ڈیفنس کی پارٹی سمن آباد میں

ڈیفنس کی پارٹی سمن آباد میں
 ڈیفنس کی پارٹی سمن آباد میں

  

عمران خان سمن آباد آئے، سمن آباد تب لاہور کا گلبرگ تھا، جب لاہور میں گلبرگ نہ تھا، گلبرگ ہی کیا، جب ڈیفنس بھی نہیں تھا اور اب ڈیفنس والوں کی پارٹی سمن آباد میں سرگرم ہے ،خواجہ سعد رفیق نے اس سرگرمی کو دھرنا تھری قرار دیا ہے اور وضاحت کی کہ ڈی چوک میں ہونے والا دھرنا ، دھرنا ون تھا، جیوڈیشل کمیشن دھرنا ٹو اور حلقہ 122کا ضمنی الیکشن دھرنا تھری ہے ،کیونکہ دھرنا ون کو متحرک کرنے والے سانپوں میں سے کچھ مرے ہیں، کچھ ادھ موئے ہیں اور کچھ ابھی زندہ ہیں جو حلقہ 122 میں ضمنی انتخاب سے تحریک انصاف کی دم توڑتی سیاست میں جان ڈالنا چاہتے ہیں اور اسے کھڑا کئے رکھنا چاہتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ عمران خان کے ڈائس کے سامنے خواتین کھڑی ہوتی تھیں ، سمن آباد میں ڈائس کے پیچھے بھی خواتین کھڑی تھیں، عمران پہلے تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اب لگ بھگ تین سو عورتوں کا اکلوتا لیڈر ہے جو لاہور کے لیڈر کے لتے تو لے سکتا ہے ،مگر ایسا مشکل لگتا ہے کہ وہ حلقہ 122کے عوام سے علیم خان کے لئے ووٹ بھی لے ، لینے دینے کی اس سیاست میں تحریک انصاف گم ہو گئی ہے ، علیم خان کو ٹکٹ دینے کے فیصلے کی توجیہہ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ علیم خان نے شوکت خانم کو پانچ کروڑ دیئے، نمل یونیورسٹی کو بھی کروڑوں دیئے اور پارٹی کو بھی ....وہ اب حلقہ 122کے ضمنی انتخابات میں بھی ووٹوں کو نوٹوں سے تول رہا ہے۔

ٹکٹ کے لئے پر تو خیر چوہدری محمد سرور نے بھی تولے تھے، مگر علیم خان کے کروڑوں کے سرُور نے عمران خان کے سامنے چوہدری سرور کے پاؤنڈوں کا سرُور چلنے نہیں دیا،ان کا دیا جلنے نہیں دیا چنانچہ چوہدری سرور اپنا سا منہ لے کر عمران خان کی تقریر کے دوران جلسہ گاہ سے تشریف لے گئے ، ویسے عمران خان کی تشریف آوری سے قبل بھی حلقے میں کچھ خاص ہلچل نہ تھی ، اتوار کے اتوار سمن آباد میں موٹر گاڑیوں کی منڈی لگتی ہے ، دوپہر بارہ سے شام پانچ بجے تک اس منڈی نے حسب معمول جم کر کاروبار کیا ، اس کے بعد پولیس آگئی ،مگر پولیس اس لئے نہیں آئی تھی کہ یہاں پر کوئی ٹریفک جام چل رہا تھا بلکہ لوگوں کو شرم دلا نے آئی کہ حلقے میں عمران خان آرہے ہیں اور وہ ہیں کہ کوئی نوٹس ہی نہیں لے رہے ہیں ،اسی طرح ڈونگی گراؤنڈ میں بھی کراؤڈ تھا، مگر ایسا نہ تھا کہ کوئی سیاسی تجزیہ کارپراؤڈ سے کہہ سکے کہ عمران خان کے لئے پورا سمن آباد نکل آیا ہے، لوگ تھے ،مگر رش نہ تھا ،تبھی تو راقم اپنے پانچ سالہ بیٹے کو انگلی پکڑا کر جلسہ گاہ کے اندر سے چکر لگا کر باہر بھی نکل آیا تھا اور کہیں کوئی دھکم پیل یا بچے کے ادھر ادھر ہوجانے کا خدشہ پیدا نہ ہوا ۔

اس سے قبل سارا دن ٹی وی چینل کے کیمرہ مین اور رپورٹر ز جلسہ گاہ کے داخلی راستوں کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھتے رہے کہ اب.... شاید اب ....مگر دس ہزار کرسیاں شام پانچ چھے بجے تک ان کا منہ چڑاتی رہیں ،اتوار کو تو لاہوریئے ویسے بھی نہیں جاگتے ، تبھی تو شیخ رشید اپنی تقریر میں کبھی لاہوریوں کو کوستے رہے تو کبھی انہیں ڈرانے کی کوشش کرتے رہے!

کوشش تو یقینی طور پر پاکستان عوامی تحریک، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (نیازی) ، ق لیگ اور کسی حد تک پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگوں نے بھی کی ہوگی کہ جلسہ گاہ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں، مگر اس کے باوجود جلسے میں جلوس نظر نہ آئے ، البتہ لوگ ضرور تھے جن میں سے بعض پر تو دیہاڑی دار مزدور وں کا شائبہ بھی گزرا جو شاید علیم خان کے نوٹوں کی چمک سے متاثر ہو کر آئے ہوں گے یا لے آئے گئے ہوں گے، ویسے گئے تو وہ بھی تھے جنھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ نہیں دینا تھا، مگر ان کا مقصد میلے کی رونق دیکھنا تھا ، اسی لئے جلسے کے دوران آنے جانے والوں کا سلسلہ ایسے جاری رہاجیسے سکول کے مینا بازار میں بچوں کا ہوتا ہے ۔

بازار کا شائبہ تو تحریک انصاف کے جلسوں میں استعمال ہونے والی بازاری زبان سے اکثر ہوتا ہے، مگر حلقہ 122میں ہونے والے جلسے کو کسی اعتبار سے بھی تاریخی جلسہ نہیں کہا جا سکتا ، تحریکی جلسہ ضرور کہا جاسکتا ہے ، یہ جلسہ کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا نظر نہیں آتا ، یقینی طور پر آئندہ دنوں میں ہونے والا کوئی بھی معتبر سروے راقم کے اس تجزیئے پر دلیل ضرور ثابت ہوگا!

مزید : کالم