بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں گائے کے گوشت پر عائد پابندی دو ماہ کےلئے معطل کر دی

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں گائے کے گوشت پر عائد پابندی دو ماہ ...
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں گائے کے گوشت پر عائد پابندی دو ماہ کےلئے معطل کر دی

  

نئی دہلی (اے این این) بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں کشمیر کے ہائیکورٹ کی جانب سے گائے کے گوشت پر پابندی کا حکم دو ماہ کیلئے معطل کر دیا۔ پیر کو مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی استدعا پر بھارت کی سپریم کورٹ نے وادی میں گائے کے گوشت کی خریدو فروخت اور کھانے پر لگائی گئی پابندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں کشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو حکم دیا کہ دو ججز پر مشتمل بنچ کے متنازع احکامات کے بعد گائے کے گوشت کی فروخت کا مسئلہ حل کرنے کیلئے تین ججز پر بنچ کے قیام کا حکم دے دیا ۔اس سے قبل مقبوضہ جموں کشمیر اسمبلی میں پیر کے روز نیشنل کانفرنس اور کانگریشن کے اراکین نے گائے کے گوشت پر پابندی کیخلاف اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی جس کے بعد اجلاس کی کارروائی (آج)منگل تک ملتوی کرنا پڑی۔

نیشنل کانفرنس کے اراکین نے اسمبلی کے میزوں پر چڑھ کر مفتی سعید کی کٹھ پتلی سرکار کےخلاف ”مذہبی معاملات میں مداخلت بند کرو“کے نعرے لگائے ۔عمر عبداللہ نے مفتی سعید کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کےساتھ کھلواڑ کرنے کا ذمہ دار قرا ردیتے ہوئے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ گائے کے گوشت پر پابندی کے قانون کو اسمبلی کے ذریعے کالعدم قرار دیا جائے لیکن مفتی سعید نے اپنی حکومت بچانے کیلئے اس معاملے کو بھارتی سپریم کورٹ میں ریفر کردیا ۔

مزید : بین الاقوامی