مجرم کاپڑھا لکھا ہونا سزا میں کمی کا جواز نہیں ،امریکی دہشت گردوں کے کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

مجرم کاپڑھا لکھا ہونا سزا میں کمی کا جواز نہیں ،امریکی دہشت گردوں کے کیس میں ...
 مجرم کاپڑھا لکھا ہونا سزا میں کمی کا جواز نہیں ،امریکی دہشت گردوں کے کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی مجرم یا دہشت گردکو پڑھا لکھا ہونے کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جا سکتی، پاکستان کو بچانا ہے تو اب اس سے بھی آگے بڑھ کر سوچنا ہو گا، سانحہ صفورا کے ملزم بھی پڑھے لکھے تھے، پتہ چلا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ داعش سے بھی متاثر ہو رہے ہیں ۔مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میںدورکنی بنچ نے یہ ریمارکس دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے مقدمہ میں 5امریکی نژاد پاکستانیوںکی 10 سال قیدکی سزا میں اضافے کے لئے دائر حکومت کی اپیل کی سماعت کے دوران دئیے ۔محکمہ پراسکیوشن کی طرف سے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل رانا تصور نے بنچ سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ نے امریکی نڑاد پانچ پاکستانیوں عمر فاروق، وقار حسن، رامی زم زم، احمد عبداللہ منی اور امان حسن یامر کو جرم کے لحاظ سے کم سزا سنائی ہے، تمام مجرم سرگودھا ایئربیس اور میانوالی پاور پلانٹ پر حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے اور مجرم عمر فاروق کے والد خالد فاروق کی اطلاع پر انہیں گرفتار کیا گیا لہذا مجرموں کی سزا دس سال قید سے بڑھا کر عمر قید کی جائے،مجرموں کے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ کا سزا دینا کا فیصلہ ہی غلط ہے، ٹرائل کورٹ کے سامنے ایک بھی آزاد گواہ پیش نہیں ہوا، تمام افراد شریف اور پڑھے لکھے لوگ ہیں اور پاکستان اپنے ایک عزیز کی شادی میں شرکت کیلئے آئے تھے جس پر جسٹس شاہد حمید ڈار نے ریمارکس دیئے کہ پڑھا لکھا ہونے کی بنیاد پر کسی مجرم یا دہشت گرد کو رعایت نہیں دی جا سکتی، پاکستان کو بچانا ہے اور یہاں امن لے کر آنا ہے تو پھر اب ان باتوں سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا، سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردی بھی بہت پڑھے لکھے تھے، اب میڈیا کے ذریعے یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ داعش سے بھی متاثر ہو رہے ہیں ،مجرم کے پڑھے لکھے ہونے کودلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ،اس کی بجائے قانونی بحث کی جائے، فاضل عدالت نے حکومتی اپیل پر مزید سماعت 21اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل فیصل آباد کومجرموں کی سزاﺅں کی مدت سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔

مزید : لاہور