حکومت نے ہندوجماعتوں کوجموں کے مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے‘انجینئر رشید

حکومت نے ہندوجماعتوں کوجموں کے مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے کی چھوٹ دے رکھی ...

سری نگر(کے پی آئی)ممبراسمبلی لنگیٹ اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ کئی روز گزرنے کے باوجود ان شر پسند عناصر کو گرفتار نہیں کیا جارہا ہے جنہوں نے ایک معصوم شہری عبدالحمید اور اس کی اہلیہ کو صرف اس لئے موت کے دھانے پرپہنچا دیا کیونکہ وہ اپنی بھینس لے کرکہیں جا رہا تھا۔ اپنے ایک بیان میں انجینئر رشید نے حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت نے فرقہ پرست جماعتوں کوجموں کے مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے کہا یو پی اور راجوری کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف حکومتی سرپرستی میں تشدد ڈھانے کی مکرو ہ سازشوں میں مصروف ہیں۔انہوں نے مزیدکہا مسلمان کہیں بھی فرقہ پرست بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن جس طرح کے حالات جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو درپیش ہیں ، انہیں خطرناک راستہ اختیار کرنے کیلئے مجبور کیاجارہا ہے۔انجینئر رشید کے مطابق اگر کشمیر میں کوئی نابالغ بچہ بھی ہاتھ میں پتھر اٹھائے تو اسے پولیس تھانے میں بند کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار تو اہل خانہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس جموں خطے میں بے لگام فرقہ پرستوں کے ساتھ آزاد گھومتے پھرتے ہیں،انہیں گرفتارکیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا اگرچہ کشمیریوں کے اپنے مسائل بہت ہی زیادہ ہیں لیکن وہ کسی بھی صورت میں جموں کے اپنے بھائیوں کوہندو انتہا پسندوں اور آر ایس ایس کی سرپرستی والی سیول اور پولیس انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو پی کے اخلاق احمد اور راجوری کے عبد الحمید کے ساتھ پیش آئے واقعات میں مکمل مماثلت ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو خبر دار کیا کہ اگر مجرمین کے خلاف کارروائی کرنے میں مزید تاخیر کی گئی تو نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائدہوگی۔انہوں نے جموں خطے کے مسلمان سیاست دانوں پربھی الزام لگایا کہ وہ صرف اقتدار میں رہنے کیلئے خاموش تماشائیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر