ہندو انتہا پسندی کے خلاف راجوری میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی

ہندو انتہا پسندی کے خلاف راجوری میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی

سری نگر(کے پی آئی) انتہا پسند ہندووں کی طرف سے گھریلو ضرورت کیلئے بھینس لیجارہے شہری اوراس کی اہلیہ پر تشدد کے خلاف راجوری میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ۔ ا س دوران تجارتی مراکز اور دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکیں سنسان نظرآئیں۔واضح رہے کہ 27ستمبر کو تھنہ منڈی کے نیروجال علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری عبدالحمید اوراس کی اہلیہ کی اس وقت کچھ شرپسندوں کی جانب سے نشانہ بنایاگیااور ان کی پٹائی کی گئی جب وہ گھریلو ضرورت کے لئے بھینس لیکر سلانی پل سے گزر رہے تھے ۔ مقامی پولیس نے شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ ہڑتال کے دوسرے روز بھی تجارتی مراکز اور دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا۔اس دوران ایتی ،درہال ، نیروجال اور تھنہ منڈی سڑک پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ۔اگرچہ ایک مقامی زیارت پر عرس شریف کی وجہ سے دوروز بند کو مزید نہیں بڑھایاگیاتاہم اکثریتی طبقہ کی لگ بھگ چار گھنٹے کی میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ لیاگیاکہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل جلد طے کیاجائے گا۔

مزید : عالمی منظر