عمران خان کی ’’اَنا‘‘ اور تنہا پرواز؟

عمران خان کی ’’اَنا‘‘ اور تنہا پرواز؟
 عمران خان کی ’’اَنا‘‘ اور تنہا پرواز؟

  


جناب عمران خان نے ایک بار پھر، سب سے الگ راہ اپنا لی ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں کہ جب پاکستان کے تمام سیاسی و مذہبی طبقات(بھارت کی پاکستان مخالف جارحیت اور کشمیریوں پر ظلم و جور کے مقابل) یک جائی و یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

عمران خان نے30ستمبر کو رائیونڈ میں تمام اپوزیشن کے مشوروں کے علی الرغم اس وقت جلسہ کر لیا، جب بھارت پاکستان پر ’’حملہ آور‘‘ ہونے کے لئے سخت دھمکیاں دے رہا تھا، پورے پاکستان میں بھارت کے خلاف جوش عروج پر تھا اور ایک ہی نعرہ سربلند تھا کہ ’’بھارتیو! سُن لو، ہم ایک ہیں‘‘ پھر رائیونڈ کے جلسہ میں میاں نواز شریف کے خلاف جو زبان استعمال ہوئی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت مقررین نے جو ناروا فقرے اور الفاظ استعمال کئے، شیخ رشید نے ’’آگ لگانے‘‘اور ’’جلا کر بھسم‘‘ کرنے سمیت جو کچھ کہا، وہ ہر ایک مہذب طبیعت کو ناگوار گزرا، عمران خان صاحب نے مودی کو مخاطب کر کے چند فقرے اور مطالبے دہرائے اور پھر اپنی اصل تنقیدی اور جارح تقریر پر آ گئے جو وہ میاں نواز شریف کے خلاف کرتے رہتے ہیں۔ البتہ اِس بار ایک اعلان قدرے ہٹ کر کہ ’’اب جلسے نہیں ہوں گے، اب نواز شریف کو حکومت کرنے نہیں دیں گے، اب اسلام آباد بند کر دیں گے اور پھر باقی شہر بھی بند کر دیں گے‘‘۔ایک ’’مہربانی‘‘ ضرور کی کہ’’محرم کے آخر تک میاں صاحب کو مہلت دے دی‘‘۔

اِسی دوران میں پاکستان اور بھارت میں حالات اور زیادہ گھمبیر ہوتے چلے گئے، بھارت کے مبینہ ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ سے ، فضا شعلہ بار نظر آنے لگی، پاک فوج اور حکومتی ذمہ داران نے بھارت کی گیڈر بھبھکیوں کے خلاف استقلال و استقامت کے مظاہر دکھائے اور جواں مردی و جرأت سے لبریز بیانات دیئے اور پاکستانیوں کو ولولہ تازہ عطا کر دیا۔

حالات کی گھمبیرتا کے پیشِ نظر اپوزیشن لیڈر نے باقاعدہ مطالبہ کر دیا کہ ’’پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، کشمیر اور سرحدوں کے حالات سے آگاہ کیا جائے ، پھر پوری قوم کی طرف سے، متفقہ پالیسی وضع کر کے اس کو اپنایا اور جاری کیا جائے‘‘۔اپوزیشن کے اس مطالبے کو قبولیت کی سند عطا ہوئی، چنانچہ آج(5،اکتوبر) کو باقاعدہ مشترکہ اجلاس ہونا قرار پایا، اس سے قبل گزشتہ پیر(3،اکتوبر) کے روز، وزیراعظم ہاؤس میں، وزیراعظم کی زیر صدارت تمام پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہوا اور گزشتہ روز (منگل،4اکتوبر) سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی ذمہ داران فوج کے(متعلقہ اداروں سمیت) ذمہ داران و چیف آف آرمی سٹاف اور تمام وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے، ان اجلاسوں میں حکومت و اپوزیشن کی بھرپور نمائندگی و شرکت اور فوج کے سربراہ کی شمولیت نے پوری دُنیا کو مثالی اور بھرپور پیغام دیا کہ ’’ان گھمبیر، نازک اور حساس حالات میں پاکستان کے تمام طبقات اور ادارے ایک ہیں اور اپنے مُلک کے دفاع و استحکام کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے‘‘۔

پیر کے روز،جبکہ تمام پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہ وزیراعظم ہاؤس میں یکجا تھے اور بھارت سمیت پوری دُنیا کو قومی یکجہتی کا پیغام دے رہے تھے۔ (تحریک انصاف کے سربراہ) عمران خان، نتھیا گلی میں سیرو سیاحت میں مشغول تھے(اس پر بعض ناقدین نے نیرو کی بانسری‘‘ کی بات کی تھی، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی ’’انا‘‘ کی بات کرنے کی بجائے اور اس کے باوجود کہ اُن کا موجود ہونا بہت ضروری تھا، پھر بھی غنیمت ہے کہ شاہ محمود قریشی نے شرکت کی اور عمران خان کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑی بھلی باتیں کیں(جو وقت کے عین مطابق بھی تھیں)۔

