عوامی تحریک کا پنجاب کے اساتذہ اور تعلیمی شعبہ کی حالت زار پر وائٹ پیپر جاری

عوامی تحریک کا پنجاب کے اساتذہ اور تعلیمی شعبہ کی حالت زار پر وائٹ پیپر جاری

لاہور(خبر نگارخصوصی)پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی میڈیا سیل نے اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب کے اساتذہ اور تعلیمی شعبہ کی حالت زار پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں 7 سوپرائمری سکول صاف پانی، 3 ہزار باؤنڈری وال، 7 ہزار بجلی، 12 سوٹائلٹ سے محروم ہیں جبکہ سائنس ٹیچرز کی 10 ہزار سے زائد اسامیاں 7سال سے خالی ہیں۔اساتذہ کی ویلفیئر کی بجائے قومی دولت سولر لیمپ جیسے سیاسی تشہیر کے منصوبوں پر خرچ کی گئی ۔اساتذہ سے پرامن احتجاج کا آئینی حق چھین لیا گیا۔ تشدد اور تذلیل 7سال سے جاری ہے۔ اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب میں کوئی سرکاری تقریب منعقد نہیں ہوئی۔جو پنجاب حکومت کے امتیازی رویے کا کھلا ثبوت ہے ۔پنجاب میں تعلیم کی وزارت کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جارہا ہے۔ 7سال کے بعد بھی کوئی مستقل وزیر نہیں ہے۔ وائٹ پیپر پاکستان عوامی تحریک پنجاب کے صدر بشارت جسپال ،جنرل سیکرٹری مشتاق نوناری ایڈووکیٹ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے ریسرچ سیل کے ایک اجلاس میں جاری کیا۔ اجلاس میں ویمن لیگ کی مرکزی صدر فرح ناز، یوتھ ونگ کے مرکزی صدر مظہر علوی ، ایم ایس ایم کے مرکزی صدر عرفان یوسف نے شرکت کی۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں اساتذہ کوپرامن احتجاج کے آئینی حق اور قانون کے تحت حاصل سالانہ 25چھٹیوں سے محروم کر دیا گیا۔ اساتذہ کے ساتھ بھٹہ خشت کے مزدوروں جیسا برتاؤ ہورہا ہے۔ 7سالوں میں 8بار پنجاب کے اساتذہ اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلے مگر ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے ان پر مقدمات قائم کیے گئے ۔پولیس کے ذریعے ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا اور انہیں جبری ریٹائر اور دور دراز کے سکولوں میں تبادلوں کی سزائیں دی گئیں۔ پنجاب حکومت کے اساتذہ کے بارے میں سوتیلی ماں والے سلوک کا ہی نتیجہ ہے کہ شرح خواندگی میں اضافہ اور 100فیصد انرولمنٹ کے حوالے سے میلینم ڈویلپمنٹ گول 2015 حاصل نہیں ہو سکا جو گورننس کے محاذ پر شہباز حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ پنجاب کے ہر محکمے کے ملازمین کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں مگر قوم کے معماروں کیلئے کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں۔ دانش سکولوں کے نام پر پنجاب حکومت نے متوازی نظام تعلیم رائج کیا۔ دانش سکول کے استاد اور دیگر سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں زمین آسمان کا فرق ہے جس کی وجہ سے اساتذہ میں احساس محرومی پایا جاتاہے ۔دانش سکولوں کا منصوبہ بری طرح ناکام ہونے کے باوجود اس پر اربوں روپے کا خرچ جاری ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ وزیراعظم کی جاتی عمرہ کی نجی رہائش گاہ کی باؤنڈری وال کی تزئین و آرائش کیلئے بجٹ میں 35 کروڑ روپے رکھے گئے جبکہ اس رقم سے پنجاب کے 1 ہزار سرکاری سکولوں کی باؤنڈری وال تعمیر ہو سکتی ہے جو دہشتگردی کے خطرے کی زد پر ہیں۔ اساتذہ کو گھروں سے تیس تیس کلو میٹر دور تعینات کیا گیا ہے اور ان کے پاس ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی نہیں۔چند منٹ کی تاخیر پر سالانہ انکری منٹس روک کر ان کا استحصال اور تذلیل کی جارہی ہے۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ ہر قومی مہم میں اساتذہ کو سرپلس سٹاف سمجھ کر ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ انتخابی ڈیوٹیاں ہوں ،مردم شماری یا خانہ شماری اساتذہ سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے جو ایک معلم کے منصب کے برخلاف ہے۔عوامی تحریک کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ پر پرامن احتجاج کے حوالے سے عائد کی گئی غیر آئینی پابندی ختم کی جائے۔ اساتذہ کا محکمانہ قوانین کے مطابق ایمرجنسی کی صورت میں سالانہ چھٹیوں کا حق تسلیم کیا جائے ۔ ان کے سروس سٹرکچر ز اور گریڈز کو ریوائز کیا جائے ۔ اساتذہ کیلئے ضلعی سطح پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائی جائیں۔ محکمہ تعلیم کی پالیسی سازی میں اساتذہ کے نمائندوں کو شامل کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب اساتذہ سے سوتیلی ماں والا سلوک بند کریں۔مرکز کی سطح پر حکومت اساتذہ کی بروقت سکولوں میں حاضری یقینی بنانے کیلئے سرکاری ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرے اور اساتذہ کو گھروں کی تعمیر کیلئے طویل مدت کیلئے بلاسود قرضے دئیے جائیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1