بھارت میں ”3طالب علم اور ایک ٹیچررکھنے والے “155سالہ تاریخی سکول کا انکشاف

بھارت میں ”3طالب علم اور ایک ٹیچررکھنے والے “155سالہ تاریخی سکول کا انکشاف
بھارت میں ”3طالب علم اور ایک ٹیچررکھنے والے “155سالہ تاریخی سکول کا انکشاف

  

ویزیاناگرام (مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی بھارت میں 155سالہ پرانے ایک تاریخی سکول کا انکشاف ہواہے جس میں صرف 3طالب علم اور ایک ٹیچر ہے ۔تفصیلات کے مطابق 1860میں ویزیاناگرام کے مہاراجہ نے سنسکرت زبان سکھانے کیلئے یہ سکول بنایا تھا۔یہ سکول بھارت کے ان پرانے ترین سکولوں میں ہے جو سنسکرت زبان کی ڈگری دیتے ہیں تاہم وقت کیساتھ ساتھ اس علاقہ میں سنسکرت سیکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے جسکی وجہ سے اب اس سکول میں صرف تین طالب علم رہ گئے ہیں۔یہ تاریخی سکول بھارتی حکومت نے 1950میں اپنی تحویل میں لیا تھااور 2004میں اسے سنسکرت ہائی سکول اور ایم آر گورنمنٹ سنسکرت کالج آف ویزیاناگرام کے نام سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔سنسکرت کیلئے وقف کیا جانیوالا سکول آج اس کی تضاد تصویر پیش کررہاہے ۔اس سکول میں 371طلبہ اور 13اساتذہ تھے جواب کم ہوکر 3طلبہ اور صرف ایک ٹیچر رہ گیاہے ۔یہ کالج گیارہویں سے گریجوایشن تک کے پانچ سالہ سنسکرت کور س کیساتھ تامل اورانگریزی کے کورس بھی کرواتا ہے ۔اس سکول کو اس حد تک نظر انداز کردیا گیا ہے کہ 2003کے بعد اس آج تک پینٹ بھی نہیں کیا گیا ہے ۔ کالج کے ایڈمنسٹریٹو افسربی رامہ راؤ نے کہا کالج میں ہر سال طلبہ کی تعداد میں کمی ہوتی جارہی ہے حکام میں کوئی بھی اس بات میں دلچسپی نہیں لے رہاکہ اس کالج میں سنسکرت کے علاوہ اور بھی کورسز شروع کرئے جائیں تاکہ طلبہ کی تعداد بڑھ سکے۔یاد رہے بھارت کے یونین سول ایوی ایشن منسٹر اشوک گاجا پتھی راجو کاتعلق بھی مہاراجہ کے خاندان سے ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس