نوراتری کے موقع پر 'ہندو لڑکیوں کی حفاظت کےلئے’ مسلمانوں کی شمولیت پر پابندی عائد

نوراتری کے موقع پر 'ہندو لڑکیوں کی حفاظت کےلئے’ مسلمانوں کی شمولیت پر ...
 نوراتری کے موقع پر 'ہندو لڑکیوں کی حفاظت کےلئے’ مسلمانوں کی شمولیت پر پابندی عائد

  

راجکوٹ (آئی این پی) بھارت کے علاقے کچھ میں نوراتری کے موقع پر 'ہندو لڑکیوں کی حفاظت کےلئے” گربہ “میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی سخت گیر جماعت کی جانب سے یہ فیصلہ 'لو جہاد' کے پیش نظر کیا گیا۔ نو روز تک جاری رہنے والا نوراتری کا تہوار ہندو دیوی درگاہ کے احترام میں ہر سال منایا جاتا ہے جس کے دوران نوجوان روایتی ملبوسات پہن کر رقص کرتے ہیں۔نوراتری پر بھارت کے مختلف علاقوں میں جشن منایا جاتا ہے جبکہ عیسائیوں اور مسلمانوں کی جانب سے بھی اس میں حصہ لینا عام بات ہے۔

ہندو یووا سنگٹھن کے صدر جو کہ مندوی تحصیل میں وشوا ہندو پریشد کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا ہے کہ تقریب میں شامل ہونے سے قبل تمام افراد پر گائے کا پیشاب چھڑکا جائے گا جبکہ ماتھے پر تلک بھی لگایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایسا کرنے میں ہچکچائے گا تو اسے تقریب میں شامل نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال بھی دیگر مذاہب کے لوگوں کے شامل ہونے پر پابندی عائد کی تھی تاہم اس سال پابندی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پیشرفت پر ناراضی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مانڈوی میں ہندو اور مسلمان دہائیوں سے پرامن انداز میں رہ رہے ہیں جہاں ہندو روزہ رکھتے ہیں جبکہ مسلمان گنیش چتھرتھی میں حصہ لیتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی پابندیوں سے ماحول خراب ہوتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی