امن تجاویزپربھارت کا منفی جواب مایوس کن ہے ، ملیحہ لودھی

امن تجاویزپربھارت کا منفی جواب مایوس کن ہے ، ملیحہ لودھی

نیویارک(آن لائن ،اے این این) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی امن تجاویزپربھارت کے منفی جواب سے مایوسی ہوئی، مودی سرکار کا ’’نو ٹاک پاسچر‘‘ غیر حقیقت پسندانہ ، خطے کے امن کیلئے نقصان دہ ہے ، کشمیر پر اصولی موقف سے پیچھے ہٹیں گے مذاکرات کیلئے کوئی پیشگی شرط قبول کریں گے ، امید ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان پاکستان میں بھارتی مداخلت کے سنگین معاملے کاجلدنوٹس لیں گے ،افغانستان میں امن کیلئے اشرف غنی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل بحال کرنا پڑے گا اس ضمن میں تعاون کیلئے تیار ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کودیئے گئے انٹرویومیں ملیحہ لودھی نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے نائب کو پاکستان طرف سے تین ڈوزیئر پیش کئے ہیں جن میں ملک کے اندر مداخلت اور دہشتگردوں کو معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے بھارت کے خلاف ثبوت موجود تھے۔بھارت پاکستان کے اندر دہشتگردی میں ملوث ہے اور وہ دہشتگردوں کو سپورٹ کر رہا ہے ہمارے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔انھوں نے ان ڈوزیئرز کی نوعیت کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے ایک ڈوزیئر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے مداخلت کے حوالے سے ہے جبکہ دوسرا ڈوزئیربلوچستان میں بھارتی مداخلت اور تیسرا ڈوزیئر کراچی میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے ہے۔ یہ تینوں ڈوزیئر ہم نے اقوام متحدہ کے حوالے کر دیئے ہیں ہمیں توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھارتی مداخلت کا نوٹس لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت بہت سنگین مسئلہ ہے جو خطے میں کشیدگی کا باعث بن رہا ہے،بھارتی مداخلت اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو حمایت ملے گی۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ثبوت پیش کئے ابھی چند گھنٹے ہوئے ہیں،فی الحال پاکستان کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جا سکتی ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت بھی یہ شواہد موجود تھے جب پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات ہونے جا رہی تھی۔ہم اس ملاقات میں بھی یہ شواہد بھارت کے حوالے کرنا چاہتے تھے لیکن یہ ملاقات نہیں ہو سکی اور ہم نے حکمت عملی کے تحت شواہد اقوام متحدہ کے حوالے کئے ہیں۔ہم چاہتے تھے کہ بھارت ایسی حرکات سے باز رہے۔اب ہم اگلے چند دنوں میں مستقبل کے لائحہ عمل کا بھی تعین کر لیں گے۔ ابھی میں اس پوزیشن میں ن نہیں ہوں کہ سب کچھ بتا دوں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی توجہ وسیع مسائل پر ہے ،ہمارے خطے میں کشیدگی ہے،کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔کشیدگی اور تناؤ کسی کے مفاد میں نہیں۔خطے میں امن اور ترقی کے لئے وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کو چار جامع تجاویز پیش کی ہیں اور نہ صرف مسائل کی نشاندہی کی ہے بلکہ حل بھی پیش کیا ہے،بھارت کو چاہیے کہ وہ ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے۔ہمیں ان تجاویز پر بھارت کے رد عمل سے مایوسی ہوئی ہے۔بھارت کو ان تجاویز پر غور کر کے مثبت جواب دینا چاہیے۔

مزید : علاقائی