عراق ،بغداد کا گرین زون عام عوام کے لیے کھول دیا گیا

عراق ،بغداد کا گرین زون عام عوام کے لیے کھول دیا گیا

بغداد(آن لائن)عراق میں 12 سال بعد بغداد کے سب سے قلعہ بند علاقے جسے گرین زون بھی کہا جاتا ہے کو عام عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بہتری کی جانب عملی قدم بڑھانے کا ایک حصہ تھا جس کا انھوں نے ’عوام سے وعدہ کیاتھا‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ پابندیاں اب بھی قائم رہیں گی جن میں کئی علاقے یا سڑکیں ایسی ہیں جہاں جانے کے لیے خصوصی اجازت نامے کی ضرورت ہوگی۔گرین زون دس کلومیٹر کا وہ علاقہ ہے جہاں سرکاری عمارتیں اور سفارت خانے واقع ہیں۔ اس علاقے کو سنہ 2003 میں امریکہ کی جانب سے کیے جانے والیحملوں کے بعد سکیورٹی اقدامات کے پیشِ نظر عام شہریوں کے لیے بند کر دیاگیا تھا۔ حیدر العابدی کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’گرین زون کو دوبارہ کھولنا ان اقدامات میں سے ایک ہے جن کا ہم نے عوام سے وعدہ کر رکھا تھا۔‘بیان میں مزید کہا گیا ’وزیراعظم نے گرین زون کو پیدل چلنے والے اور گاڑیوں کے لیے کھول دیا ہے۔‘یہ حالیہ دنوں میں ملک کے وزیراعظم حیدر العابدی کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے اْٹھائے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں سے ایک ہے۔گرین زون دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر واقع ہے جسے 2003 میں عوام کے لیے ممنوعہ علاقہ قراردے دیا گیا تھا۔اتنی سخت سکیورٹی کے باوجود اسے کئی مرتبہ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔بہت سے عراقیوں کی جانب سے طویل عرصے سے شکایت کی جاتی رہی ہے کہ گرین زون ملک کے اعلیٰ حکام اور عام شہریوں کو ایک دوسرے سے منقطع کرنے کی ایک علامت بن گیا ہے۔اس علاقے کو بغداد میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم 18 افراد کی ہلاکتوں کے ایک روز بعد کھولا گیا ہے۔حالیہ مہینوں کے دوران بم دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید : عالمی منظر