لاہور کا معرکہ

لاہور کا معرکہ

عمران خان اگر یہ کہتے ہیں کہ 11اکتوبر کی رات نئے پاکستان کا جشن منائیں گے تو مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ بہت تشویش کی بات ہے، کیونکہ یہی بات جب عمران خان نے مئی 2013ء میں کی تھی تو نیا پاکستان کی اصطلاح پورے ملک میں گونج رہی تھی اور ہرکوئی اس اصطلاح میں ایک نیا مستقبل تلاش کررہا تھا۔ یہی وہ نیا پاکستان تھا، جس نے تحریک انصاف کو ذرے سے آفتاب بنا دیا تھا اور مسلم لیگ (ن) جیسی بڑی سیاسی جماعت کے مقابل لاکھڑا کیا تھا۔ اب بات قومی انتخابات سے ایک ضمنی انتخاب تک سکڑ گئی ہے۔ لاہور کا معرکہ کیا رنگ جمائے گا، اس کا فیصلہ تو چند دنوں میں ہو جائے گا، مگر جس طرح مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے عمران خان کی انتخابی مہم کے جواب میں دھواں دار جوابات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عمران خان کے دام میں آ گئی ہے۔ جو لاہور کے ضمنی انتخاب کو اس قدر بلند سطح پر لے جانا چاہتے ہیں کہ جس سے یہ لگے کہ لاہور کے عوام نے جو فیصلہ دینا ہے، اس سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے آئینی یا غیر آئینی ہونے کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ یہ اسی قسم کی صورت حال ہے جو کچھ عرصہ پہلے عمران خان کو پیش آئی تھی جب ان کی پارٹی کے رہنماؤں خصوصاً شاہ محمود قریشی نے ملتان کے ایک صوبائی حلقے میں ضمنی انتخاب کو پارٹی کے لئے انا کا مسئلہ بنا دیا تھا اور جب اس ضمنی انتخاب میں شکست ہوئی تو عمران خان کا یہ موقف بھی غلط ثابت ہوا کہ پنجاب میں عام انتخابات کے موقع پر دھاندلی ہوئی تھی۔

لاہور کے عوام کیافیصلہ کرتے ہیں، یہ ابھی ایک راز ہے، لیکن پرویز رشید اور دیگر وزراء کا یہ کہنا کہ قومی حلقہ 122مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے اور وہاں سے ہم دس بار جیت چکے ہیں، کوئی ایسا دعویٰ نہیں کہ جس کی حقیقت کو کسی طرح سچ ثابت کیا جا سکے۔ بات عوام کے موڈ اور حالات کی ہے، جماعت اسلامی نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ حلقے میں ہر طرف تحریک انصاف ہی نظر آ رہی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان جو اس میدان میں کود پڑے ہیں اور ایک کپتان کی حیثیت سے دھواں دار باؤلنگ بھی کررہے ہیں اور بیٹنگ بھی۔ ان کی باؤلنگ اور بیٹنگ کا جواب دینے کے لئے کوئی وزیر عملاً میدان میں نہیں آ سکتا نہ ہی وزیراعلیٰ یا وزیراعظم اپنے امیدواروں کی عوامی سطح پر آکر مدد کر سکتے ہیں۔ گھوم پھر کر ساری ذمہ داری حمزہ شہباز کے کاندھوں پر آ گئی ہے۔ وہ گھر گھر جا کر ووٹ تو مانگ رہے ہیں، لیکن جو ریلیاں اور جلسے عمران خان کے نظر آ رہے ہیں، وہ مسلم لیگ (ن) کے دکھائی نہیں دے رہے۔ میڈیا کو بھی عوام کی شرکت اور ہلاگلا چاہیے، اس لئے جب کپتان پورے لاؤلشکر کے ساتھ باہر نکلتے ہیں تو رونق لگ جاتی ہے، یہ رونق مسلم لیگ (ن) لگانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔ایاز صادق کے ساتھ پوری حکومت کھڑی ہے، مگر یہ حکومت الیکشن قواعد کی وجہ سے کہیں نظر نہیں آ سکتی۔الیکشن کمیشن نے تو وزیراعظم کے کسان پیکیج تک کو روک دیا ہے۔ باقی کیا ہو سکتا ہے۔ لاہور میں عمران خان اب یکطرفہ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کی اس مہم کا جواب اگر وزراء کے بیانات ہیں تو پھر یہ کہنے میں کوئی عار نہیں مسلم لیگ (ن) پہلا راؤنڈ ہار گئی ہے۔ اب اسے پولنگ ڈے کا انتظار کرنا چاہتے، جب لاہور کے جیالے عوام ایک ضمنی الیکشن کی بجائے دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے نکلیں گے۔

