راولپنڈی، اسلام آباد میں ڈینگی بے قابو

راولپنڈی، اسلام آباد میں ڈینگی بے قابو
راولپنڈی، اسلام آباد میں ڈینگی بے قابو

  

ڈینگی نے پہلی مرتبہ ایک وبا کے طور پر 2011ء میں پنجاب میں سر اٹھا یا ۔ یہ وبا بالکل نئی تھی ۔ ڈینگی کی وجہ سے درجنوں اموات نے خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی۔ اس وبا سے لاہور سب سے بری طرح متاثر ہوا، جہاں سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب نے ہنگامی بنیادوں پر اس وبا سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ بین الاقوامی ماہرین اور اس وبا سے نبرد آزما ممالک سے رابطہ کیا گیا اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت ڈینگی سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ان تمام کوششوں کے حیران کن نتائج سامنے آئے اور 2012ء میں لاہور میں ڈینگی سے کوئی موت واقع نہ ہوئی اور اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں بھی حیران کن کمی آئی۔لاہور اب ڈینگی سے بہت حد تک محفوظ ہے، مگر اس وبا نے اپنا رخ راولپنڈی کی طرف کیا، جہاں اب یہ ایک چیلنج بن چکی ہے۔ حکومت پنجاب کے ادارے اس سے نبرد آزما ہو نے کے لئے مسلسل مصروف عمل ہیں ۔ تمام ادارے مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں اور مسلسل کوششوں سے یہ وبا پہلے جتنی جان لیوا نہیں رہی ۔ اس سیزن سے اس وبا کا رخ اب راولپنڈی سے زیادہ اسلام آباد کی طرف ہو چکا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق25 ستمبر سے یکم اکتوبر تک راولپنڈی سے ڈینگی سے متاثرہ 88مریض الائیڈ ہسپتالوں میں لائے گئے،جبکہ اسلام آباد سے لائے گئے مریضوں کی تعداد 182 ہے ۔ یہ رجحان ثابت کرتا ہے کہ ڈینگی کا رخ اب وفاقی دارالحکومت کی طرف ہو چکاہے۔ گزشتہ ہفتے ہولی فیملی ہسپتال میں ڈینگی سے جاں بحق ہونے والے نوجوان طالب علم کا تعلق بھی اسلام آباد سے ہے۔ اس رجحان میں تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈینگی کا مچھر تو کسی بھی زمینی حد بندی کو نہیں سمجھتا،مگر انتظامی طور پر راولپنڈی اور اسلام آباد کی حدود میں دو مختلف انتظامیہ کام کر رہی ہیں۔

موجودہ صورتِ حال میں اسلام آباد میں ڈینگی کے مریضوں کو بھی راولپنڈی کے الائیڈ ہسپتالوں میں لایا جا رہاہے، کیونکہ حکومت پنجاب کی پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب کا محکمہ صحت ڈینگی سے نمٹنے کی مکمل استعدادکار رکھتا ہے۔راولپنڈی کے تینوں الائیڈ ہسپتالوں میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے ٹیسٹ ، ادویات اور طبی امداد کی زیادہ صلاحتیں موجود ہیں۔ تمام ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بستروں کی بھی کمی نہیں اور تمام ہسپتال اسلام آباد کے مریضوں کا بھی بوجھ اُٹھا رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے رہائشی بھی اگر اس وبا کا شکار ہوں تو وہ راولپنڈی کے ہسپتالوں کا ہی رُخ کرتے ہیں۔ ڈینگی پر قابو پانے کے لئے صرف حکومتی کوششیں کارآمد نہیں ہو سکتیں کہ جب تک عوام اپنا بھر پور کردار ادا نہیں کرتے ۔

