’’ہم کون ہیں‘‘

’’ہم کون ہیں‘‘
 ’’ہم کون ہیں‘‘

  

غلام اکبر ابلاغ و صحافت کی دنیا سے 50 سال سے زیادہ عرصہ سے منسلک ہیں۔ انہوں نے صحافت کا آغاز اپنے حقیقی ماموں نسیم حجازی (جنہوں نے اسلامی اور تاریخی ناولوں کے حوالے سے بے پناہ شہرت حاصل کی) کے اخبار ’’کوہستان‘‘ سے کیا۔ وہ مختلف اخبارات کے لئے لکھتے رہے لیکن کالم نگاری کو انہوں نے اپنا ذریعہ معاش کبھی نہیں بنایا۔ ان کے لئے لکھنے کا عمل اپنے جذبوں اور اپنی سوچوں کے اظہار کا ایک مقدس ذریعہ ہے۔ اس لئے انہوں نے کبھی اپنی صحافتی تحریروں کا معاوضہ نہیں لیا۔ اگر آپ کے قلم کا آپ کے ضمیر اور سوچ کے ساتھ رشتہ ہو اور آپ کی تحریریں آپ کے ضمیر کی علامت اور سوچ کی عکاس ہوں تو پھر اس کا معاوضہ نہ تو مقرر کیا جا سکتا ہے اور نہ لیا جا سکتا ہے۔

غلام اکبر 2010ء سے لے کر 2014ء تک ایک معاصر اخبار میں ’’شناخت‘‘ کے مستقل عنوان سے کالم لکھتے رہے ہیں۔ اب وہ تمام کالم ’’ہم کون ہیں؟‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہو گئے ہیں۔ نظریۂ پاکستان کی حفاظت کے لئے تسلسل سے لکھنا غلام اکبر کی اصل شناخت ہے۔ جس نظریئے کی بنیادوں پر پاکستان کی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ اس نظریئے کا تحفظ غلام اکبر کے نزدیک درحقیقت پاکستان کا تحفظ ہے۔ غلام اکبر ان افراد اور گروہوں کے خلاف اپنے قلم سے تلوار کا کام لینے کے حق میں ہیں جن کا یہ مؤقف ہے کہ پاکستان کا بطور ریاست اسلام کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہونا چاہئے۔ غلام اکبر کا یہ ایمان اور اعتقاد ہے کہ اسلام پاکستان کی روح ہے اور قائد اعظم نے پاکستان ایک سیکولر ریاست بنانے کے لئے نہیں بلکہ اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے کے لئے حاصل کیا تھا۔

غلام اکبر پوچھتے ہیں کہ جو لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے کا تحریک پاکستان سے کوئی رشتہ نہ تھا۔ وہ لوگ یہ بتائیں کہ کیا مسلمانوں کا بھی لا الہ الا اللہ سے کوئی رشتہ نہیں؟ جس طرح کوئی شخض لا الہ الا اللہ پر صدقِ دل سے ایمان لائے بغیر مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اسلامی یا مسلم قومیت کی بنیاد بھی لا الہ الا اللہ کے سوا کوئی اور نہ ہو سکتی تھی۔ مسلم قومیت کا سرچشمہ اسلام ہے۔ اس لئے پاکستان کا مطلب کیا اگر لا الہ الا اللہ نہ ہوتا تو ہم قیام پاکستان کی جنگ کبھی جیت نہیں سکتے تھے۔ اگر پاکستان کی منزل بھی سیکولر ازم تھی تو پھر متحدہ سیکولر ہندوستان تقسیم ہی کیوں ہوتا۔ غلام اکبر کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے گاندھی اور نہرو کے سیکولر الزم کو شکست دے کر پاکستان کی بنیاد رکھی تھی۔ اس لئے پاکستان کے قیام کا مطلب ہی یہ تھا کہ پاکستان کی منزل اسلام ہے۔ اور پاکستان مدینہ کے بعد دوسری ریاست ہے جسے اسلام کے نام پر معرض وجود میں لایا گیا۔ کوئی بھی شخص اسلام کو اپنی منزل قرار دیئے بغیر مسلمان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ اسی طرح اگر ہم ایک مسلمان قوم ہیں تو اگر ہم اجتماعی طور پر اسلام کو اپنی منزل نہیں سمجھتے تو ہمیں مسلمان قوم کون تسلیم کرے گا۔

