پالپا کے مطالبات، ڈاکٹرز، وکلاء ، ججز کے تناظر میں جائز ہیں

پالپا کے مطالبات، ڈاکٹرز، وکلاء ، ججز کے تناظر میں جائز ہیں
 پالپا کے مطالبات، ڈاکٹرز، وکلاء ، ججز کے تناظر میں جائز ہیں

  

پی آئی اے کی پائلٹس کی تنظیم پالپا کے پی آئی اے کی انتظامیہ سے مذاکرات نا کام ہو گئے ہیں۔ وہ اپنی ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پی آئی اے نے پالپا کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ پالپا نے ایسا کونسامطالبہ کر دیا ہے کہ وہ مانا نہیں جا سکتا۔ بیچارے وہی توحق تو مانگ رہے ہیں جو پاکستان کی دیگر پیشہ وارانہ تنظیموں کو حاصل ہے۔

پالپا نے مانگا ہے کہ ان دو پائلٹس کو جو شو کاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ وہ فوری طور پر واپس لئے جائیں ۔ اور پائلٹس کی سنیارٹی اور ان کے خلافکاروائی کرنے کا اختیار پالپا کو دیا جائے ۔ میں سمجھتا ہوں یہ نہائت مناسب تجاویز ہیں۔ اور پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی جانب سے یہ تجاویز نہ ماننا نہ صرف ہٹ دھرمی بلکہ ملک دشمنی ہے۔ اس لئے ان تجاویز کو فوری طور مان لینا چاہئے ۔

آپ کہ رہے ہونگے کہ کتنی نا معقول بات لکھ رہا ہے۔ لیکن ذرا سوچئے کہ اس ملک میں کیا کسی بھی ادارے کو ڈاکٹرز کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے کا اختیار ہے۔ جو پائلٹس کے خلاف کاروائی کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔کیا پائلٹس ڈاکٹروں سے کم پڑھے لکھے اور ہنر مند ہیں۔ ہر روز ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کرتے ہیں۔ ہسپتال بند کرتے ہیں۔ اپریشن تھیٹر بند کرتے ہیں۔ ہسپتالوں کے آؤٹ ڈوربند کرتے ہیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں مریض علاج کی سہولتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ان پرائیوٹ ہسپتالوں کا وہاں ہڑتال نہیں ہو تی اور لوگ جب سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولت ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے حاصل نہیں کر سکتے وہ پرائیوٹ ہسپتالوں میں انہی ڈاکٹروں سے منہ مانگے دام علاج کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔ کیا پاکستان کا کوئی ادارہ ان ڈاکٹروں کے لائسنس اس لئے منسوخ کر سکتا ہے کہ انہوں نے ہڑتال کی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہر دفعہ حکومت نے ہی ان ڈاکٹروں کے آگے سرخم تسلیم کیا ہے۔اگر پی آئی اے کے پائلٹس کے سامنے کر دے گی تو کونسی قیامت آجائے گی۔ بلکہ اگر نہیں کرے گی تو قیامت آجائے گی۔ اب دیکھیں پالپا کے صدر اور دیگر نمائندے وزیر اعظم کے مشیر شجاعت عظیم سے مذکرات کے لئے پہنچے ہی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ شجاعت عظیم کو شکر کرنا چاہئے ۔ آپ دیکھیں جب یہ ڈاکٹرز ہڑتال کرتے ہیں تو یہ تو وزیر صحت کو گندے انڈے مارتے ہیں۔ اور وہ بیچارا کھاتا ہے نہ کھائے تو اس کی و زارت چلی جائے۔ اس لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ یہ اپنے پائلٹس بھی کوئی غلط نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ وہی کر رہے ہیں جو پاکستان میں چلتا ہے۔ اور انہیں اس کا پتہ ہے۔

