کراچی آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا ،سہیل انور سیال

کراچی آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا ،سہیل انور سیال

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ پولیس اور رینجرز مل کر صوبے میں قیام امن کے لئے کام کررہے ہیں یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت آپریشن کو ختم کرنا چاہتی ہے وزیر داخلہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ کراچی آپریشن دہشت گردوں کے خلاف ہے جو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ وہ پیر کی شام کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے خطاب اور ان کی جانب سے کئے جانے والے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ کراچی پریس کلب آمد پر وزیرداخلہ کا خیر مقدم پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور سکریٹری اے ایچ خانزادہ نے کیا اس موقع پر گورننگ باڈی کے ارکان اور کلب کے ممبران کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ حکومت سندھ نے محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ایک جامع سیکوریٹی پلان تشکیل دے دیا ہے جس کے تحت صوبے میں66ہزار پولیس فورس محرم کی ڈیوٹی پر مامور ہوگی جبکہ کراچی میں محرم ڈیوٹی پر 24سے26ہزار تک پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ پولیس کی مدد کے لئے رینجرز بھی موجود ہوگی جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوج بھی ہمارے بیک اپ پلان میں شامل ہے اس حوالے سے فوج کو خط لکھ دیا گیا ہے پاک فوج کی جانب سے ہمیشہ سندھ حکومت کے ساتھ بہت زیادہ تعاون کیا گیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں قیام امن کے لئے پولیس اور رینجرز کی خدمات قابل ستائش ہیں اور اپنے فرائج کی انجام دہی کے دوران ٹریفک پولیس کے بہت سے اہلکاروں نے بھی اپنی جان کی قربانی پیش کی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ مختلف عدالتوں کی جانب سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو اشتہاری ملز م قرار دیا گیا ہے کیا سندھ حکومت انہیں وطن واپس لاکر عدالتوں کے رو برو پیش کرنے کے حوالے سے کوئی کردارادا کرے گی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا کہ بیرون ملک موجود کسی بھی ملز م کے ریڈ وارنٹ کے لئے وفاقی حکومت کوشش کرسکتی ہے ،سندھ حکومت کا اس حوالے سے کوئی کردار نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ پولیس کو نفری کی کمی کا سامنا ہے حکومت سندھ اپنے محدود وسائل کے باوجود میرٹ کی بنیاد پر پولیس میں مزید بھرتی کرے گی انہوں نے کہا کہ پولیس کی نفری میں اضافہ آبادی کے تناسب سے کیا جاتا ہے اس وقت آبادی کے لحاطظ سے پولیس کی نفری کم ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے شکوہ کیا کہ میڈیا کے بعض دوست ان سے منسوب کرکے ایسی خبریں بھی دے دیتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا انہوں نے بتایا کہ پیر کو تاجر بردری کی ایک تقریب میں انہوں نے بزنس کمیونٹی کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے نمبر پلیٹس تاخیر سے فراہم کرنے کی صورت میں گاڑیوں پر فینسی نمبر پلیٹس لگانے کے بجائے پیلے رنگ کی ایسی نمبر پلیٹ لگالیں جس پر بلیک کلر سے نمبرز اور حروف تہجی تحریر ہوں لیکن میڈیا والوں نے میری اس بات کو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس سے متعلق میرے نئے فارمولے سے تعبیر کردیا۔وزیر داخلہ نے کراچی پریس کلب کے عہدیداران کو یقین دلایا کہ وہ کراچی پریس کلب میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے لئے ضروری اقدامات کریں گے اس موقع پر وزیر داخلہ کو روائتی سندھ اجرک اور پھولوں کو تحفہ بھی پیش کیا گیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول