لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائز کرنیوالی کمپنیاں معاہدے سے منحرف، کروڑں کی خوردبرد کا انکشاف

لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائز کرنیوالی کمپنیاں معاہدے سے منحرف، کروڑں کی خوردبرد ...

لاہور(عامر بٹ سے)صوبے بھر میں لینڈریونیو ریکارڈ کی لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم میں ڈیٹاانٹری اور سکین کرنے والی کمپنیاں اپنے ایگریمنٹ سے منحرف ہو گئیں،پراجیکٹ انتظامیہ کی عدم دلچسپی،مانیٹرنگ کے غیر فعال سسٹم یا ملی بھگت ،مقررہ مدت میں پراجیکٹ کی عدم تکمیل اور کروڑوں روپے کے غبن کا انکشاف، سوفٹ ویئر میں پائی جانے والی غلطیوں اور غلط ڈیٹا انٹری کرنے کا خمیازہ براہ راست عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے،ذرائع کے مطابق پی ایم یو کا شعبہ ایل آر ایم ایس ڈیٹا انٹری اور اراضی معلوما ت کو سکین کرنے والی کمپنیوں کی غلطیوں کی بھینٹ چڑھ گیا،ڈیٹا انٹری اور اورر یکارڈ کو سکین کرنے کے لئے جن کمپنیوں سے معاہدہ کیا گیا تھا ان کی انتظامیہ کی غلط بریفننگ اور پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتظامیہ کی نا سمجھی سے یہ پراجیکٹ سستی کا شکار ہوکر ابھی تک پایا تکمیل کو نہ پہنچ سکا ہے ،صاف شفاف ریکارڈ کی ڈیٹا انٹری اور سیکننگ کا خواب دکھا کر کروڑوں کا ایگریمننٹ کرنے والی یہ کمپنیاں ورلڈ بنک انتظامیہ کو بھی دھوکے میں رکھ کر کروڑوں روپے ہضم کرنے میں کامیاب ہوگئیں ہیں ،ایگریمنٹ کے مطا بق ان کمپنیوں نے "فی حرف"کے حساب سے پیسے چارج کرنے تھے اور ہر ریکارڈ کی انٹری کے وقت اس کا بیک اپ رکھنے کا معاہدہ بھی کیا تھا تاکہ کسی قسم کے ڈیٹا کے ضیاء کی صورت میں اس کے بیک اپ سے مستفید ہوا جاسکے لیکن معاہدہ کے برعکس ڈیٹا انٹری اور ریکارڈ سکین کرنے والی ان کمپنیوں نے اپنے معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے سنگل انٹری کی اور پیسے ڈبل انٹری کے وصول کئے ،یعنی پچاس فیصد بجٹ کو ہضم کر لیا گیا،قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈیٹا انٹری کے وقت خانہ ملکیت میں تو ریونیو ریکارڈ کا اندراج کیا گیا ہے مگر خانہ کاشت کے کھاتے میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا انٹری نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کی بد نیتی ،نالائقی اور کرپشن بھی بتائی جاتی ہے، اتنے بڑے مبینہ غبن میں کون کون ملوث ہے ، اس کا فائد ہ کس کو دیا گیا،ان کمپنیوں پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی مربوط سسٹم کیوں نہ رکھا گیا ،پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتطامیہ نے اس غفلت کا نوٹس کیوں نہ لیا ڈیٹاانٹری اور ریکارڈ سکین کرنے والی ان کمپنیوں کو کروڑوں کے پراجیکٹ دیتے وقت کس بات کو مدنظر رکھا گیا،اس طرح کے اور بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات مطلوب ہیں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ غلط انٹریاں ڈالنے ،بیک اپ نہ رکھنے اور غلط ریکارڈ کی سکیننگ سے نا صر ف یہ پراجیکٹ اپنی افادیت کھو رہا ہے اس کے ساتھ عوام کا قیمتی وقت ضائع کرکے انہیں خوار بھی کیا جارہا ہے ، خانہ کاشت انتقالات فیسوں پر عمل درآمد پرمکمل رہنمائی نہ ہونا،وراثت کی تقسیم اور جائیداد یا اراضی کے برابر حصے نکالنے سے معذوری،حکم امتناہی کو سوفٹ ویئر میں کیسے لاگو کرنا ہے ، جمعبندیوں کی پرنٹنگ کا کوئی باقاعدہ سسٹم نہ ہونے اور سسٹم کے بار بار لنک ڈاؤن جیسے یہ وہ بنیادی مسائل ہیں جن سے براہ راست سائلین متاثر ہورہے ہیں اور رجسٹریوں اور فردوں کا کام بھی کئی کئی روز تک رک جاتا ہے ،سائلین ایک طرف تو پٹوارخانوں کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے ہیں تو دوسری طرف کمپیوٹر سروس سنٹر میں آکر سوفٹ ویئرمیں پیدا شدہ خامیوں ،غلط انٹریوں اور سیکننگ کی وجہ سے مسلسل خواری کا سامنا رہتا ہے،جس کی ساری ذمہ داری نا صرف ان کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنے معاہدے سے انحراف کے ساتھ قیمتی وقت کو بھی ضائع کیا ہے اور اس کے ساتھ پی ایم یو کے افسران بالا کی غفلت اورمبینہ ساز باز پوری طرح عیاں ہوتی ہے جن کی ناقص مانیٹرنگ اور چیک اینڈ بیلنس کی کمی کی وجہ سے یہ پراجیکٹ سب کے لئے درد سر بنا ہوا ہے ،تاہم اس حوالے سے ڈپٹی پی ڈی پنجاب مقبول احمد دھاولہ کا کہنا ہے کہ ڈیٹاانٹری میں کمی بیشی اور سکیننگ کے دوران کام میں کی جانے والی غفلت کی ذمہ دار کمپنیاں ہیں ان تمام ایشوز کے جواب دے بھی انہی کمپنیوں کے ڈائریکٹر ز ہیں آپ کے سوالات کا میرے پاس کوئی جواب نہ ہے ۔

مزید : صفحہ آخر