پی ٹی آئی کی این اے122سے کامیابی کیلئے ٹھوس حکمت عملی

پی ٹی آئی کی این اے122سے کامیابی کیلئے ٹھوس حکمت عملی

لاہور(خبر نگارخصوصی) عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے این اے122سے کامیابی کیلئے ٹھوس حکمت عملی وضع کر لی ہے اور11اکتوبر کے معرکے کو سر کرنے کیلئے این اے122کی ہر یونین کونسل کے کو آرڈی نیٹر کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں ،تفصیلات کے مطابق نواز لیگ کی طرف سے در جن بھر وفاقی وزراء کو انتخابی مہم میں جھونکنے کے بعد تحریک انصاف نے بھی نئے سرے سے صف بندی کر لی ہے ،گذشتہ ایک ماہ کی انتخابی مہم میں این اے122سے پی ٹی آئی کے اُمیدوار عبدالعلیم خان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور انہوں نے باری باری اپنے داؤ پیچ آزماتے ہوئے نواز لیگ کو مشکل میں ڈال دیا ہے پہلے حمزہ شہباز اور اب وفاقی وزراء کا انتخابی دنگل میں کودنے کا اعلان ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی سبقت لینے کی پوزیشن میں داخل ہو چکی ہے ،تفصیلات کے مطابق جوں جوں 11اکتوبر کی تاریخ نزدیک آ رہی ہے نواز لیگ کی مشکلات بڑھتی دکھائی دیتی ہیں ۔سیا سی مصر ین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اُمیدوار عبدالعلیم خان نے اپنے سیا سی تجربے کی بنیاد پر جوڑ توڑ کے میدان میں بھی اچھے داؤپیچ کا مظاہرہ کیاہے جبکہ اس حلقے سے ہی 4برسوں 2003سے2007تک ایم پی اے اور صوبائی وزیر رہنا بھی ان کی سیا سی بر تری تھی عمران خان کی شخصیت نے ضمنی الیکشن کی مہم میں فیصلہ کُن کردار ادا کیا ہے اور اب تحریک انصاف کا گراف تیزی کے ساتھ اوپر جاتا دکھائی دے رہا ہے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کا آخری ہفتہ فیصلہ کُن ثابت ہو گا اور پی ٹی آئی جماعت اسلامی کی حمائیت کے بعد مزید بڑا اپ سیٹ بھی کر سکتی ہے ،جبکہ اس سے پہلے مجلس وحدت المسلمین ،عوامی تحریک ،اہل تشیع اور جمیعت علمائے پاکستان نیازی گروپ کے علاوہ اے این پی بھی این اے122اور پی پی147میں تحریک انصاف کی حمائیت کا اعلان کر چکی ہے ،عبدالعلیم خان نے اپنے سیا سی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے باری باری اپنے پتے اوپن کیے ہیں اور 11اکتوبر کو ان کی کامیابی ملکی سیاسی تاریخ میں بحر حال نئے باب کا اضافہ کرے گی ،کیونکہ مد مقابل صرف قومی اسمبلی نہیں بلکہ سپیکر شپ پر فائض تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1