سندھ طاس معاہدہ پر امریکی بیان

سندھ طاس معاہدہ پر امریکی بیان

  

مکرمی! بھارتی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی بھارت کی جانب سے آنے والی خبریں تھیں جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 1960میں طے پائے جانے والے سندھ طاس معاہدہ کی تنسیخ کے ارادے کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ دراصل یہ سعی بھارتی آبی جارحیت کی ایک نئی صورت تھی۔ یہ جارحیت نئی نہیں بلکہ ایک عرصے سے بھارت آبی معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتا چلا آ رہا ہے۔ ڈیموں کی تعمیر پاکستان کے آبی حصے پر کھلم کھلا قبضہ کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب کے دنوں میں پاکستانی دریاؤں میں پانی چھوڑنے سے پاکستانی علاقوں کا زیر آب آنا سالانہ واقعہ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد جانی و مالی نقصان کا سامنا کرتے ہیں اور گھر سے بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کی تباہی معیشت کے لئے ہر سال نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ بھارتی آبی جارحیت کی نئی شکل اس دھمکی کی شکل میں سامنے آئی، جس کا ردِ عمل پاکستانی حکومت نے موثر انداز سے کیا۔یہ کاوشیں کار آمد ثابت ہوئیں اور گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ 50سے زائد برسوں سے بھارت اور پاکستان کے درمیان پر امن شراکت داری کے نمونے کے طور پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت تمام باہمی امور کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔ بھارت کے اس چونکا دینے والے اعلان کے رد عمل میں چین نے واشگاف الفاظ میں انتباہ کیا کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدوں کی خلاف ورزی کی تو چین بھارت کا پانی بند کر دے گا ۔ جن دنوں یہ بیان آیا حکومت پاکستان نے بروقت اقدام کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی کو واشنگٹن بھیجا جہاں انہوں نے عالمی بینک کے عہدیداروں اور امریکی حکام سے مذاکرات کئے۔ امریکہ کا سندھ طاس معاہدے کو پر امن شراکت داری کا نمونہ قرار دینا حکومت پاکستان کی اسی کاوش کا نتیجہ ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی آبی جارحیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔(عشرت اختر،لاہور)

مزید :

اداریہ -