پھر منگل کے روز’’سلامتی کونسل‘‘ کے اجلاس میں (تحریک انصاف کے رہنما اور) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک(جنہوں نے رائیونڈ میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف بہت ہی ناروا تقریر کی اور تلخ ترین فقرے استعمال کئے تھے) نے بھرپور شرکت کر کے اپنے ’’فرضی منصبی‘‘ اور ’’قومی یکجہتی‘‘ کا اظہار کیا۔۔۔۔دونوں اجلاس بڑے اہم اور مفید تھے، مگر سب سے اہم پارلیمینٹ کا (آج ہونے والا) مشترکہ اجلاس تھا، پہلے دونوں اجلاسوں میں تحریک انصاف کی کسی نہ کسی طور پر شرکت اور نمائندگی ہو ہی گئی، مگر اہم ترین (مشترکہ) اجلاس سے عین ایک رات قبل، عمران خان نے ’’بائیکاٹ‘‘ کر اعلان دیا۔۔۔۔

حالات کی تمام گھمبیرتا، نزاکت اور حساسیت کے باوجود اور ’’قومی یکجہتی کے مظاہرہ کی اشد ضرورت کے ہوتے ہوئے بھی خان صاحب کا یہ اعلان ہر محب وطن کے لئے، واقعتا حیران کن ہے۔۔۔۔(بعض اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے ذمہ داران میں سے بھی کئی اس پر چیں بہ جبیں ہیں، کسی نے بات بھی کی تو خان صاحب نے اس کو نواز شریف کے پاس چلے جانے کا کہہ کر ڈانٹ دیا اور مزید کوئی بات نہ کرنے سے روک کر خاموش کرا دیا) اپوزیشن لیڈر جناب سید خورشید شاہ نے باقاعدہ، اس اعلان پر تعجب اور حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’عمران خان صاحب کے اِس اعلان کی ہمیں سمجھ نہیں آئی، یہ مشترکہ اجلاس تو بلایا ہی اپوزیشن کے مطالبے پر گیا ہے اور ہم نے اِس سلسلے میں اپوزیشن کی تمام پارٹیوں(بشمول تحریک انصاف) سے مشاورت کی تھی‘‘۔

عمران خان صاحب نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا یہ بہا نہ بیان فرمایا ہے کہ میں میاں نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کو نہیں مانتا۔میرا مطالبہ ہے کہ ’’وہ استعفیٰ دیں، اپنی جگہ کسی اور کو وزیراعظم بنوائیں اور خود کو احتساب کے لئے پیش کریں‘‘۔۔۔۔ پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہ کیا ہیں؟ عمران خود جانتے ہوں گے البتہ وزیراعظم کے احتساب والی بات کرنے سے پہلے ان کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ ’’وہ رائیونڈ کے جلسہ میں خود، نواز شریف کو محرم کے آخر تک مہلت دے چکے ہیں‘‘ اور ابھی محرم ختم ہونے میں27روز باقی ہیں، اپنی بات پر ہی پہرہ دے لیں، دوسروں کی بے شک نہ مانیں!

اُن کا یہ کہنا کہ وہ وزیراعظم کو نہیں مانتے، اِس لئے شریک نہیں ہوں گے، تو کوئی پوچھے پیر کے روز، جب پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس، وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم کی صدارت میں ہوا اس میں تو تحریک انصاف کا اعلیٰ سطحی وفد شریک ہوا تھا۔۔۔ اس وقت وزیراعظم کو نہ ماننے والا اعلان کہاں رہ گیا تھا۔

منگل کے روز، وزیراعظم کے خلاف تلخ ترین تقریر کرنے والا وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی، وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بیٹھا ہوا تھا، تب کیا بات تھی؟ پارلیمینٹ تو بہرحال مُلک کا سب سے مقتدر آئینی ادارہ ہے، اس میں نہ جانے کا اعلان، آئین اور جمہوریت کے حوالے سے، نہایت حیران کن اور تعجب خیز ہے(یہ بات خان صاحب کے چند رفقاء نے بھی کی ہے) اگر آپ نے وزیراعظم اور سپیکر کو نہیں ماننا اور اُن کی وجہ سے پارلیمینٹ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرنی تو سیدھے سیدھے استعفیٰ دے دیں،(کم از کم آپ پر، بغیر حاضری تنخواہیں کھانے کا الزام تو نہ لگے)

عمران خان صاحب کو منانے کے لئے، اپوزیشن کی تمام پارٹیوں(جن میں ان کی حلیف جماعت اسلامی بھی ہے) نے مطالبہ کیا اور رابطے بھی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے بھی کوشش کی کہ ’’مخالفانہ سیاست کے بہت مواقع ہیں، اس وقت سرحدوں کی صورتِ حال، کشمیر کے حالات اور بھارتی جارحیت کے خلاف قومی یکجہتی کے مظاہرے کی اشد ضرورت ہے‘‘ تمام تر کوششوں کے باوجود، خان صاحب ’’مَیں نہ مانوں‘‘ ہی کی تکرار کرتے چلے جا رہے ہیں، اُن کی ’’اَنا‘‘ نے اُن کو، قومی خواہشات اور ملکی ضروریات سے پرے کر دیا ہے۔ وہ کیا چاہتے ہیں، وہی جانتے ہیں، لیکن ان کی ’’انا‘‘ ان پر سوالات ضرور اٹھا رہی ہے۔

مزید : کالم