چلیں ڈاکٹرز کی مثال پر کہا جا سکتا ہے کہ ایک غلطی کو بنیاد بنا کر دوسری غلطی کو صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہم ڈاکٹرز کو چھوڑ کر وکلاء کا کیس لے لیتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک سنیئر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا۔ آپ دیکھیں پوری سپریم کورٹ بار ۔ ہائی کورٹ بار ان چیف جسٹس کے خلاف ہو گئی۔ان کے فل کورٹ ریفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ چند دن بعد ہی ان کی ریٹائرمنٹ تھی۔ اس لئے معاملہ جلدی نبٹ گیا ورنہ چیف جسٹس کی تو خیر نہیں تھی۔ بیچارے چیف جسٹس بار بار درخواست کرتے رہے کہ اگر سنیئر وکیل موصوف عدالت عالیہ سے معافی مانگ لیں تو وہ معاملہ ختم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن وکلاء اور وکلا تنظیموں کا موقف تھا کہ چیف جسٹس صاحب اس معاملہ کو نہیں دیکھ سکتے وہ اس معاملہ کو پاکستان بار کونسل کو بھجوا دیں۔ وہاں ہم خود دیکھ لیں گے۔ اس سے قبل لاہور کے ایک سیشن جج اور لاہور بار کے درمیان تنازعہ میں بھی سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف کو وکلاء کے سامنے سر خم تسلیم ہو نا پڑا تھا۔

وکلاء بھی آئے روز عدالتوں میں ہڑتال کرتے ہیں۔ جب یہ وکلاے دن میں عدالتوں میں ہڑتال کرتے ہیں تو شام کو اپنے دفاتر میں کلائنٹس کو با قاعدگی سے ملتے ہیں۔ نئے کیس وصول کرتے ہیں۔ فیس وصول کرتے ہیں۔ اس ہڑتال کا ان کے پرائیوٹ دفاتر پر کوئی اثر نہیں ہو تا۔ جیسے ڈاکٹرز کی ہڑتال کا ان کے پرائیوٹ کلینکس پر کوئی ثر نہیں ہو تا۔

خود ججز کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اگر آپ سمجھیں کسی جج نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے ۔ نا انصافی کی ہے تو اس کے لئے بھی کوئی ادارہ نہیں بلکہ ججز خود ہی اپنے ساتھی جج کے خلاف شکائت سننے اور کاروائی کرنے کے مجاز ہیں۔ اگر پائلٹس بھی یہ حق مانگ رہے ہیں تو کیا غلط ہے۔ اگر جج اپنا حتساب خود کرتے ہیں۔ اور وہ یہ حق کسی اور کو دینے کے لئے تیار نہیں ۔ ڈاکٹر اپنا احتساب خود کرتے ہیں۔ اور وہ اپنا یہ حق کسی اور کو دینے کے لئے تیار نہیں۔وکلاء اپنا احتساب خود کرتے ہیں اور وہ اپنا یہ حق کسی اور کو دینے کے لئے تیار نہیں ۔ تو پائلٹس کونسی غلط بات کر رہے ہیں۔ یہی تو صحیح طریقہ ہے۔ اور صحیح طریقہ ہی مانگ رہے ہیں۔

ہم سب کو پالپا کا ساتھ دینا چاہئے۔ پالپا جو کر رہی وہ ٹھیک کر رہی ہے۔ اسی طرح تو پی آئی اے کی نجکاری کی راہ ہموار ہو گی۔ اپنے شجاعت عظیم بھی ٹھیک رکر رہے ہیں۔ کیونکہ مشہور تو یہی ہے کہ ان کا ٹارگٹ بھی پی آئی اے کی نجکاری ہی ہے۔ اگر پی آئی اے ٹھیک چلے گی تو اس کی نجکاری کی مخالفت ہو گی۔ لوگ سوال اٹھائیں گے۔ لیکن اگر حاجی رل رہیں ہو نگے۔ مسافر تنگ ہونگے۔ ہڑتال ہی ہڑتال ہو گی۔ تو کوئی بھی نہیں کہے گا کہ پی آئی اے کی نجکاری غلط ہو رہی ہے ۔ جو ہو رہا ہے وہ حکومت کے ایجنڈے کے مطابق ہے ۔ حکومت خوش ہے۔ پالپا خوش ہے۔ سب خوش ہیں۔ ہمیں بھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سب اپنے اپنے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

مزید : کالم