اقتصادی راہداری سے غیر ملکی سرمایہ کار راغب ہونگے،میاں زاہد حسین

اقتصادی راہداری سے غیر ملکی سرمایہ کار راغب ہونگے،میاں زاہد حسین

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری سے جہاں غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی طرف راغب ہونگے وہیں جی ڈی پی میں بھی دو فیصد کا اضافہ ہو جائے گا جس سے معیشت کی کایا پلٹ جائے گی۔ابھرتی ہوئی معیشتوں کا بحران عالمی بحران میں تبدیل نہیں ہو گا نہ چین کی مشکلات سے اقتصادی راہداری کے منصوبے پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ مسائل کے باوجود چین کی معیشت سات فیصد ترقی کر رہی ہے جودیگرتمام ممالک سے زیادہ ہے۔ سیاسی و معاشی استحکام اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے چین پاکستان میں سرمایہ کاری کو دیگر ممالک سے ترجیح دے رہا ہے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نا اہل ایکسپورٹ مینجرز کی وجہ سے برآمدات تباہ ہو رہی ہیں۔

سرمایہ کار ویلیو ایڈیشن کے بجائے خام مال کی برآمد اور مقامی منڈی میں کاروبار کو ترجیح دے رہے ہیں جسکی وجہ سے جی ڈی پی میں مقامی طلب کا حصہ 84 فیصد ہے جو ملک کوہمیشہ کیلئے غریب رکھنے کا آزمودہ نسخہ ہے۔چین میں مقامی طلب 34 فیصد، انڈونیشیا میں 57 فیصداور بھارت میں 59 فیصد ہے۔ پاکستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے یہاں تقریباً ہر شعبے میں بے شمارمواقع موجود ہیں اورسرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے انوسٹمنٹ پر انشورنس کوریج کی سہولت دی جائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان کی قسمت بدلنے کیلئے کافی ہے جوہماری اقتصادی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان خطے میں مضبوط معاشی طاقت کی حیثیت سے ابھرے گا۔چینی جہازوں کو تیل و گیس درآمد کرنے کیلئے ایک سے ڈیڑھ مہینے کا سفر طے کرنا پڑتا ہے جو گوادر پورٹ کے مکمل آپریشنل ہونے سے پندرہ دن کا رہ جائے گا۔اس کے علاوہ تیل و گیس کی درآمد کیلئے پائپ لائن سے بھی پاکستان معیشت کو سہارا ملے گا۔ چین وہ واحد ملک ہے جس نے پاکستان کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کی اور ہر مشکل گھڑی میں غیر مشروط مدد کی۔

مزید : کامرس