بلدیاتی اداروں پر بھی وہی قابض

بلدیاتی اداروں پر بھی وہی قابض
بلدیاتی اداروں پر بھی وہی قابض

  

میدان سج گیا ہے۔ ڈھول پٹ رہا ہے، باجے بج رہے ہیں اور جمہویت کے چاہنے والے رقص کر رہے ہیں۔ سیاسی خاندانوں اور شخصیات کی نئی نسل کو میدان میں اتارا جا رہا ہے ،تاکہ بلدیاتی اداروں پر بھی ان کا ہی قبضہ ہوجائے۔ اس ملک میں جمہوریت بھی عجیب نسخہ ہے جو خاندانوں کی سیاسی وراثت کو دوام بخشتا ہے۔ ایک بار پھر وہی خاندان، وہی لوگ جو کہلاتے ہیں عوام کے نمائندے ،لیکن انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں ہوتی، بلدیاتی اداروں پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کہاں گئے وہ عوام جو اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ وہ جنہیں پینے کے لئے صاف پانی میسر نہیں، وہ جنہیں بیماری کی صورت میں کسی قسم کا علاج فراہم نہیں ہوتا۔ وہ جن کے بچے تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن مہنگے پرائیوٹ سکولوں میں داخل نہیں ہو سکتے ، وہ کہاں جائیں۔ انگریز نے جب بر صغیر پر اپنی حکومت کا آغاز کیا تھا تو پولیس، تھانہ، عدالت، اسپتال سے قبل ہی بلدیاتی نظام متعارف کرایا تھا ۔ انگریز اپنی ذہانت اور مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت کی وجہ سے جانتا تھا کہ بلدیاتی ادارے انسانوں کی روز مرہ کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے پینے کا صاف پانی فراہم کیا کرتے تھے۔ یہ ادارے علاقوں میں سڑکوں کی صفائی کا انتظام کیا کرتے تھے۔ حد تو یہ تھی کہ ان اداروں کے کارندے دوکانوں اور گھروں میں پائے جانے والے چوہے بھی پکڑتے تھے۔ کتے مارتے تھے۔ غرض وہ تمام کام کیا کرتے تھے جن کا کسی انسان کے روز مرہ معمول سے ذرا سا بھی تعلق ہوتا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ موجود تھا۔ اسی ڈھانچے کی وجہ سے درجنوں افراد پارلیمانی سیاسی زندگی کا حصہ بنے تھے۔ ان کی بنیادی سیاسی تربیت ان ہی اداروں میں ہوئی تھی۔

اس نظام میں چھیڑ چھاڑ ایوب خان نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کی، انہوں نے اپنی سیاست کی خاطر ان اداروں میں نیا نظام متعارف کرایا جسے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا نام دیا گیا۔ سیاسی مقاصد کے باوجود وہ نظام بھی کام کر رہا تھا۔ اسی وجہ سے تو پورے پاکستان مطلب مشرقی پاکستان سمیت جیکب آباد میونسپل کمیٹی نے صفائی، ستھرائی اور سہولتیں فراہم کرنے پر پہلا انعام حاصل کیا تھا۔ اس وقت جیکب آباد میونسپل کمیٹی کے سربراہ احمد میاں سومرو مرحوم تھے ، احمد میاں ، سابق گورنر سندھ محمد میاں سومرو کے والد تھے۔ بلدیاتی اداروں کے تحت لائبریریوں کا جال بچھا ہوا تھا، پرائمری سکول چل رہے تھے۔ معذور بچوں کے سکول کام کر رہے تھے، انسانوں کے روز مرہ علاج کے لئے گلی گلی ڈسپنسریاں موجود تھیں۔ جانوروں کے اسپتال قائم تھے۔ ایوب خان کے بعد یہ نظام جاری نہیں رکھا گیا ۔ بھٹو نے اس نظام کو لپیٹ دیا۔ بلدیاتی اداروں کو چلانے کی ذمہ داری صوبائی وزیر بلدیات کے ہاتھوں میں آگئی۔ جام صادق علی نے ان اداروں کو اپنی زمینداری کی طرح چلایا۔ ہر ہر شہر میں ان کے کمدار موجود تھے۔ اور کمدار جو بھی اور جیسا بھی کام کرتے ہیں ان سے زمینداری کرنے والے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے شہر ہوں یا دیہات، ان میں جو صورت حال موجود ہے وہ تکلیف دہ حد تک افسوس ناک ہے۔

بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق نے بلدیاتی نظام نافذ کیا۔ ان کے اپنے سیاسی مقاصد تھے۔ ان کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ جنرل مشرف آگئے۔ انہوں نے بلدیاتی ادارے چلانے کے لئے نظام میں ایسی تبد یلیاں کیں جو ان کے خیال میں اختیارات عوام کے دروازے پر لے جاتی تھیں۔ اس نظام کے مخالف سمجھتے تھے کہ علاقے کے بااثر افراد زیادہ ہی طاقت ور ہو گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس نظام کو بھی لپیٹ دیا۔ صوبائی حکومت کے وزراء کو اس نظام سے یہ اختلاف تھا کہ اس میں ناظم اور ان کی کونسل زیادہ ہی با اختیار ہو گئے ہیں اور انہیں وفاقی حکومت سے براہ راست انتظامی اور ترقیاتی کاموں کے لئے رقم فراہم کر دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بلدیاتی ادارے کسی طرح بھی ان کی گرفت میں نہیں آتے۔

