روسی جنگی طیارے کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی

روسی جنگی طیارے کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی

انقرہ(این این آئی)ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک روسی جنگی طیارے کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد ترک ایف 16 طیارے حرکت میں آ گئے اور ترکی نے روس سے اس پر سخت احتجاج کیاہے۔وزارت خارجہ کے مطابق ترک طیاروں کے حرکت میں آنے پر روسی جنگی طیارہ ’ترک فضا سے نکل کر شام کی جانب چلا گیا۔ترکی کے وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں اپنے روسی ہم منصب اور نیٹو ممالک کے وزرا سے بھی بات چیت کی ہے۔ ترکی نے روسی جنگی طیارے کی شام کی سرحد کے قریب اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر روس سے شدید احتجاج کیا ہے۔روس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نیوی گیشن کی غلطی کے باعث پیش آیا تھا۔ادھر امریکی سیکریٹری دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ روسی طیارے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بارے میں ترکی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔پیر کو سپین کے شہر میڈرڈ میں اپنے ہسپانوی ہم منصب کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایش کارٹر نے کہا کہ روس شام میں صدر بشارالاشد کے مخالفین کے خلاف فوجی کارروائیاں کر کے خانہ جنگی کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس امر پر یقین کرنا ایک غلطی تھی کہ صدر بشارالاسد کے اقتدار میں رہتے ہوئے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑنا ممکن ہے۔خیال رہے کہ روس شام میں بشارالاسد کی حمایت میں فضائی حملے کر رہا ہے۔روسی خبررساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق انقرہ میں روسی سفارت خانے نے کہا ہے کہ ایک روسی طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور روس نے اس بارے میں ترکی کووضاحت پیش کی ہے۔دوسری جانب ماسکو میں کریملن کے ترجمان نے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم ان کا کہنا تھاکہ ہمارے سفارت کار کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور انھیں ایک نوٹ دیا گیا، جس میں مخصوص حقائق بتائے گئے ہیں، جن کی تصدیق کی جائے گی۔روسی فضائیہ نے شام میں کارروائی کا آغاز گذشتہ بدھ کو کیا تھا اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاہم شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی طیارے شام میں صدر بشارالاسد کے مخالفین پر بھی حملے کر رہے ہیں۔پیر کو روس کا کہنا تھا کہ وہ شام میں ’دولت اسلامیہ‘ کو نشانہ بناتا رہے گا، اور اس نے 25 کارروائیوں میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر نو بار بمباری کی ہے۔روس کے مطابق ان کارروائیوں میں حمص میں اطلاعات و نشریات کا مرکز اور لاذقیہ میں کمانڈ مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مزید : علاقائی