغبت سے فرمائی۔ شرقپور سے میٹرک کے بعد علم طب میں مہارت حاصل کی، مگر آپ نے دنیوی طبابت کی بجائے روحانی طبیب ہونے کے ناطے سے بین الاقوامی شہرت پائی۔

حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد نقشبندی ؒ کو طریقت کی منازل طے کرنے میں قطعاً کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ جیسے حضرت شیر ربانی ؒ نے اپنے برادر اصغر حضرت ثانی لاثانی ؒ کو اپنی نگاہِ خاص سے روحانیت کی معراج سے سرفراز فرمایا تھا ویسے انہوں نے اپنے فرزند گرامی کو اسی نعمت سے بہرہ مند کرتے ہوئے اپنے دست کرم پر بیعت کرتے ہی ایسی دولت عرفان کا قاسم بنایا کہ زیست بھر نعمتیں تقسیم فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ عالم برزخ میں ان نعمتوں کی تقسیم کے لئے قیام پذیر ہو گئے۔

میاں جمیل احمد نقشبندی مجددی شرقپوری ؒ کی زندگی کے معمولات نہایت اعلیٰ، عمدہ، پاکیزہ تھے، وقت کی قدر جانتے اور جنواتے بھی تھے۔ آپ نے جن حالات میں اس روحانی مشن کو سنبھالا وہ بے حد نازک تھے۔ تاہم آپ نے ایسی راہ اپنائی جس سے ہر سلسلے طریقت کے اکابر نے تحسین و تبریک سے آپ کا خیر مقدم کیا۔ تحریک پاکستان کے وقت آپ جوانی کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ گویا تحریک پاکستان کے عروج کو آپ نے باقاعدہ ملاحظہ فرمایا اور پھر تحریک ختم نبوت کے وقت تو آپ جوانی میں قدم رکھ چکے تھے اس دور میں جوانوں کا ولولہ اور جذبہ قابل قدر تھا۔ آپ نے بھی جہاں تک ممکن تھا اپنے عمدہ جذبات کو بروئے عمل لانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

تحریک نظام مصطفی علیہ التحیتہ والثناءمیں آپ نے عملاً قیادت فرمائی اور جمعیت العلمائے پاکستان پنجاب کی صدارت کو آپ نے زینت بخشی اور قومی اسمبلی کا انتخاب پاکستان کے مشہور شہر قصور سے لڑا نیز تحریک ختم نبوت1974ءمیں قیادت فرماتے ہوئے سنت ِ یوسفی کی ادائیگی سے بہرہ مند ہوئے اور قید و بند کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کی، الغرض پاکستان کا چپہ چپہ، قریہ قریہ، قصبہ قصبہ، شہر شہر آپ کے قدوم میمنت لزوم سے شادکام ہوا۔

آپ نے تحریک مجدد الف ثانی کا جب آغاز فرمایا تو عشق کی حد تک اس سے لگاﺅ رکھا۔ اس تحریک نے بڑی شاندار کامیابی حاصل کی اور جگہ جگہ اس تحریک کے زیر اہتمام محافل میلاد مصطفی یوم صدیق اکبر ؓ، یوم فاروق اعظم، یوم شاہ نقش ہند، یوم مجدد الف ثانی، یوم شیر ربانی، عرس حضرت ثانی لاثانی اور دیگر ایام مبارکہ کو نہایت کامیابی سے مناتے رہے، نہ صرف پاکستان، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس تحریک کے اثرات نے اہل محبت کو ان ایام کے شان شایان طریقہ سے منانے کی راہ پر گامزن فرمایا۔ آپ نے اس سلسلے میں ہندوستان، افغانستان، تاشقند، بخارا، روس، چیچنیا، ایران، عراق، ترکی، شام، اردن، فلسطین، مراکش، یمن، ایسے اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ یورپین ممالک برطانیہ، امریکہ، ہالینڈ، جرمنی، فرانس، چین وغیرہ کے بھی دورے فرمائے اور تحریک حضرت مجدد الف ثانی کو بام عروج تک پہنچایا، نیز آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں بیش عمرے اور متعدد حج کئے۔ حجاز مقدس، حرمین شریفین، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ میں جہاں جہاں قیام فرما ہوئے، موقعہ بہ موقعہ ختم شریف مجدد، نقشبندیہ کا اہتمام فرماتے۔

آپ نے تبلیغ کے لئے ہر شعبہ کو اپنایا اور اسے عروج تک پہنچایا، سب سے پہلے ماہنامہ ”نورالاسلام“ شرقپور شریف سے جاری فرمایا، جو بعداز وصال بھی باقاعدگی سے جاری و ساری ہے۔ پچاس سالہ گولڈن جوبلی پر تین جلدوں پر ”نورالاسلام“ کا خصوصی نمبر شائع کیا گیا۔ ماہنامہ ”نورالاسلام“ کے متعدد خصوصی شمارے نمبروں کی صورت میں اہل علم و قلم کے لئے ہمیشہ تاریخی کردار ادا کرتے رہیں گے، جن میں شیر ربانی نمبر، امام اعظم نمبر، اولیائے نقشبند نمبر اور امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی پر ضخیم و عظم تین مجلدات پر مشتمل نمبر شامل ہیں۔ آپ کے مبارک قلم سے درج ذیل کتابیں ہمیشہ آپ کی یاد کو تازہ کرتی رہیں گی۔ مسائل نماز، تذکرہ حضرت امام اعظم ؒ، ارشادات مجدد الف ثانی ؒ، عربی گرائمر، تذکرہ مشائخ نقشبند (تین جلد) مجدد الف ثانی(تین جلد) علاوہ ازیں، ماہنامہ ”نورالاسلام“، ہفت روزہ اخبار ”مجدد“، (ماہنامہ شیر ربانی میگزین انگلش)۔

مساجد کو اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریمﷺ نے ہجرت مدینہ میں سب سے پہلے اپنی قیام گاہ ، قبا شریف میں مسجد قبا کی بنیاد رکھی اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مدینہ طیبہ تشریف فرما ہوئے، تو اپنے کاشانہ مبارکہ بنانے سے قبل مسجد نبوی کی بنیاد رکھی اور تعمیری مراحل میں از خود صحابہ کرام ؓ کے شانہ بشانہ کام سرانجام دیا۔ حضرت شیخ المشائخ الحاج میاں جمیل احمد شرقپوری مجددی نقشبندی ؒ کے سامنے تاریخ کا یہ رُخ بھی تھا، چنانچہ آپ نے جب مساجد کی تعمیرات کی طرف توجہ فرمائی تو 63کی تعداد میں چھوٹی بڑی مساجد پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں تعمیر کرائیںاور نہایت دلچسپی سے تعمیری مراحل کی نگرانی فرماتے رہے۔ یوں ہی کئی شہروں اور قصبوں میں مدارس قائم کئے، جبکہ دارالمبلغین حضرت میاں صاحب ؒ کے نام سے تین منزلہ عظیم الشان دارالعلوم شرقپور شریف میں تدریس و تعلیم میں مصروف عمل ہے۔     ٭

کچھ عرصے سے ”زیادتی“ یا جنسی تشدد کے واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔ یہ ”واقعات“ جس تسلسل سے رونما ہوئے ہیں،یہ اس بات کی غمازی ہے کہ ہمارا معاشرہ کتنا انحطاط پذیر ہو چکا ہے۔ انسان جرم یا ”زیادتی“ کی انتہاﺅں تک جا سکتا ہے، اس کا تصور کرنا بھی ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے۔ حالیہ دنوں

مزید :

کالم -