میرا خیال ہے اس بار دھاندلی کے امکانات بہت کم ہوں گے، کیونکہ جب پورے ملک کی نظریں ایک حلقے پر لگی ہوں تو کسی میں جرأت نہیں ہوتی کہ دھاندلی کا ارتکاب کر سکے۔ تاہم کپتان ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت دھاندلی کے امکان کو اپنے بیانات کے ذریعے سامنے لا رہے ہیں۔ اس کا انہیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہارنے کی صورت میں وہ اسے ڈھال بنا سکیں گے۔ اُنہوں نے یہ مطالبہ بھی کر دیا ہے کہ انتخابی نتائج بھی فوج کی نگرانی میں ریٹرننگ افسر تک پہنچائے جائیں کچھ دن بعد وہ یہ مطالبہ بھی کرسکتے ہیں کہ انتخابی نتائج کا کمپیوٹر میں اندراج بھی فوج اپنی نگرانی میں کرائے کیونکہ انہیں ریٹرننگ افسر پر بھی اعتماد نہیں، اُن کا یہ انکشاف بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے خواتین پولنگ اسٹیشنوں پر دھاندلی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ تحریک انصاف کی خواتین زیادہ جوش و خروش کے ساتھ ووٹ ڈالنے گھروں سے نکلیں گی اور دوسرا خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں پر الیکشن کمشن اپنے زیادہ فول پروف اقدامات کرے گا اور مئی کے انتخابات میں ایسے پولنگ اسٹیشنوں کی جو ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر چلتے رہے اُن کی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی۔

دیکھنا یہ ہے کہ لاہور کے ووٹرز اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہیں یا حالات دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں کرپشن کے ایشو کو سب سے زیادہ استعمال کیا ہے۔ یہ ایشو آج کل پاکستان کے لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسی ایشو پر ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے وہ جنرل راحیل شریف کے گرویدہ ہیں۔

اب دیکھا جائے تو دونوں طرف سے اسی ایشو کو بنیاد بنا کر سیاسی مہم چلائی جا رہی ہے۔ علیم خان کو حمزہ شہباز شریف قبضہ گروپوں کا سردار قرار دیتے ہیں جبکہ عمران خان وزیر اعظم نوازشریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے خلاف نیب کے مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں علیم خان کو یہ الزام بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ حلقے میں پیسے کے زور پر جیتنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کالا دھن بہت ہے، مجھ سے کئی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر علیم خان قبضہ گروپ چلا رہے ہیں تو حکومت نے انہیں پکڑا کیوں نہیں۔ اس بنیاد پر ان کے کاغذات کیوں مسترد نہیں کرائے۔ اگر ایسا کوئی اپوزیشن جماعت کہتی تو اس کی بات سمجھ میں آتی، ایک ایسی سیاسی جماعت جو اقتدار میں ہے، اپنے کسی انتخابی مخالف کو جرائم پیشہ قرار دے کر انتخابی مہم کے ذریعے عوام کی نظروں میں گرانا چاہتی ہے تو عوام اسے کیسے گرائیں، وہ تو لا محالہ یہی سوچیں گے کہ علیم خان کیا اتنا طاقتور بھی ہے کہ جس کے خلاف حکومت کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ میرا خیال ہے سیاسی و انتخابی مہم کی حد تک تحریک انصاف کا پلڑا بھاری ہے اس کی ایک وجہ تو خود عمران خان کی انتخابی مہم میں شرکت ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اس انتخابی مہم چلانے کے لئے کوئی ہوم ورک نہیں کیا۔ مثلاً ایاز صادق صرف اس بات پر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں کہ اُن کے خلاف غلط فیصلہ دیا گیا ہے۔ وہ خود یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے خلاف فیصلہ غلط آیا ہے پھر یہ بھی تو ممکن ہے کہ 13 مئی 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہو اور حلقے کے عوام یہ سمجھتے ہوں کہ ان کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔ اس حقیقت کو تو سبھی مانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے پچھلے اڑھائی برسوں میں اپنی مقبولیت کو درجہ بدرجہ کھویا ہے۔ آج ودہولڈنگ ٹیکس کے مسئلے پر تاجر حکومت کے سخت خلاف ہیں۔ اُن کی متعدد ہڑتالوں کے باوجود اُن کے مطالبات کو کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی کیا یہ صورتحال اس ضمنی الیکشن کو متاثر نہیں کرے گی؟

پاکستان میں ضمنی انتخابات بھی ایک قومی ایشو بن جاتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومتِ وقت یہ سمجھ لیتی ہے کہ اس کی مقبولیت کا دارومدار کسی ایک ضمنی الیکشن میں جیت یا ہار پر ہے۔ حالانکہ یہ اپوزیشن کا بچھایا ہوا جال ہوتا ہے، جس میں حکومت آ جاتی ہے، وگرنہ ضمنی الیکشن کو اگر ایک حلقے تک محدود کر دیا جائے تو اس کی ہار یا جیت حکومت کی ضحت پر کوئی اثر نہ ڈالے۔ اس بار چونکہ حکومت کا سابق سپیکر اپنی نشست بچانے کی جنگ لڑ رہا ہے، اس لئے پوری حکومت اس میں شامل نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف اگر یہ انتخاب ہارتی ہے تو اس کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ دھاندلی کا الزام لگا کر نتیجے کو مسترد کر دے اور ملک میں ایک نئی محاذ آرائی کی بنیاد ڈال دے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ہاں تو کوئی ایسا آپشن ہی موجود نہیں اگر ایاز صادق یہ انتخاب ہار گئے تو جہاں ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو جائے گا وہیں حکومت کے لئے بھی ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ دھاندلی کے وہ الزامات جو پہلے دن سے حکومت کا پیچھا کر رہے ہیں ایک نئی شکل اختیار کر لیں گے کہ الیکشن ٹریبیونل کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی اپنے دوبارہ فیصلے میں ایاز صادق کو مسترد کر دیا ہے۔ لاہور کا ضمنی انتخاب ایک بہت بڑا سیاسی معرکہ بن گیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معرکے سے کون سرخرو ہوتا ہے اور کسے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے۔ *

مزید : کالم