ضمنی اور بلدیاتی الیکشن اورنج لائن ٹرین منصوبہ کی راہ میں رکاوٹ

ضمنی اور بلدیاتی الیکشن اورنج لائن ٹرین منصوبہ کی راہ میں رکاوٹ

لاہور(اقبال بھٹی )لاہور کے ضمنی اوربلدیاتی الیکشن اورنج لائن میڑوٹرین منصوبہ کی راہ میں رکاوٹ بن گئے تکنیکی مسائل سے ہٹ کر صوبائی حکومت عوامی احتجاج اور ووٹ بنک کے خراب ہونے کے پیش نظر فور ی طور پر شروع کرنے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے کیونکہ اورنج لائن میڑوٹرین منصوبہ کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میں بڑی توڑ پھوڑ متوقع ہے تفصیلات کے مطابق اورنج لائن میڑوٹرین منصوبہ راستے میں آنے والی عمارتوں کے مالکان کے ساتھ معاملات طے نہ پانے کے باعث تاخیر کا شکار ہو رہا ہے متعلقہ اتھارٹی نے ان چند مقامات پر کام کا آغاز کیا ہے جو سرکاری ملکیت میں ہے تاہم جہاں جگہ کی خریداری یا معاہدے طے پانے ہیں وہاں معاملات جوں کے توں برقرار ہیں کم و بیش 4ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مقررہ معیاد میں کیا جانے والا 25فیصد کام بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا اس حوالے سے ایل ڈی اے ٹیپا کے متعلقہ ذرائع نے بتایا کہ جو زمین اورنج لائن میڑوٹرین منصوبہ کے لئے خریدی جا رہی ہے وہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے کیونکہ خرید ی جانے والی اراضی کا ابھی تک نوٹیفکیشن نہ ہوا ہے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے سب سے پہلے سیکشن 4کا نوٹیفکیشن ہوتا ہے اس کے بعد 17\4کا نوٹیفکیشن ہوتا ہے نہ تو ابھی تک یہ طے ہوا ہے کہ میڑوٹرین منصوبہ کے لئے کتنی اراضی خریدی جا رہی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ریٹ فائنل ہوا ہے اس کے علاوہ میڑوٹرین کے راستے میں آنے والی بلڈنگوں کا سروے بھی نہ کیا گیا یہ سب مکمل ہونے کے بعد کیس پرائس کمیٹی کو بھیجا جائے گا اور پرائس کمیٹی اراضی اور بلڈنگوں کی قیمتوں کا تعین کریں گے اس کے بعد زمین مالکان اور بلڈنگوں کے مالکان کو ادائیگی کی جائے گی اور پھر بلڈنگیں گرائی جائیں گی اس کے بعد پھر کام شروع کیا جائے گا جب ایل ڈی اے اتھارٹی سے یہ پوچھا گیا کہ سارے عمل میں کتنا وقت درکار ہے تو انہوں نے کہا کہ اس میں ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے اس سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اورنج لائن میڑوٹرین منصوبہ ضمنی اور بلدیاتی الیکشن کے بعد ہی شروع ہوگا

مزید : میٹروپولیٹن 1