عالمی بینک بجلی کی پیدوار میں سندھ حکومت سے تعاون کرے ،وزیر اعلٰی سندھ

عالمی بینک بجلی کی پیدوار میں سندھ حکومت سے تعاون کرے ،وزیر اعلٰی سندھ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے عالمی بینک پر زور دیا ہے کہ وہ کم قیمت پر بجلی کی پیداوار کے معاملے میں سندھ حکومت سے تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کوئلے کے ذخائر دنیا کے بڑے ذخائر میں سے ہیں جن کے ذریعے ہم صدیوں تک اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں اور صوبے میں کوئلے کی بنیاد پر ماحول دوست بجلی کی پیداوار میں ہم عالمی بینک کا تعاون چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ورلڈ بینک کے نئے کنٹری ڈائریکٹرILLango Patchamuthuسے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، جو پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس آئے ہوئے تھے۔ملاقات میں صوبائی سینئر وزیر برائے خزانہ سید مراد علی شاہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، اے سی ایس ڈولپمینٹ اعجاز علی خان، سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت بھی موجود تھے۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے عالمی بینک کو سندھ صوبے میں کوئلے کے ذریعے پاور جنریشن کے منصوبوں میں مالی تعاون کرنے پر زور دیا۔ جس پر عالمی بینک کے نمائندے نے کہا کہ ورلڈ بینک نے ماحولیاتی مسائل سمیت دیگر معاملات کی وجہ سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی فنڈنگ بند کردی ہے، جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے ان کو یاد دلایا کہ ورلڈ بینک جنوبی افریقہ میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں میں مالی تعاون کر رہا ہے اور اس بات کو اور ہماری ضروریات کومدنظر رکھتے ہوئے ہم عالمی بینک سے مالی تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ کوئلے سے سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے ماحول دوست جدید ٹیکنالاجی کے حصول میں بھی عالمی بینک سندھ حکومت کا تعاون کر سکتا ہے، جس پر ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے اس معاملے پر اپنے ادارے کی انتظامیہ سے بات کرنے کی خاطری کرائی۔ اس موقعے پر سینئر صوبائی وزیر برائے خزانہ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ فی الوقت ورلڈ بینک زراعت کے شعبے میں مختلف منصوبوں میں تعاون کر رہا ہے، جس میں سندھ حکومت کا 112360ملین روپوں کا سندھ ایگریکلچر پروجیکٹ قابل ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کا 30139.75 ملین روپوں کا دوسرا منصوبہ ،سندھ ایریگیٹیڈ ایگریکلچر پروڈکٹیوٹی اینہاسمینٹ پروجیکٹ کا بھی بہت جلد آغاز کیا جائیگا جو 2020-21تک مکمل ہوجائیگا۔اس موقع پر اے سی ایس ڈولپمینٹ اعجاز علی خان نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں کمیونٹی کیلئے واٹر انفراسٹریکچر کی ترقی اور سیلاب کے خطرات میں کمی واقع ہونے کے عناصر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5سو ملین روپوں کا ورلڈ بینک کا منصوبا نیوٹریشن سینزیٹوایگریکلچر پروجیکٹ بھی مختلف مراحل میں ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ غذائیت کی کمی کو پورا کرنے میں زراعت کے شعبے کا بہت ہی اہم کردار ہے، لیکن زمین کے بنجر ہونے ،کاشتکاری کے قدیم طریقے اور کاشتکاری کے زون اور مختلف ورائٹی کے نہ ہونے سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر یہ شعبہ جمود کا شکار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بے زمینی ،تھوڑی زمین ہونا اور کاشتکاری میں حصیداری جیسے مسائل سے یہ صورتحال مزید بدحالی کا شکار ہے۔اس موقعے پر سینئر صوبائی وزیر سیدمراد علی شاہ نے کہا کہ وہ خود کاشتکار ہیں اور وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس پروجیکٹ کے ذریعے خوراک کی پیداوار اور انتظام کاری،ایڈووکیسی ،روابط کاری،عوامی آگاہی اور صلاحیتوں کے فروغ سمیت دیگر کامیابیاں حاصل ہو سکیں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کو کہا کہ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کیلئے بیرونی ملک روزگار کے مواقعے حاصل کرنے کے معاملے پر سندھ حکومت سے تعاون کریں، جس سے بیروزگاری میں بے پناہ کمی ہوگی اور نوجوانوں کو بھی اپنا مستقبل سنوارنے کا موقع ملے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کے نمائندے کا صوبے کی ترقی کے معاملے میں سندھ حکومت کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر،جوکہ ایک سریلنکن شہری ہیں، نے کہا کہ اس عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد کسی بھی وزیراعلیٰ سے یہ انکی پہلی ملاقات ہے۔ ذریں اثناء ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے سیکریٹری زراعت شاہد گلزار شیخ سے صوبے میں جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی ملاقات کی۔

مزید : کراچی صفحہ اول