سینیٹر گلزار احمد خان بھی چل بسے!

سینیٹر گلزار احمد خان بھی چل بسے!

دو سینیٹر بھائیوں وقار احمد خان اور عمار احمد خان کے والد پیپلزپارٹی کے معروف رہنما سینیٹر گلزار احمد خان دنیا سے رخصت ہو کر دربار الٰہی میں حاضر ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں خاندانی سیاست کا رواج تو ہے تاہم سینیٹر گلزار احمد خان نے ایک مثال قائم کی کہ وہ خود اور ان کے دونوں صاحبزادے بیک وقت خیبرپختون خوا سے سینیٹر بنے حالانکہ اس وقت بھی کے پی کے میں پیپلزپارٹی کے پاس اکثریت نہیں تھی۔ یہ سینیٹر گلزار احمد خان تھے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا پاکستان پیپلزپارٹی سے ان کا تعلق دیرینہ تھا حتیٰ کہ انہوں نے طویل عرصہ تک محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی میزبانی کی۔ لاہور میں وہ ہمیشہ ان کے میزبان ہوتے ۔ان کے گھر پر اجلاس بھی ہوتے رہے تاہم انہوں نے خود کو اجاگر نہ کیا ان کے صاحبزادے سینیٹر وقار احمد خاں وفاقی وزیر بھی رہے۔سینیٹر گلزار احمد خان پر تنقید بھی ہوئی اور اب بھی ہوتی تھی تاہم وہ اپنے کام سے کام رکھنے والی شخصیت تھے۔ اب یہ ذمہ داری ان کے صاحبزادوں خصوصاً وقار احمد خان پر عائد ہوتی ہے کہ ان کی روایات کو نبھائیں۔ گلزار احمد خان پارٹی کے لئے فنڈز بھی دیتے رہے ہیں۔ ان کا کمال بے نظیر بھٹو کے دور میں سامنے آیا جب ان کو تو ٹکٹ دے دیا گیا، ان کے لئے ایم پی اے پورے تھے انہوں نے صاحبزادے کے لئے بھی مانگا محترمہ حیران ہوئیں تو انہوں نے کہا جو دو رکن باقی ہیں وہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کی حیثیت سے دے دیئے جائیں۔ محترمہ مان گئیں اور گلزار خان نے دوسری نشست بھی جیت لی اور باپ بیٹا سینیٹر بنے اب ان کے پاس تین نشستیں تھیں۔ تنقید اور تعریف ہر ایک کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ *

مزید : اداریہ