صوبائی ہائی وے اتھارٹی، فرضی منصوبوں کی آڑمیں اربوں کی بے ضا بطگیاں

صوبائی ہائی وے اتھارٹی، فرضی منصوبوں کی آڑمیں اربوں کی بے ضا بطگیاں

  

لاہور (ارشد محمود گھمن//سپیشل رپورٹر)صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے اربوں روپے، پروانشل ہائی وے ، کے اعلی افسران، اراکین اسمبلی، وزراء اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے خرد برد کرنے کا انکشاف ہوا ہے اس ضمن میں کئی افسران کے خلاف نیب میں چلنے والی انکوائریاں بھی التوا کا شکا رہیں ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے وزراء،اراکین اسمبلی کی درخواستوں پر رائیونڈ تا قصور ،ڈسکہ تا سمبڑیال،سیالکو ٹ تا ہیڈ مرالہ،گجرات تاکوٹلہ ارب علی خاں،گوجرانوالہ،ایمن آباد روڈ،پسرور ،سید پور،منڈی بہاؤالدین،شیخوپورہ،فیصل آباد، وغیرہ کے لئے اربوں روپے سڑکوں کی تعمیرات کے لئے پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کو جاری کئے جن کو فرضی کاغذی کارروائی کر کے مکمل کر لیا گیا ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایسے بڑے بڑے منصوبوں کو مکمل کرنے کی ذمے داری محکمہ کے اعلی افسران نفاست رضا،صفدر رضا،محمد ا عجاز چوہدری، ملک ریاض، میر محمد عثمان،ظفر محمود شیخ،چوہدری منور بشیر،قمر علی زیدی، ملک انعام الرحمان ایکسین،ایس ای وغیرہ پر تھی جبکہ کئی منصوبوں کو فنڈز کی عدم دستیابی کا نام دیکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ذرائع نے مذید انکشاف کیا ہے کہ پنجاب ہائی وے کے افسران نے اپنے عزیزواقارب کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے جمع کروا رکھے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ قیمتی اثاثہ جات کے مالک بن گئے ہیں اس ضمن میں کئی افسران کے خلاف نیب میں انکوائریاں زیر سماعت ہیں جو کئی عرصہ سے التوا کا شکار ہیں مگر نیب بھی ان کی کرپشن کے خلاف بے بس دکھائی دیتا ہے۔ متعلقہ افسران کے مطابق فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ایسے بڑے بڑے منصوبے سست روی کا شکار ہیں

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -