لالو پرشاد اور مرکنڈے کانجو نے گائے کے گوشت کے مسئلے پر ہندوؤں کو تازیانے رسید کر دیئے

لالو پرشاد اور مرکنڈے کانجو نے گائے کے گوشت کے مسئلے پر ہندوؤں کو تازیانے ...

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ہندوؤں کے صنم خانے سے بھی ایسی آوازیں اٹھنے لگی ہیں جو ان کے صدیوں پرانے عقائد پر جو انہوں نے دھرم کا حصہ بنا رکھے ہیں، تازیانہ ثابت ہو رہی ہیں، ایک تازیانہ تو بھارتی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج نے جو خود ہندو ہیں، یہ کہہ کر برسایا ہے کہ گائے ایک جانور ہے، جو کسی شخص کی ماں نہیں ہوسکتی، اس (سابق) جسٹس کا نام مرکنڈے کانجو ہے۔ انہوں نے گؤ ماتا کے پجاریوں کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھا کہ گائے دوسرے جانوروں کی طرح کا ایک جانور ہے، انہوں نے اس سے آگے بڑھ کر گائے کے گوشت یعنی بیف کے حوالے سے بھی بڑی حقیقت پسندانہ بات کی ہے، کہ جو لوگ گائے کا گوشت نہیں کھاتے کیا وہ سب اچھے اور پارسا ہیں اور جو کھاتے ہیں، کیا وہ سب برے ہیں۔ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ اس میں کیا برائی ہے اگر لوگ بیف کھاتے ہیں، میں خود بھی کھاتا ہوں اور آئندہ بھی کھاتا رہوں گا۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے اس سابق جج نے یہ بات کہیں چھپ چھپا کر نہیں کہی بلکہ ہندوؤں کے پوتر شہر بنارس میں ہندو یونیورسٹی کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے چند روز قبل ایک مسلمان کو بیف کھانے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دینے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے میڈیا سے معلوم ہوا کہ ایک مندر سے اعلان کیا گیا، کہ ایک شخص نے بڑا گوشت کھایا ہے، جس کے بعد ہجوم نے اس شخص کے گھر پر دھاوا بول کر اسے قتل کر دیا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک شخص کو صرف افواہ کے نتیجے میں قتل کر دیا جائے، ملزموں کو سخت سزا دینی چاہئے۔ ہندو یونیورسٹی کے طلباء نے بعدازاں اس سابق جج کے خلاف مظاہرہ بھی کیا تاہم خیر گزری کہ انہیں نہ تو قتل کی دھمکی ملی نہ کسی نے ایسی جرأت کی کہ مرکنڈے کانجو کو بھی ہلہ بول کر اسی طرح قتل کر دیا جاتا جس طرح مندر سے اعلان کے بعد مسلمان کو ہلاک کر دیا گیا۔ ہندوؤں کے ضمیر پر ایک اور تازیانہ بھارت کے سابق مرکزی وزیر ریلوے اور بہار کے سابق وزیراعلیٰ لالو پرشاد یادیو نے بھی لگایا ہے، جنہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندو بیف نہیں کھاتے؟ تاہم لالو پرشاد کو سخت ردعمل کا سامنا اس لئے کرنا پڑ گیا کہ ان کی ریاست بہار میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ان کی جماعت راشٹریہ جنتا دل انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، ان کے مخالفین انتخابی مہم کے دوران بیف خوری کے سلسلے میں ہندوؤں کے تذکرے پر انہیں ہدف تنقید بلکہ ملامت بنا رہے ہیں۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے اسے ہندوؤں کو بدنام کرنے والا بیان قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ لالو پاگل ہوگئے ہیں۔ ہندو گائے پالنے والے کبھی گائے نہیں کھاتے، ووٹ کے لئے ہندو کو بدنام نہ کریں ورنہ ان کے گھر سے تحریک شروع کروں گا۔ گائے کے گوشت کے بارے میں ہندوؤں کے جذبات جو بھی ہیں، یہ امر واقعہ ہے کہ بڑی تعداد میں ہندو اب بیف کھانے سے پرہیز نہیں کرتے، خصوصاً جو ہندو مغربی ملکوں میں مقیم ہیں، بیف ان کی خوراک کا حصہ ہوتا ہے، دوسری اہم بات یہ ہے کہ گاؤ کشی کو بھارت کی بعض ریاستوں میں اگر ممنوع قرار دیا گیا ہے تو کئی ریاستوں میں اس پر زیادہ سختی نہیں ہے تا ہم متشدد ریاستوں میں عموماً مسلمانوں کو گاؤ کشی کی وجہ سے عتاب کا سامنا ہوتا ہے، جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ ایک ہندو سابق جج نے تقریب میں کھلے عام کہا کہ وہ بیف کھاتے ہیں اور اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تو انہیں زیادہ ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جبکہ لالو پرشاد یادیو کو ایک مرکزی وزیر نے نکتہ چینی کا ہدف بنایا، وجہ غالباً یہ ہے انتخابی مہم میں لوگوں کے جذبات سے کھیلنا آسان ہوتا ہے جبکہ یونیورسٹی کے طلباء کی تقریب میں لوگ اپنے جذبات کے منافی بات بھی سن لیتے ہیں، اگرچہ کانجو کے خلاف بھی طلباء نے اپنے جذبات کا اظہار کر دیا لیکن انہیں اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس طرح کا لالو پرشاد یادیو کو کرنا پڑا، دوسری بات یہ ہے کہ سابق جج کانجو جب سپریم کورٹ کے جج تھے تو ان کی جانب سے بعض ایسے فیصلے بھی ہوئے جنہیں ہندوؤں نے پسند نہیں کیا، لیکن وہ بے خوف ہوکر قانون کے مطابق فیصلے کرتے رہے اور کسی دباؤ میں نہیں آئے، ویسے یہ عجیب تضاد ہے کہ بھارت دنیا بھر کو گائے کا گوشت برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ ظاہر ہے یہ گوشت ایکسپورٹ کرنے کے لئے گائیں ذبح کی جاتی ہیں، پھر ان کا گوشت بنا کر برآمد کیا جاتا ہے، یہ سارا کاروبار دولت مند ہندو ہی کرتے ہیں، کوئی مسلمان شاذ و نادر ہی ایسا بڑا کاروبار کرنے کا سوچ سکتا ہے اس لئے اگر لالو پرشاد یادیو نے ہندوؤں کو یاد دلایا کہ وہ خود بیف کھاتے ہیں اور مسلمانوں کو اس جرم پر قتل کر رہے ہیں تو کیا برا کیا؟ لیکن ایسے لگتا ہے گؤ کشی کے مسئلے کو پورے بھارت میں سیاسی مقاصد اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ ویسے پاکستان کے دورے پر جو وفد آتے ہیں وہ یہاں بلاتکلف گائے کا گوشت بھی کھا لیتے ہیں۔ لاہور کی ایک تقریب میں جہاں بھارتی وفد کے ارکان شریک تھے، جب ایک ہندو اپنی پلیٹ میں بیف کے گوشت کے کباب رکھنے لگا تو ہم نے انہیں یاد دلایا کہ یہ گائے کے کباب ہیں تو انہوں نے بلاتامل کہا ’’مہاراج اگر آپ کھا رہے ہیں تو مجھے یہ کباب کاٹتے ہیں۔‘‘

مزید : تجزیہ