وہ خاتون جس نے اپنا فون چوروں سے نکلوالیالیکن پولیس نے اسے داد دینے کی بجائے ایسی بات کہہ ڈالی کہ وہ غصے سے لال پیلی ہوگئی

وہ خاتون جس نے اپنا فون چوروں سے نکلوالیالیکن پولیس نے اسے داد دینے کی بجائے ...
وہ خاتون جس نے اپنا فون چوروں سے نکلوالیالیکن پولیس نے اسے داد دینے کی بجائے ایسی بات کہہ ڈالی کہ وہ غصے سے لال پیلی ہوگئی

  

لندن (نیوز ڈیسک) آپ کا موبائل فون چوری ہوجائے یا چھن جائے تو کیا آپ اسے ڈھونڈنے اور مجرم کا سامنا کرنے کا فیصلہ کریں گے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب لوگ وہ کام خود ہی کررہے ہیں جو دراصل ان کے لئے پولیس کو کرنا چاہیے۔

برطانوی شہر نیوکاسل سے تعلق رکھنے والی سارہ ولٹس بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں۔ کچھ عرصہ قبل 28سالہ سارہ کو اس وقت انتہائی پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی ضروری ترین اشیاءسمیت ان کا ہینڈ بیگ چوری ہوگیا۔ سارہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے پر چور کو ان کا ہینڈ بیگ اٹھاتے ہوئے اور ان کے کوٹ سے موبائل فون نکالتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ کسی اہلکار کو ان کی مدد کے لئے پہنچنے کے لئے خاصہ وقت لگ جائے گا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ ایسی صورت میں وہ کیا کرسکتی ہیں تو انہیں بتایا گیا کہ وہ خود موبائل فون ڈھونڈنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔

”اس ظالم نے میری عمر کا بھی خیال نہیں کیااور ہر چیز لوٹ کر مجھے کہیں منہ دکھانے کے لائق نہ چھوڑا“

سارہ نے فوری طور پر موبائل ایپ ”فائنڈ مائی آئی فون“ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ اس ایپ پر وہ اپنے موبائل فون کو ایک نیلے نقطے کی صورت میں دیکھ سکتی تھیں جو شہر سے باہر جانے والی سڑک پر حرکت کررہا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر اپنے دوست اور چند دیگر ساتھیوں کو ساتھ لیا اور چور کے تعاقب میں نکل کھڑی ہوئیں۔ جلد ہی وہ ایک بس کے قریب پہنچ چکے تھے جس میں چور سوار تھا اور پھر جب وہ ایک جگہ بس سے اتراتو سارہ اور ان کے ساتھیوں نے اسے گھیر لیا۔ ان کے ایک ساتھی نے دوبارہ پولیس کو کال کی اور خوش قسمتی سے اس دفعہ پولیس اہلکار بھی چند منٹ میں ہی پہنچ گئے۔ چور سے ناصرف آئی فون برآمد کرلیا گیا بلکہ دیگر اشیاءبھی مل گئیں۔

سارہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بروقت کوشش اور ہمت سے ان کا فون اور دیگر قیمتی اشیاءواپس مل گئیں، لیکن وہ اس بات پر متفکر بھی ہیں کہ اس دوران انہیں کوئی نقصان بھی پہنچ سکتا تھا۔ پولیس نے بھی ان کی بروقت مدد تو نہ کی البتہ بعد ازاں یہ مفت مشورہ ضرور دے ڈالا کہ انہیں قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئیے تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -