بنیادی باتیں

بنیادی باتیں

  



معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اوربے اطمینانی کی وجوہات سمجھنے کی کوشش کریں تو بات کچھ سمجھ میں آتی ہے، کچھ سمجھ سے باہر ہے۔ جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ زندگی کے متعلق آج کے انسان کے مادی رویے ہیں ۔ آج ہر چیز کو دولت کے ترازو میں تولا جا رہا ہے ،خواہ وہ ہمارے باہمی معاشرتی تعلقات ہوں یا آپس کے رشتے ناطے،ہر شخص معاشرے میں Status Conscious ہے۔ اسی چیز نے معاشرے میں کرپشن اور لوٹ کھسوٹ جیسے رویوں کو ترویج دی ہے۔ جہاں ہر مذہب پر تہذیب میں اخلاقیات اور کردار سازی پر زور دیا جاتاتھا وہاں آج ہمیں ہرطرف صرف دولت کمانے، معاشرے میں پیسے سے طاقت حاصل کرنے اورسٹیٹس بنانے کا رجحان زور پکڑتا نظر آ رہا ہے۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں آنے والی نسلوں کو انسانیت اور ڈھنگ سے زندگی گزارنے کاعلم سکھایا جاتا تھا، وہاں آج آنے والی نسلوں کو مادی لحاظ سے کامیابیاں حاصل کرنے کے گُر بتائے جاتے ہیں۔جو ادارے کمرشل بنیادوں پرقائم ہوں ان سے مشنری جذبے کی امید تو نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بھی انہیں اس پہلو کو مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ یہ ان کی اپنی بقا کے لئے بھی ضروری ہے۔

اصل میں معاشرہ بنتا ہے افراد سے۔اگر افراد کی تعلیم و تربیت صحیح ہوتی ہے تو معاشرے میں ایک تنظیم اور امن و آشتی خودبخود جھلکتی ہے۔ اس ضمن میں تین ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ماں، استاد اور منبریعنی مذہبی تربیت۔ ماں کا کردار ، افعال اور سوچ بچوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب عورت ماں بنتی ہے تو اس پر ایک اہم ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ اب اس نے معاشرے کو ایسے انسان دینے ہیں جو مثبت اور تعمیری سوچ کے حامل ہوں۔ باپ کے کردارسے بھی پہلوتہی نہیں برتی جاسکتی کیونکہ وہ اپنے بچوں کے لئے رول ماڈل ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ باہر سے حرام کما کر بچوں کو کھلا رہے ہیں اور انہیں نیکی اور تقویٰ کے سبق پڑھا رہے ہیں۔ انہیں سچائی اور دیانتداری سکھا رہے ہیں اور خود اپنے رویے سے ان سب چیزوں کی نفی کر رہے ہیں۔ جہاں تک ماں کے کردار کا تعلق ہے بچوں کی زندگیوں میں وہ ایک ایسے مالی کا کام کرتی ہے جو ہروقت اپنے لگائے ہوئے پودوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ان کی فالتو شاخیں کاٹتا چھانٹتا رہتا ہے تاکہ یہ ایک خوبصورت ، سایہ دار اور پھل دار درخت بن جائیں۔ نپولین کا مشہور قول ہے کہ ’’تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔۔۔‘‘ اگر ماں خود اچھی، صاف ستھری اورمثبت سوچ کی مالک ہوگی تو بچہ خود بخود یہ چیزیں سیکھتا چلا جائے گا۔ بچوں کو Shareاور Careکرنا سکھانے والی مائیں معاشرے کو ایسے افراد دے جاتی ہیں جو ان کے اپنے لئے بھی صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں۔