ڈینگی کی روک تھام کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر کی پرورش کو روکا جائے۔ راولپنڈی کے بعد اسلام آباد میں ڈینگی پھیلنے کی وجہ پانی ذخیرہ کرنے کے زیر زمین ٹینک اور گھروں کی چھتوں پر رکھی ہوئی پانی کی ٹینکیاں ہیں۔ اگر ان کو مناسب انداز میں نہ ڈھانپا جائے تو یہ ڈینگی لاروے کی افزائش کی آماج گاہیں بن جاتی ہیں۔ نظروں سے اوجھل ہونے کی وجہ سے عمومی طور راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری اس بات سے لاعلم رہتے ہیں کہ ڈینگی کا مچھر ان کی لا پرواہی کی وجہ سے ان کے قریب ہی پرورش پا رہاہے۔ اگست سے اکتوبرتک تین مہینے ڈینگی کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ ان مہینو ں میں چونکہ درجہ حرارت میں قدرے کمی واقع ہو جاتی ہے اور بارشوں کی وجہ سے پانی جمع ہو نے کی جگہوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، لہٰذا ڈینگی لاروا کی پیدائش اور پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ ڈینگی کے مچھر کے لئے 14 ڈگر ی سینٹی گریڈ سے زیادہ اور 35ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت انتہائی موزوں ہوتا ہے اور چونکہ اگست سے اکتوبر کے دوران بارشیں ہوتی ہیں اور ڈینگی کا لاروا پیدا ہونے اور اس کی افزائش کا عمل تیز ہو جا تا ہے ،لہٰذا اس موسم میں ڈینگی زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

ڈینگی کی مادہ مچھر کے انڈے ایک سال تک اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں اور اس دوران جب بھی انہیں موزوں ماحول اور صاف پانی مل جاتا ہے، ڈینگی مچھر کی پیدائش کا عمل بھی تیز ہو جاتاہے۔ یہ فِطری عمل انتہائی اہم ہے۔ ڈینگی مچھر کے انڈے ایک سال تک ہر قسم کے ماحول میں اپنا وجو د برقرار رکھ سکتے ہیں اور انڈے سے لاروا اور پیوپا بننے اور پھر بالغ مچھر بننے میں صرف ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے ، حیرت انگیز طور پر انڈے کی افزائش کے لئے چلو بھر پانی بھی کافی ہوتاہے۔ مثا ل کے طور پر اگر ڈینگی کی مادہ مچھر نے اپنے انڈے چھت پر موجود کاٹھ کباڑ پر دے رکھے ہیں یا پھر چھت پر رکھی اینٹ کی درز پر یا پھر صحن میں گٹر کے ڈھکنے کی درز پر دے رکھے ہیں اور وہاں چاہے وہ ایک سال سے پڑ ے ہوں اور اس جگہ بارش کا پانی اکٹھا ہو جائے، تو اس جگہ بھی ڈینگی مچھر پرورش پا سکتاہے۔اس صورتِ حال کے پیش نظر ضروری ہے کہ بارش کا پانی کہیں اکٹھا نہ ہونے دیں، حتیٰ کہ گٹر کے ڈھکنے کی درزوں ، چھتوں پر موجود ٹوٹے پھوٹے برتنوں اور دیگر سامان میں بھی کہیں پانی اکٹھانہ ہونے دیں۔ خصوصی طور پر بارش کے بعد اپنے گھر کے اردگرد کا ضرور معائنہ کریں۔ بعض لوگ اپنے گھروں کی منڈیروں اور چھتوں پر پرندوں کے لئے پانی کے برتن رکھتے ہیں جو ڈینگی کے مچھر کی افرائش کی بہترین جگہیں ثابت ہوتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اگست سے اکتوبر اور مارچ سے مئی کے مہینوں میں ایسے برتن ہٹا لئے جائیں ۔ اگر یہ ممکن نہیں تو پھر روزانہ کی بنیاد پر ان برتنوں کو صاف کریں ۔ یہ عمل پابندی سے کریں نہیں تو یہ ڈینگی کی آماجگاہیں بن سکتے ہیں ۔ ڈینگی لاروا کی پہچان بھی انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ موسم میں کوئی برتن گھر سے باہر صحن میں یا چھت پر پڑا ہو تو اس میں لاروے نظر آتے ہیں۔ ان میں ڈینگی کے لاروے کی پہچان انتہائی آسان ہے۔ ڈینگی مچھر کا لاروا ہمیشہ اوپر سے نیچے پانی میں حرکت کرتا ہے، جبکہ دیگر مختلف حشرات کے لاروے دائرے میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہا ئشی اگر پانی کے ذخیرے کے زیر زمین، ٹینکوں اور گھروں کی چھتوں پر رکھی ہوئی ٹینکیوں کو ڈینگی فری بنا دیں تو اسی فیصد حد تک ڈینگی پر قابو پایا جا سکتاہے۔

مزید :

کالم -