وزراء ہوں یا صوبائی یا وفاقی مقننہ کے اراکین، ان کے ذہن میں یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ جس علاقے یا حلقے سے منتخب ہوکر آتے ہیں ان حلقوں کے تمام ترقیاتی کام، لوگوں کے جینے مرنے کی ذمہ داری انہیں ہی انجام دینا ہے اسی لئے وہ بلدیاتی اداروں کو مستحکم کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انہیں خدشہ رہتا ہے کہ اگر بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے عوام کے لئے تسلی بخش خدمات انجام دے دیں تو انہیں کوئی نہیں پوچھے گا اور ان کی سیاست بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ جس کے لئے وہ بلدیاتی اداروں کا وجود ہی نہیں چاہتے۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ سارے کا سارے کام صوبائی محکموں کے تابع ہی رہے۔ پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ، وہ تو بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے انعقاد میں تا خیری حربے ہی استعمال کر رہی تھیں، لیکن ملک کی اعلی عدلیہ نے احکامات جاری کر کے انہیں مجبور کر دیا کہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔

صوبے سندھ میں با دل نخواستہ مرحلہ وار انتخابات کا پرگرام جاری کیا گیا۔ امیداروں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے ۔ لوگوں نے دیکھا کہ ان والدین نے اپنے بچوں کو انتخابات میں کھڑا کر دیا جو ان خدشوں کا شکار رہتے ہیں کہ بلدیاتی نمائندے ان سے زیادہ کام نہیں کر جائیں۔ اپنے خدشات کو رفع کرنے کے لئے انہوں نے یہ حل تلاش کیا کہ ان کے بیٹے اور بیٹیاں ہی بلدیاتی اداروں کی سربراہی کریں۔ کونسلر بھی ان کے ہی رشتہ دار ہوں اگر رشتہ دار نہ ہوں تو ان کا حکم ماننے والے لوگ ہی ہوں۔ کون سا ضلع بچا ہے جہاں جمہوریت کا راگ الاپنے والے ان لوگوں نے اپنے بیٹوں ، بیٹیوں اور بھتیجوں کو کونسلر کی حیثیت سے بلا مقابلہ کامیاب نہ کرا لیا ہو۔ کون سا ایسا ضلع ہے جہاں سے رکن قومی یا صوبائی اسمبلی یا کسی وزیر کا بیٹا یا بھتیجا بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا ہو۔ صوبہ سندھ میں حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی کے کارکن ایک بار پھر ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔ کارکنوں کو توقع تھی کہ بلدیاتی اداروں میں انہیں کھپایا جائے گا ،لیکن پیپلز پارٹی کے بڑوں اور بااثر اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے سامنے کون بول سکتا ہے۔ ان لوگوں کی سر زنش بھی کی گئی جنہوں نے معاملات کو بلاول کے روبرو پیش ہو کر اٹھایا تھا۔ انگریز کے دور میں وائس رائے اور گورنروں سے ملاقات کو وقت بھی مل جایا کرتا تھا ،لیکن آصف زرداری، فریال تالپور، بلاول اور وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ تو ملاقات کے لئے پیپلز پارٹی کے اکثر لوگ منتظر ہی رہتے ہیں۔ کارکن بے چارہ تو اب پیپلز پارٹی میں ناکارہ پرزہ ہو کر رہ گیا ہے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور نے پیپلز پارٹی کو عملا ڈرائنگ روم تک محدود کر دیا ہے۔ اس تماش گاہ میں آخر یہ کس طرح کا کھیل ہے جس میں ایک ہی خاندان یا ایک ہی گھرانہ اپنے علاقے یا حلقہ انتخاب میں ہر چیز کا مالک بن جائے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی، سینٹ اور اب بلدیاتی اداروں کی سربراہی بھی ان ہی خاندانوں کے حصے میں دے دی جائے۔ اسی نام نہاد جمہوریت کی تو عام لوگ مخالفت کرتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ عوام کے منتخب اداروں پر قابض لوگ ہی ان اداروں کے ذریعہ تمام وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں اور عوام ہر طرح کی سہولتوں سے محروم ہی رہ جاتے ہیں ۔ یہ سیاسی جماعتوں کے سوچنے کا کام ہے۔ اختیارات کی تقسیم ہی تو جمہوریت کو طاقت ور بناتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے جاری یہ سلسلہ نہ جانے کب تک عوام کو اپنے پیچھے بھگاتا رہے گا۔ *

مزید : کالم