جب بچہ ماں کی گود سے نکل کر دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو یہ درس و تدریس سے تعلق رکھتا ہے۔ اب اس کو ایک استاد سے سابقہ پڑتا ہے۔ استاد نے اب اس کو ایک کامیاب انسان بنانا ہے لیکن کامیابی کی تعریف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ زندگی میں دولت حاصل کرنے کے بہترین طریقے کون سے ہیں اور انہیں کیسے سیکھاجاسکتا ہے؟ ماں جب بچے کی شکل میں ایک پودا لگاتی ہے تو بعد میں اس کی صحیح ذہنی تربیت اور کردار سازی کے ذریعے اسے صحیح معنوں میں سینچتااستاد ہے۔ ایک اچھا استاد معاشرے کوایک اچھا شہری دیتا ہے۔وہ صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ بہترین معاشرتی رویوں کی تربیت بھی کرتا ہے۔ لندن میں مجھے یہ دیکھ کربہت اچھا لگا کہ استاد بچوں کی انگلی پکڑکر انہیں سڑک پار کراتا ہے تاکہ وہ سیکھ لیں کہ کس طرح احتیاط اور اعتماد سے یہ مرحلہ طے کرنا ہے۔بس اور ٹرین کو استعمال کرنایہاں تک کہ عجائب گھر جاکر وہاں کیامشاہدہ کرنا ہے ، سکھاتا ہے۔بچوں کی ذہنی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے معاشرتی حقوق و فرائض سے آگاہ ہو جائیں۔ آج ہمارے معاشرے میں جو بدنظمی اور بے صبری نظر آتی ہے کیا وہ استاد کی ناکامی نہیں ؟

ایک بڑے اچھے تعلیمی ادارے میں دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ بریک کے دوران بچے دھکم پیل کے ذریعے دوسروں کو پیچھے کرکے خود آگے بڑھ کر کینٹین سے کھانے پینے کی چیزیں حاصل کرناچاہ رہے ہیں۔ وہاں مجھے استاد کا کوئی رول نظر نہیں آیا جو انہیں ذہنی تربیت دیتا کہ صبر سے اپنی باری کا انتظار کریں۔ صبح اسمبلی میں یہ بچے قطاروں میں کھڑے کئے جاتے ہیں۔ کلاسوں میں بھی جاتے ہیں تو قطار کی صورت میں ،لیکن یہ چیز ان کی ذہنی تربیت میں نہیں ڈالی گئی ،یہ صرف ایک جسمانی مشق بن کر رہ گئی ہے۔ بریک میں چونکہ وقت کم مقابلہ سخت ہوتا ہے اس لئے وہاں دھکم پیل کا عالم برپاہوتا ہے۔اس ذہنی تربیت کے فقدان کی وجہ سے یہی کیفیت آپ کو سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کی شکل میں نظر آتی ہے۔ ہر ایک بہت جلدی میں ہے اور غلط طریقے اختیار کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔یہ رویہ زندگی کے ہر شعبے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ معاشرے میں نظم و ضبط اور تنظیم و تہذیب کا فقدان استاد کی ناکامی کا مظہر ہے۔

ایک اوراہم ادارہ جو معاشرے کی تعمیر و ترقی اور افراد کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے وہ ہے منبریعنی مذہب کے ذریعے انسانوں کی تربیت ہے، اس بارے میں زیادہ کچھ کہنے کی جرات نہیں کرتی لیکن یہ ضرور کہوں گی کہ جہاں بہترین علمائے کرام نے حق امامت ادا کیا وہیں اس کے ذریعے انسانوں کو انسانیت سکھانے کی بجائے تفرقہ ، نفرت اور شدت پسندی سکھائی گئی ۔مذہب تو جینے کے ڈھنگ سکھاتا ہے، ہماری زندگیوں کو خوشگوار اور آسان بناتا ہے لیکن جب منبر سے پیار، محبت، امن اور سلامتی کی صداؤں کی بجائے طعنوں کی گھن گرج سنائی دینے لگی تو لوگ خوفزدہ ہو کر اس سے دور ہٹنے لگے۔جو کام اللہ کی کتاب کے ذریعے کرنا تھا یعنی لوگوں کا تزکیہ نفس، ان کی نفسیاتی بیماریوں کا علاج، ان میں بہترین انسانی صفات کو ابھارنا سب کچھ پس پشت چلا گیا اور لوگ وہ نہ بن سکے جو پوری دنیا کے لئے رول ماڈل ہوتے ۔ ہم اللہ کی اس نعمت کا جو قرآن کی صورت ہمارے پاس ہے ،حق ادا نہ کرسکے۔ اللہ تعالی ہمارے ان تین بنیادی ستونوں کو معاشرے میں اپنا بہترین کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے افراد پیدا ہوں کہ ان میں سے ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بنے اور ایک بہترین معاشرہ تشکیل پائے۔ *

مزید : کالم