ہائی کورٹ نے تعلیمی بورڈز میں ٹریڈ یونینز پر پابندی لگادی

ہائی کورٹ نے تعلیمی بورڈز میں ٹریڈ یونینز پر پابندی لگادی
 ہائی کورٹ نے تعلیمی بورڈز میں ٹریڈ یونینز پر پابندی لگادی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے تعلیمی بورڈز میں ٹریڈ یونینز کے قیام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں ٹریڈ یونینز پر پابندی عائد کردی ہے ۔تعلیمی بورڈ لاہور کے چیئرمین نصر اللہ ورک کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے مسٹر جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے قرار دیا ہے کہ تعلیمی بورڈز کمرشل اور صنعتی اداروں میں شمار نہیں ہوتے اور نہ ہی تعلیمی بوردز قومی صنعتی تعلقات کے قانون کے تحت آتے ہیں ۔ فاضل جج نے عدالتی نظیر کے طور پر یہ حکم جاری کرتے ہوئے رجسٹرار ٹریڈیونین کا وہ فیصلہ کالعدم کر دیاہے جس کے تحت لاہور بورڈ میں ٹریڈ یونین کو کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔اس فیصلے کو بورڈ کے چیئرمین نے چیلنج کیا تھا ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ تعلیمی بورڈزکی ذمہ داری طلباءو طالبات کے امتحانات اورتعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد ہے،بورڈز کی ذمہ داریوں کو کمرشل سرگرمیاںنہیںکہا جا سکتا ، تعلیمی اداروں میں ٹریڈ یونینز جیسی تنظیموں پر پابندی ہونی چاہیے اور عدالت عظمیٰ بھی اس نکتے پر فیصلے دے چکی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی گئی ہے ۔یہ اپیل لاہور تعلیمی بورڈ کی ایمپلائز یونین کے سیکرٹری ملک محبوب الٰہی کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین یونین سازی کی اجازت دیتا ہے ۔یونین کا مقصد ملازمین کے مفادات کا تحفظ ہے اور اس کے کوئی دیگر مقاصد نہیں ہیں ۔اپیل میں سنگل بنچ کا مذکورہ فیصلہ کالعدم کرکے یونین بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔

مزید : لاہور