بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پاکستان میں رہنے پر خداکا لاکھ لاکھ شکر ادا کریں گے

بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پاکستان میں رہنے ...
بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پاکستان میں رہنے پر خداکا لاکھ لاکھ شکر ادا کریں گے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں مسلمانوں کی زبوں حالی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور ان کی حالتِ زار دیکھ کر دو قومی نظریئے پر یقین اور بھی پختہ ہو جاتا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی دگرگوں صورتحال کی سنگینی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی کہ ہم خیال کرتے ہیں۔ گزشتہ روز بھارتی وزیرمملکت برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ایسا انکشاف کیا ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔

ریاست ہریانہ کے شہر میوات میں 100بیڈ کے گرلز ہاسٹل کے افتتاح اور ایک ہائر سکینڈری سکول کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختار عباس نے بتایا کہ ”بھارت میں اب بھی 75فیصد مسلمان خطِ غربت سے نیچے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور بھارت میں ذات، مذہب اور علاقے کی بنیاد پر تفریق آج بھی بہت گہری ہے۔“ ان کا کہنا تھا کہ ”بھارت میں اقلیتوں کے لیے غربت اور بیروزگاری سب سے بڑے چیلنج ہیں۔“

سابق امریکی صدر پر بھی وہ الزام لگ گیا جو عمران خان پر کافی عرصے سے لگ رہا ہے، ہیلری شدید پریشان

catchnews کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں تعلیم کی مخدوش صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگست 2015ءمیں 52لاکھ 93ہزار 339مسلمانوں نے ”بنیادی خواندگی“ چانچنے کے سالانہ ٹیسٹ میں شرکت کی اور ان میں سے صرف 36لاکھ 84ہزار 253افراد پاس ہو سکے جو کل تعداد کا 69فیصد تھے۔ پنجاب میں یہ شرح محض 49فیصد تھی۔ بھارت میں ملکی سطح پر مسلمانوں میں شرح خواندگی 64.8فیصد ہے۔ مزید براں 6سے 14سال کی عمر کے ہر 4میں سے ایک بچہ یا تو سکول جاتا ہی نہیں یا ابتدائی کلاسز سے ہی اٹھا لیا جاتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -