کچھ گلے شکوے ۔۔۔!

کچھ گلے شکوے ۔۔۔!
کچھ گلے شکوے ۔۔۔!

  

ہمیں تو گلہ ہے اپنے ایم پی اے سے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی اسی لئے تو ہم نے اپنے قائد محترم میاں نواز شریف صاحب کو خط لکھا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی اور یقیناً اس بات سے ہمیں بے حد خوشی ہوئی کہ ہمارے ہر دلعزیز قائد میاں نواز شریف نے ہمارے خط کا نوٹس لے لیا۔

ہمیں حکم ہوا کہ محترم حمزہ شہباز شریف سے جاکر ملا جائے جس پر ہم نے حکم کی تعمیل بجا لاتے ہوئے جناب حمزہ سے ملاقات کی، انھوں نے ہم سے تمام ماجرا پوچھا ، ہم نے انھیں بتایا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ، ہم سے وائس چئیر مین کی سیٹ کے لئے بارہ لاکھ مانگے گئے ، اور ہم نے انکار کر دیا اور اسی وجہ سے ہمیں وائس چیئرمین کی ٹکٹ نہ ملی، جناب حمزہ نے تو صیف شاہ صاحب کو طلب کیا اور انھیں حکم دیا کہ پتہ کیا جائے کہ یہ کیا ماجرا ہے ، جناب تو صیف شاہ صاحب نے خواجہ عمران نذیر کو فون کیا اور انھیں حکم صادر فرمایا کہ بحکم جناب میاں نواز شریف صاحب جناب فیصل شامی کی درخواست سنی جائے اور انکا مسئلہ حل کیا جائے، ہمیں یہ کہا کہ آپ بے فکر رہیں اور گھر جائیں آپ کو فون کر دیا جائے گا، لیکن ہفتہ گزر گیا آج تک ہمیں کسی نے فون نہ کیا جس پر ہم سمجھ گئے کہ ہمیں بھی وہ لالی پاپ دیا گیا جو بڑے چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لئے دیتے ہیں ۔

ہماری بدقسمتی تو یہ تھی کہ ہمارے قائد غیر ملکی دورے پر روانہ ہو گئے اور ہم بے سہارا و بے یارو مددگار رہ گئے ، اللہ کے سوا کسی کا سہارا نہ تھا ، پھر ہم نے جناب نبیل اعوان جو کہ میاں صاحب کے پر سنل سٹاف میں ہیں کو فون کیا اور کہا کہ ہم اپنے کا غذات نامزدگی واپس لے رہے ہیں اور پھر بصد مجبوری ہم نے اور روف پہلوان نے چیئر مین اور وائس چیئر مین کے کاغذات واپس لے لئے ، ہمیں کہا گیا تھا کہ میاں صاحب ملک سے باہر ہیں وہ آینگے تو آپکا مسئلہ حل ہو گا، چیئر مین اور وائس چیئرمین کے کاغذات نامزدگی واپس لئے کیونکہ ہم پارٹی کے خلاف نہیں جا سکتے تھے ۔ ہم نے کو نسلر کے کاغذات بھی جمع کروا رکھے تھے اور اب ہمارا موڈ ہے الیکشن لڑنے کا اور یہ بھی بتلاتے چلیں کہ آزاد کونسلر کا الیکشن لڑنے پر جس طرح سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی وہ بھی بیان سے باہر ہے ۔ انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا ، انتخابی نشان بھی الاٹ ہو چکے ، اور انتخابی مہم بھی شروع ہو چکی ۔

ہمیں حیرت ہوئی کہ ، ہمارے بہت سے پنجاب بھر کے شہروں کے دوستوں کو یہی گلہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو ٹکٹ نہیں ملی،مختلف شہروں سے بے شمار دوستوں نے یہی گلہ کیا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی اور انھیں انکا حق نہ ملا، اور ہمیں یقیناًدکھ ہوا یہ خبریں سن کر کہ ن لیگ کے بعض رہنماؤں نے بھی کارکنوں کا استحصال کیا ، اور یقیناًیہ صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ جیسے بندر کے ہاتھ استرا لگ جائے ، بہرحال سیانے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی کو مارنے کے لئے اس کے بے وقوف دوست ہی کافی ہیں تو لگتا ہے ن لیگ کو بھی ایسے دوست مل گئے ہیں۔۔

اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا سن سکتے ہیں ، ویسے بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے ، لیکن ہمیں یہ معلوم ہے اور یقین بھی کہ کوئی ہماری سنے نا سنے لیکن ہمارے قائد نے نہ صرف ہماری بات سنی بلکہ ہمارے مسئلہ کے حل کے لئے احکامات بھی جاری کئے لیکن شومئی قسمت کچھ حاصل نہ ہوا ، ہمیں خوشی بھی ہے اور فخر بھی کہ ہمارا قائد میاں نواز شریف ہے جو سب کی سنتا بھی ہے اور اور عوام کی مشکلات دور کر نے کی کوشش بھی کر تا ہے ، فخر تو ہمیں اس بات پر بھی ہے کہ جنرل اسمبلی میں ہمارے قائد نے مسئلہ کشمیر پر بھر پور طریقے سے آواز اٹھائی ۔ کچھ ہمارے دل کی باتیں تھیں جو آپ کو سنائیں کچھ گلے شکوے تھے جو آپ کو بتائے کہ دل کا غبار شائد ہلکا ہو ،اسی کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں آپ سے تو ملتے ہیں دوستو،پھر ملیں گے اک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا ۔ *

مزید : کالم