غلام اکبر لکھتے ہیں کہ حضرت محمدؐ پر اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا سلسلہ اسی لئے ختم کیا تھا کہ اب قیامت تک کے لئے حضرت محمدؐ ہی مسلمانوں کے لیڈر ہیں۔ حضرت محمدؐ پوری دنیا کو دارالسلام بنانے کے لئے تشریف لائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریمؐ پر اللہ نے اپنی جو آخری کتاب نازل کی وہ قیامت تک ہر زمانے کے انسانوں کے لئے سر چشمہ حیات اور مکمل نظام حیات ہے۔ اگر ہم زمین کے اس ٹکڑے کو جس کا نام پاکستان ہے اسلام کی تجربہ گاہ نہیں بناتے اور یہاں قرآن و سنت کے نظام کو نافذ نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم حضرت محمدؐ کو اپنا راہنما تسلیم نہیں کرتے۔ اگر ہماری سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی میں حضرت محمدؐ ہمارے لیڈر نہیں ہیں اور ان کی تعلیمات پر ہم اپنی اجتماعی زندگی میں عمل کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں تو پھر ہم کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن مسلمان نہیں رہ سکتے۔ غلام اکبر کہتے ہیں کہ جس طرح اسلامی نظام اور اسلامی اصولوں پر عمل کر کے ہمارے رسول کریمؐ نے مدینہ کو ایک انقلاب آفرین طاقت اور ایک ناقابل تسخیر ریاست بنا دیا تھا۔ یہی مقصد علامہ اقبال اور قائد اعشم کے پیش نظر پاکستان بناتے ہوئے تھا۔ غلام اکبر کا ایمان ہے کہ علامہ اقبالؒ اور محمد علی جناحؒ دونوں ہی اسلامی فلاحی ریاست کے پرچم بردار تھے اور ان دونوں کے نزدیک ریاست مدینہ ہی پاکستان کے لئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی تھی۔ قائد اعظمؒ نے اپنی کئی تقاریر میں یہ فرمایا تھا کہ اسلام کے اصول اور تعلیمات آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جیسے یہ تیرہ سو سال پہلے تھے۔ اسلام کے دائمی اصول جدید دور کے تمام تقاضوں پر اب بھی پورا اتر سکتے ہیں۔

غلام اکبر اپنے کالموں میں اس بات پر گہری مسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان کو یہ منفرد امتیاز اور افتخار حاصل ہے کہ یہ مملکت اسلامی شناخت کی بنیاد پر قائم ہوئی اور اس کے آئین میں یہ واضح طور پر اعلان موجود ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ جب ہم نے آئین میں تسلیم کر لیا کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا جو قرآن و سنت سے متصادم ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اسلام کے دین کامل پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام کو ہم ایک مکمل ضابطۂ حیات سمجھتے ہیں۔ جو اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات نہیں مانتا وہی طبقہ پاکستان میں سیکولر ازم کا علم بردار ہے۔ غلام اکبر کا اپنے کالموں میں یہ مؤقف ہے کہ جو اسلام کے مکمل ضابطۂ حیات پر یقین نہیں رکھتا اس کا ایمان بلا شبہ کمزور ہے۔ غلام اکبر کا کہنا ہے کہ اسلام میں آخری اور حتمی حاکمیت اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور پارلیمینٹ اس حاکمیت کے تابع ہے۔ اگر ہم اپنے نظام حکمرانی اور معاملاتِ مملکت میں اسلام کے احکامات کو حتمی تسلیم نہیں کرتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کی حاکمیت کو قبول نہیں کرتے۔ پاکستان محض ایک خطۂ زمین حاصل کرنے کے لئے قائم نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کی طرح اس عہد کی تجدید کے لئے حاصل کیا گیا تھا کہ سرزمین پاکستان میں حاکمیت صرف اللہ کی ہو گی۔ اللہ کی حاکمیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم اللہ کے آخری فرمان یعنی قرآن کو اپنا سپریم آئین سمجھیں۔ اگر پاکستان میں اللہ کا دستور عملی طور پر نافذ ہو جائے تو کسی بڑے سے بڑے با اثر ملزم اور مجرم کو استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکتا چاہے وہ صدر پاکستان ہی کیوں نہ ہو۔ جب حضرت ابو بکر صدیقؓ نے خلافت کا منصب سنبھالا تھا تو انہوں نے اپنے پہلے ہی خطبہ میں یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’لوگو اگر میں احسن طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دوں تو میری مدد کرو اور اگر میں کچھ غلط کروں تو مجھے روکو اور ٹوکو۔‘‘ یہ ہے ایک اسلامی ریاست کے حکمران کی حقیقی شناخت، غلام اکبر صاحب کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں اسلام کا تذکرہ صرف آئین میں لکھنے کی حد تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیں اپنے نظام حکمرانی میں اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنا چاہئے۔ اگر ہم بھی اسلام کو دیگر مذاہب کی طرح انسانوں کا نجی معاملہ سمجھیں گے اور اپنے ملک کی سیاست اور معاشرت کا رشتہ اسلام سے نہیں جوڑیں گے تو ہمیں اسلامی ریاست جیسی برکات حاصل نہیں ہو سکتیں۔ اسلامی ریاست کا مطلب یہ ہے کہ وہاں ظلم و نا انصافی اور وحشت و درندگی کا راج نہیں ہوتا اور وہاں بد اعمال، بد کردار اور بد عنوان لوگ قوم کے سردار نہیں ہوتے۔ اگر پاکستان میں محمدیؐ نظام نافذ ہو جاتا تو یہاں قومی خزانے سے کھربوں روپے لوٹنے والوں کا مقام وزیر اعظم ہاؤس یا ایوان صدر نہ ہوتا بلکہ جیل ہوتا۔ پاکستان میں جو طبقہ اسلام کو صرف مسلمانوں کے ذاتی عقائد اور عبادت تک محدود دیکھنا چاہتا ہے اور جو گروہ پاکستان کی سیاست اور معاشرت کو اسلام سے الگ رکھنے کا علمبردار ہے وہ در اصل محمدیؐ انقلاب سے خوف زدہ ہے۔ غلام اکبر نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ ’’مَیں سیاست دان نہیں ہوں‘‘ اگر سیاست دان ہوتا تو یہ نعرہ بلند کرتا کہ جو اسلام کو پاکستان کی رگ رگ میں رچا بسا دیکھنے کے خلاف ہو، وہ یہ ملک چھوڑ دے۔‘‘

غلام اکبر کو یقین ہے کہ پاکستان آج نہیں تو کل اسلام کا قلعہ ضرور بنے گا۔ غلام اکبر کی کتاب ’’ ہم کون ہیں؟‘‘ کے تقریباً سارے کالم پڑھ کر، ان کالموں کی روح میرے نزدیک یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسلمان اسلام نے بنایا ہے اور پاکستان ’’ مسلمان ایک قوم ہیں‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ اس لئے اسلام، مسلمان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ غلام اکبر کے ہاتھوں میں قائد اعظم اور علامہ اقبالؒ کے افکار کا پرچم ہے۔ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار سے مراد نظریہ پاکستان ہے اور نظریۂ پاکستان کی بنیاد صرف اور صرف اسلام ہے۔ پاکستان کا قیام اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔

غلام اکبر اپنے کالموں میں سیکولر طبقے کی اس سوچ کو انتہائی گمراہ کن قرار دیتے ہیں کہ یہ طبقہ اسلام کو بھی کسی انسان کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے حالانکہ اسلام آیا ہی اجتماعیت کے لئے ہے۔ اسلام معاشرے میں انصاف اور مساوات کا علمبردار ہے۔ انصاف اور مساوات وہ اقدار ہیں جن کا تعلق انسانی معاشرے کی اجتماعیت سے ہے۔ پھر اسلام کو ایک انسان کا ذاتی معاملہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

غلام اکبر نے اپنی کتاب میں شامل آخری کالم میں ایک انتہائی اہم سوال اٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آئین توڑنے والوں کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کروایا جا سکتا ہے تو جو لوگ پاکستان کی بنیادی شناخت اور ملک کی نظریاتی اساس کے دشمن ہیں۔ اُن کے خلاف کیا غداری سے بھی زیادہ سنگین جرم میں مقدمہ درج نہیں ہونا چاہئے؟ پاکستان کی اسلامی شناخت کے خلاف برسر پیکار طبقہ در اصل پاکستان کی سلامتی کا بھی مخالف ہے۔ اسلام پاکستان کا حصار ہے۔ جو اس حصار کو کمزور کرنا چاہتا ہے اس سے پاکستان کی خیر خواہی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ غلام اکبر نے اپنی 638 صفحات پر مشتمل کتاب میں یہی نکتہ ہمیں سمجھانے کی کوشش کی ہے اور وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔ *

مزید : کالم